Updated: May 21, 2026, 10:06 PM IST
| Ottawa
اسرائیل بین الاقوامی قانون کی ’’بدھ کو اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل کے اجلاس میں فلسطینی ڈپٹی سفیر ماجد بامیہ نے کہا کہ اسرائیل کے اقدامات بین الاقوامی قانون کی ’’توہین‘‘ کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ انہوں نے اسرائیل پر فلسطینی شہریوں کو جان بوجھ کر اہداف بنانے کا الزام بھی لگایا۔ بامیہ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یا تو ہم یہ اعلان کر دیں کہ فلسطینی دوسرے درجے کے شہری ہیں یا تو یہ اعلان کر دیں کہ اسرائیل پر قانون عائد نہیں ہوتے۔ اجلاس میں شام کے سفیر نے بھی اپنے ملک کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کا تحفظ محض ایک نعرہ نہیں بلکہ شام کے مردوں اور خواتین کی یاد میں ایک کھلا زخم ہے۔
فلسطینی ڈپٹی سفیر ماجد بامیہ۔ تصویر: ایکس
اقوام متحدہ میں فلسطینی ڈپٹی سفیر ماجد بامیہ نے بدھ کو اسرائیلی اقدامات کو عام شہریوں کیلئے انسانی تحفظات کے وسیع تر خاتمے کے طور پر بیان کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے اقدامات بین الاقوامی قانون کی ’’توہین‘‘ کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ماجد بامیہ نے مسلح تصادم میں شہریوں کے تحفظ کے بارے میں سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران کہا کہ ’’بین الاقوامی انسانی قانون کی عمارت ایک واحد اصول کے گرد تعمیر کی گئی ہے، وہ اصول جو ان لوگوں کی حفاظت کرتا ہے جو جارحانہ کار روائیوں میں حصہ نہیں لیتے یا ایسی کار روائیوں میں حصہ نہ لینے کا عہد کر چکے ہیں۔‘‘
بامیہ نے کہا کہ فلسطینی صرف جنگ میں ہلاک نہیں ہوئے بلکہ جان بوجھ کر اہداف کا نشانہ بنائے گئے۔ انہوں نے اسرائیل پر غزہ میں شہریوں، انسانی ہمدردی کے کارکنوں، صحافیوں اور طبی عملے پر منظم طریقے سے حملہ کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا ’’اسرائیل فلسطینیوں کی زندگی پر حملہ کر رہا ہے۔ یہ ان لوگوں پر بھی حملہ کر رہا ہے جو اسے بچانے اور اسے محفوظ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو اسے برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو اس کی بقا کیلئے جد و جہد کر رہے ہیں اور جو اسے ریکارڈ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: غزہ فلوٹیلا کارکنوں کی تذلیل پر عالمی غصہ، اسرائیل کے خلاف سخت ردعمل
انہوں نے تباہی کے پیمانے کو واضح کرنے کیلئے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’اس جنگ کے چار ماہ کے عرصے میں، دنیا بھر میں پچھلے چار سالوں سے زیادہ بچے مارے گئے۔‘‘ بامیہ نے یہ بھی کہا کہ گزشتہ تین سالوں میں عالمی سطح پر ہلاک ہونے والے انسانی حقوق کے کارکنوں میں سے نصف سے زیادہ فلسطین میں ہلاک ہوئے، جب کہ ۲۰۲۴ء اور ۲۰۲۵ء میں ہلاک ہونے والے دو تہائی صحافی بھی وہیں مارے گئے۔ انہوں نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کو ذمہ دار ٹھہرائے، جسے انہوں نے ناگزیر انتخاب قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یا تو ہم یہ اعلان کر دیں کہ فلسطینی دوسرے درجے کے شہری ہیں، کم تر انسان ایک جیسے تحفظ کے حقدار نہیں ہیں، یا ہم یہ اعلان کر دیں کہ قوانین اسرائیل پر لاگو نہیں ہوتے، اور یہ تسلیم کر لیں کہ فلسطین صفحۂ ہستی سے ختم ہو گیا اور بین الاقوامی قانون کا خاتمہ ہو گیا۔
یہ بھی پڑھئے: برطانیہ: ریڈیو کی غلطی، شاہ چارلس سوم کی موت کا اعلان کیا، معافی نامہ جاری
اقوام متحدہ میں شام کے سفیر ابراہیم اولابی نے بھی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’شہریوں کا تحفظ محض نعرہ نہیں ہے بلکہ شام کے مردوں اور عورتوں کی یاد میں ایک کھلا زخم ہے۔‘‘ اولابی نے کہا کہ ’’شام کے لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ گھروں کا مصیبت میں بدل جانا، اسپتالوں کا نشانہ بننا، اور انسانوں کے بغیر کسی محفوظ پناہ گاہ کے شکار بننے کا کیا مطلب ہے۔‘‘انھوں نے مزید کہا کہ شام اب ’’اس یادداشت کو عزم میں بدلنے کیلئے پرعزم ہے۔‘‘