سروے میں شامل ۷۸ فیصد جین زی نوجوان، اے آئی کے اثرات کے بارے میں ”شدید فکرمند“ یا ”کسی حد تک فکرمند“ ہیں۔ نوجوانوں نے خاص طور پر روزگار کے مواقع میں ممکنہ تعطل کے حوالے سے اپنی تشویش کا اظہار کیا۔
EPAPER
Updated: March 31, 2026, 10:14 PM IST | Washington
سروے میں شامل ۷۸ فیصد جین زی نوجوان، اے آئی کے اثرات کے بارے میں ”شدید فکرمند“ یا ”کسی حد تک فکرمند“ ہیں۔ نوجوانوں نے خاص طور پر روزگار کے مواقع میں ممکنہ تعطل کے حوالے سے اپنی تشویش کا اظہار کیا۔
کنیکٹیکٹ، امریکہ میں واقع کوئنی پیاک یونیورسٹی (Quinnipiac University) کے حالیہ سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ بھلے ہی ملک میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا استعمال بڑے پیمانے پر ہو رہا ہے لیکن شہریوں کے درمیان، خاص طور پر نوجوانوں میں، اے آئی کے اثرات کے بارے میں خدشات کے بارے میں اضافہ ہوا ہے۔
سروے میں شامل ۷۸ فیصد جین زی نوجوان (جن کی پیدائش ۱۹۹۷ء سے ۲۰۰۸ء کے درمیان ہوئی)، اے آئی کے اثرات کے بارے میں ”شدید فکرمند“ یا ”کسی حد تک فکرمند“ ہیں۔ نوجوانوں نے خاص طور پر روزگار کے مواقع میں ممکنہ تعطل کے حوالے سے اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ اے آئی کے تئیں تمام عمر کے گروپس میں تشویش کی شرح زیادہ ہے۔ سروے کے نتائج کے مطابق، ۸۰ فیصد شرکاء نے اس تعلق سے اپنی بے چینی کا اظہار کیا جبکہ صرف ۱۸ فیصد نے بہت کم یا بالکل تشویش نہ ہونے کی اطلاع دی۔
اس کے باوجود، اے آئی کو اپنانے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ کوئنی پیاک یونیورسٹی کے اسکول آف کمپیوٹنگ اینڈ انجینئرنگ کے ایسوسی ایٹ چیئرمین، چیتن جیسوال کے مطابق، ۵۱ فیصد شرکاء نے اعتراف کیا کہ وہ تحقیق کیلئے اے آئی کا استعمال کرتے ہیں، جبکہ دیگر تحریری کاموں اور ڈیٹا کے تجزیے کیلئے بھی اس پر انحصار کرتے ہیں۔ تاہم، اس ٹیکنالوجی پر اعتماد اب بھی محدود ہے۔ صرف ۲۱ فیصد شرکاء کا کہنا ہے کہ وہ زیادہ تر وقت یا ہر وقت اے آئی سے حاصل کردہ معلومات پر بھروسہ کرتے ہیں۔
امریکہ کی اے آئی پالیسی
اس سروے کے نتائج ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکہ میں اے آئی ریگولیشن کے موضوع پر وسیع بحث شروع ہے۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے حال ہی میں پالیسی فریم ورک متعارف کرایا ہے جس کا مقصد ملک کی اے آئی حکمتِ عملی کو تشکیل دینا ہے۔ یہ تجویز کم سے کم ریگولیشن کی حمایت کرتی ہے اور مشورہ دیتی ہے کہ انفرادی ریاستوں کو اپنے قوانین نافذ نہیں کرنے چاہئیں، کیونکہ اے آئی کی ترقی کے قومی اور بین الاقوامی اثرات ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: اے آئی کے اثرات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے : رگھورام راجن
اس فریم ورک پر وکالتی گروپس اور پالیسی ماہرین کی جانب سے سخت تنقید کی جارہی ہے۔ ’فیوچر آف لائف انسٹی ٹیوٹ‘ کے مائیکل کلین مین نے کہا کہ ریاستیں اکثر ملازمتوں، بچوں کی حفاظت اور سماج سے متعلق خطرات کو پہچاننے والی پہلی اکائی ہوتی ہیں۔ انہوں نے اے آئی ٹیکنالوجیز کے تیزی سے پھیلاؤ کے خدشات پر زور دیتے ہوئے ریاستی سطح کی ریگولیشن کو محدود کرنے کی تاثیر پر سوال اٹھایا۔
یہ پالیسی بچوں کے آن لائن تحفظ کی ضرورت پر بھی زور دیتی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ پلیٹ فارمز کو اس سلسلے میں حفاظتی اقدامات نافذ کرنے چاہئیں اور ڈجیٹل ماحول پر والدین کے کنٹرول کی اجازت دینی چاہئے۔