امریکہ نے فلسطینی وفد کے اراکین کے ویزے منسوخ کرنے کی دھمکی دی ہے جب تک کہ فلسطینی سفیر ریاض منصور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے نائب صدر کے لیے اپنی نامزدگی واپس نہیں لے لیتے۔
EPAPER
Updated: May 21, 2026, 8:04 PM IST | Washington
امریکہ نے فلسطینی وفد کے اراکین کے ویزے منسوخ کرنے کی دھمکی دی ہے جب تک کہ فلسطینی سفیر ریاض منصور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے نائب صدر کے لیے اپنی نامزدگی واپس نہیں لے لیتے۔
این پی آر کے مطابق، محکمہ خارجہ کی ایک افسر نے امریکی سفارت کاروں کو ہدایت دی کہ وہ فلسطینی عہدیداروں پر دباؤ ڈالیں کہ وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں نائب صدر کے لیے اپنے مندوب کی نامزدگی واپس لیں، ورنہ انہیں ممکنہ نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔بدھ کو آنے والی ایک رپورٹ کے مطابق، امریکہ نے فلسطینی وفد کے اراکین کے ویزے منسوخ کرنے کی دھمکی دی ہے جب تک کہ فلسطینی سفیر ریاض منصور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے نائب صدر کے لیے اپنی نامزدگی واپس نہیں لے لیتے۔
رپورٹ کے مطابق، پیغام میں منصور کو’’ اسرائیل پر نسل کشی کا الزام لگانے کی تاریخ رکھنے والا‘‘ قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ ان کی نامزدگی ’’تناؤ میں اضافہ کا سبب ہوگی‘‘ اور غزہ کے لیے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ’’امن‘‘ منصوبے کو نقصان پہنچائے گی۔ پیغام میں مبینہ طور پر کہا گیا، منصور کے لیے ایک طاقتور پلیٹ فارم فلسطینیوں کی زندگیاں بہتر نہیں کرے گا اور فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ امریکی تعلقات کو شدید نقصان پہنچائے گا۔ کانگریس اسے انتہائی سنجیدگی سے لے گی۔‘‘بعد ازاں محکمہ خارجہ کے ترجمان نے ’’ویزا ریکارڈ کی رازداری‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ترجمان نے کہا، ’’ہم اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے لیتے ہیں۔‘‘
واضح رہے کہ گزشتہ سال، ٹرمپ انتظامیہ نے فلسطینی عہدیداروں کے ویزے منسوخ کر دیے تھے، جس سے وہ ستمبر میں نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کرنے سے محروم ہو گئے تھے۔یہ اقدام اس وقت سامنے آیا تھا جب متعدد مغربی ممالک جنرل اسمبلی میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے اپنے ارادے کا اعلان کرنے کی تیاری کر رہے تھے۔