Updated: May 21, 2026, 9:04 PM IST
| Mumbai
اداکارہ سعدیہ خطیب نے اکشے کمار اور جان ابراہم جیسے سپر اسٹارز کے ساتھ کام کرنے کے تجربے پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے ان سے عاجزی، محنت اور پیشہ ورانہ لگن سیکھی۔ سعدیہ کے مطابق اکشے کمار نے انہیں مشورہ دیا کہ مسلسل کام کرتے رہو، چاہے شروعات چھوٹی ہو، کامیابی خود مل جائے گی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ اتنے بڑے اسٹار ہونے کے باوجود اکشے سیٹ پر ایک نئے اداکار کی طرح برتاؤ کرتے ہیں۔
اکشے کمار اور سعدیہ خطیب ۔ تصویر: انسٹاگرام
اداکارہ سعدیہ خطیب نے حالیہ گفتگو میں بالی ووڈ کے بڑے ستاروں اکشے کمار اور جان ابراہم کے ساتھ کام کرنے کے اپنے تجربات پر کھل کر بات کی ہے۔ ’’رکشا بندھن‘‘ میں اکشے کمار اور ’’دی ڈپلومیٹ‘‘ میں جان ابراہم کے ساتھ کام کرنے والی سعدیہ نے کہا کہ انہوں نے ان اداکاروں سے صرف اداکاری ہی نہیں بلکہ پیشہ ورانہ رویہ، عاجزی اور مسلسل محنت کا جذبہ بھی سیکھا۔ ہندوستان ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں سعدیہ خطیب نے کہا، ’’میں نے سیکھا ہے کہ آپ ملک کے سب سے بڑے اسٹار ہوسکتے ہیں اور پھر بھی انتہائی عاجز اور زمین سے جڑے رہ سکتے ہیں۔‘‘ انہوں نے خاص طور پر اکشے کمار کی تعریف کرتے ہوئے بتایا کہ وہ سیٹ پر ایک نئے اداکار جیسا رویہ رکھتے ہیں۔ سعدیہ نے اکشے کمار کے ایک مشورے کا ذکر کرتے ہوئے کہا، ’’انہوں نے مجھ سے کہا تھا: بس کام کرتے رہو، اگر چھوٹی شروعات بھی کرنی پڑے تو کرو، لیکن کام مت چھوڑو، ایک دن تم بڑی جگہوں تک پہنچ جاؤ گی۔‘‘
یہ بھی پڑھئے : آیوشمان کھرانہ کی فلم کی کمائی میں گراوٹ،جنوبی ہند کے آگے پھیکی پڑی بالی ووڈ کی کامیڈی فلم
اداکارہ کے مطابق اکشے کمار کی سب سے متاثر کن بات ان کی ورک ایتھک ہے۔ سعدیہ نے کہا کہ ’’اتنے بڑے اسٹار ہونے کے باوجود وہ سیٹ پر ایک نئے آنے والے کی طرح برتاؤ کرتے ہیں۔ وہ ڈائریکٹر کا انتظار کرتے ہیں، بار بار ٹیک دیتے ہیں، اور صرف اپنے حصے کی شوٹنگ ختم ہوتے ہی وینٹی وین میں نہیں چلے جاتے بلکہ سادہ ری ایکشن شاٹس کے لیے بھی وہیں موجود رہتے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اس تجربے سے انہیں احساس ہوا کہ ایک اداکار کو اپنے ابتدائی دنوں والا جذبہ کبھی نہیں کھونا چاہیے۔ اپنی نئی فلم ’’دادی کی شادی‘‘ کے بارے میں بات کرتے ہوئے سعدیہ نے اسے اپنے کریئر کے سب سے خوشگوار فلمی تجربات میں سے ایک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ فلم کی شوٹنگ کے دوران پورا ماحول انتہائی دوستانہ اور خوشگوار تھا۔
یہ بھی پڑھئے : انجنا سُکھانی فلم ’’میں واپس آؤں گا‘‘ میں نظر آئیں گی
انہوں نے کہا کہ ’’ہم سب ایک ساتھ کھانا کھاتے تھے، ساری رات شوٹنگ کرتے تھے، محنت بھی کرتے تھے لیکن ساتھ ہی ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے ہم سب کسی چھٹی پر آئے ہوں۔‘‘ سعدیہ خطیب نے انکشاف کیا کہ انہوں نے ’’دادی کی شادی‘‘ اس لیے سائن کی کیونکہ وہ ’’دی ڈپلومیٹ‘‘ جیسی سنجیدہ اور جذباتی فلم کے بعد کچھ ہلکا پھلکا کام کرنا چاہتی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’دی ڈپلومیٹ‘‘ کی شوٹنگ کے بعد مجھے احساس ہوا کہ میں اندر سے بہت خاموش اور تھکی ہوئی ہو گئی ہوں۔ میں زیادہ سوتی تھی، کم باہر نکلتی تھی، اور میرے والدین نے بھی میرے رویے میں تبدیلی محسوس کی۔‘‘ اداکارہ نے بتایا کہ فلم کے آخری شیڈول میں ٹارچر اور تشدد کے مناظر کی شوٹنگ نے ان پر گہرا نفسیاتی اثر چھوڑا تھا۔ سعدیہ نے کہا کہ’’آپ کئی دنوں تک وہی مناظر اپنے ذہن میں دہراتے رہتے ہیں۔ جب آپ ۲۰؍ یا ۳۰؍ دن کسی کردار کے طور پر جیتے ہیں تو وہ جذبات لاشعوری طور پر آپ کے ساتھ رہ جاتے ہیں۔‘‘
سعدیہ کے مطابق ’’دادی کی شادی‘‘ ان کے لیے ایک طرح کا جذباتی سکون ثابت ہوئی۔ اس فلم کے دوران میں مسلسل ہنس رہی تھی، مسکرا رہی تھی اور خوش تھی۔ مجھے احساس ہوا کہ ایک اداکار اور انسان دونوں کے طور پر میرے ذہنی سکون کے لیے اس قسم کی فلمیں ضروری ہیں۔‘‘ سعدیہ خطیب کے بیانات نے ایک بار پھر اس بحث کو زندہ کر دیا ہے کہ فلمی دنیا میں بڑے ستاروں کی کامیابی صرف شہرت سے نہیں بلکہ ان کے رویے، محنت اور سیٹ پر برتاؤ سے بھی جڑی ہوتی ہے۔ اکشے کمار جیسے سینئر اداکاروں کی پیشہ ورانہ عادات نوجوان اداکاروں کے لیے آج بھی ایک مثال سمجھی جاتی ہیں۔