رفیع صاحب کی برسی پر ’رفیع کی یادیں‘ پروگرام نہ ہونے پر اکبر شولاپوری کو مایوسی

Updated: July 31, 2020, 10:50 AM IST | Abdul Kareem Qasam Ali | Mumbai

آج محمد رفیع صاحب کی ۴۰؍ویں برسی ہے اور اسی موقع پر ممبئی میں رہنے والے ان کے زبردست مداح اور عقیدت منداکبر شولاپوری گزشتہ ۳۹؍ برسوں سے ’اکبر شولا پوری ۔۔۔ رفیع کی یادیں ‘ نام سے میوزیکل پروگرام کرتے آئے ہیں لیکن امسال کورونا وائرس کی وجہ سے حکومت کے ذریعہ نافذ کردہ لاک ڈاؤن کے سبب یہ یادگار پروگرام نہیں ہوسکے گا اور اکبر شولاپوری اس کی وجہ سے مایوس ہیں لیکن انہوں نے اپنے انداز میں محمد رفیع صاحب کو یاد کرنے کا عزم بھی ظاہر کیا ہے۔

Akbar Sholapuri
اکبرشولاپوری ، رفیع صاحب کی تصویر کیساتھ

آج  محمد رفیع صاحب کی ۴۰؍ویں برسی ہے اور اسی موقع پر ممبئی میں رہنے والے ان کے زبردست مداح اور عقیدت منداکبر شولاپوری گزشتہ ۳۹؍ برسوں سے ’اکبر شولا پوری ۔۔۔ رفیع کی یادیں ‘ نام سے میوزیکل پروگرام کرتے آئے ہیں لیکن امسال کورونا وائرس کی وجہ سے حکومت کے ذریعہ نافذ کردہ لاک ڈاؤن کے سبب یہ یادگار پروگرام نہیں ہوسکے گا اور اکبر شولاپوری اس کی وجہ سے مایوس ہیں لیکن انہوں نے اپنے انداز میں محمد رفیع صاحب کو یاد کرنے کا عزم بھی ظاہر کیا ہے۔ 
 نمائندہ انقلاب نے جب ان سے پروگرام نہیں ہونے پران کے تاثرات جاننے کی کوشش کی تو اکبر شولاپوری نےبتایا ’’میں تو پروگرام کرنا چاہتاہوں اور اس کی تیاری بھی شروع کردی تھی۔ہرسال  میں رفیع صاحب کی برسی سے ۴؍ماہ قبل پروگرام کی تیاری کرتا ہوں اور میں نے تو ہال کی بُکنگ بھی تقریباً کرلی تھی لیکن جیسے ہی لاک ڈاؤن کا اعلان ہوا میں نے اپنے ارادے ترک کردئیے۔‘‘پروگرام کے منسوخ ہونے پررفیع صاحب کے مداحوں کا کیا ردعمل ہے ،اس سوال پر انہوں نے کہا ’’وہ بھی میری طرح مایوس ہوگئے ہیں۔ مجھے مہاراشٹر اورملک کی دیگر ریاستوں سے سیکڑوں کال آرہے ہیںاور سب یہی پوچھ رہے ہیں کہ اکبربھائی امسال شو کیوں نہیں ہورہا ہے۔ میں سبھی سے لاک ڈاؤن کی وضاحت کررہاہوں۔ایسا لگتاہے کہ مجھ سے زیادہ وہ مایوس ہوئے ہیں۔ ‘‘
 اکبر شولاپوری رفیع صاحب کی برسی  کے موقع پر ۱۹۸۱ء سےپروگرام کرتے آرہے ہیں ۔ شروعات میں ان کے پروگرام میں افراد کی تعداد کم تھی لیکن جیسے جیسے ان کی شہرت ہوئی دیکھنے والوں کی تعداد ہزاروں  میں پہنچ گئی ہے۔نمائندہ انقلاب نے سوال کیا کہ امسال رفیع صاحب کو آپ کس طرح خراج عقیدت پیش کریں  گے تو اکبر شولاپوری نے بتایا’’میں ہر سال گھرمیں کھیر بناکر اور فاتح خوانی کرواکر اسے بچوں میں تقسیم کرتا ہوں۔ اس کے بعدمیں سانتاکروز قبرستان جاکر رفیع صاحب کی مزار کی زیارت کرتا ہوں اور وہا ں بھی فاتحہ پڑھ کر گھرلوٹتا ہوں۔ لاک ڈاؤن میں ایسا ہی کرنے والا ہوں۔ ‘‘
 اکبر شولاپوری نے عزم ظاہر کیا کہ وہ ۲۴؍ دسمبر کورفیع صاحب  کے یوم پیدائش  پر زبردست پروگرام کا انعقاد کریں گے۔اس میں  بڑے گلوکاروں کو مدعو کریں گے۔ انہوں نے کہا ’’فی الحال میرے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں لیکن میں ان کے یوم پیدائش پر ایک شاندار پروگرام کے انعقاد کا وعدہ کرتاہوں۔ ‘‘
 اکبرشولاپوری کیلئے محمد رفیع ان کے والدکی حیثیت رکھتے ہیں اور آج اکبر صاحب ۶۷؍ برس کے ہو چکے ہیں اور انہیں اسی عقیدت سے یادکرتے ہیں۔ انہوں نے ایک جذباتی واقعہ سناتے ہوئے کہا’’یہ ۲۰۰۵ء کی بات ہے جب میں نے ۲؍لاکھ روپے کے عوض اپنا گھر گروی رکھ کر رفیع صاحب کی برسی پر پروگرام کا انعقاد کیا تھا۔ ۳؍مقامات ممبئی ، پونے اور شولاپور میں ہالس بھی بُک کردئیے تھے۔ ممبئی میں ۳۰؍جولائی کو بھائی داس ہال میں  پروگرام کا انعقاد کرنے والا تھا لیکن ۲۶؍جولائی ۲۰۰۵ء کو تیز بارش کی وجہ سے میرامنصوبہ پورا ہوتا ہوانظر نہیں آرہا تھا۔ ہال والوں نے پروگرام منسوخ کرنے کیلئے ضد کی لیکن میں پُرعزم تھا اور میں نے اُدیت نارائن سے اس تعلق سے بات چیت کی  اور وہ مشروط طورپر راضی ہوگئے۔ ‘‘اکبر شولاپوری یہ واقعہ سناتے ہوئے بہت جذباتی ہوگئے اور رونا شروع کردیا اور جب تھوڑا سنبھلے تو انہوں نے بتایا ’’یہ پروگرام اتنا کامیاب ہوا کہ میں بتانہیں سکتا۔ ایک ہزار افراد کی گنجائش والے ہال میں ۱۱؍سو افراد نے شرکت کی۔ پونے اور شولاپور میں بھی پروگرام کامیاب رہا۔محمد رفیع صاحب کی وجہ سے میرا گھر بھی محفوظ رہا۔ ‘‘ 
 رفیع صاحب کے گائےہوئے اپنے پسندیدہ گیتوں کے بارے میں انہو ںنے بتایا ’’سہانی رات ڈھل چکی۔۔۔‘‘،’’کیا ہوا تیرا وعدہ۔۔۔‘‘،’’او دنیا کے رکھ والے۔۔۔‘‘ اور دیگر کلاسیکل گیتوں کومیں بہت پسندکرتاہوں۔میں کبھی گاتا نہیں ہوں۔ میرے شو میں محمدعزیز، انور، اُدیت نارائن  اور سونو نگم گاچکے ہیں جبکہ نوشاد علی، دلیپ کمار، اُوشا منگیشکر ، ونود مہرہ، جتیندر، رضامراد اور شاہ رخ خان جیسی معروف شخصیات  نے شرکت کی ہے۔ 
 اکبر شولاپوری نے دُبئی ، مسقط، جدہ، نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا میں اپنے شوز کئے ہیں۔ انہوں نے ۱۹۷۳ء میں رفیع صاحب سے ملاقات کی تھی۔ اس وقت وہ شولاپور سے نئے نئے ممبئی آئے تھے اور کلیان جی کے آرکیسٹرا میں کمپیئرنگ کیا کرتے تھے۔ کلیان جی کے مشورے پر انہوں نے رفیع صاحب کا پتہ تلاش کر کےان سے ملاقات کی ۔ اس ملاقات کے بارے میں اکبر شولاپوری نے بتایا’’رفیع صاحب سے میں نے کہا تھا کہ مجھے اُردو اچھی آتی ہے اگر کچھ موقع ملے تو ۔۔۔، اس پر رفیع صاحب نے کہاتھا کہ میرے پاس چند افراد پہلے ہی سے ہیں۔ اس لئے آپ کوشش کرتے رہئے اللہ سب آسان کردے گا۔ رفیع صاحب کے ان الفاظ نے میری اتنی حوصلہ افزائی کی کہ میں آج ان کی بدولت ہی کامیاب ہوسکا ہوں۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK