• Wed, 18 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

امبالہ:ہریانہ میں واقع تاریخی اہمیت کا حامل خوبصورت شہر

Updated: February 18, 2026, 9:11 AM IST | Mohammed Habeeb | Ambala

یہاں کئی پرانے محل اور تاریخی مقامات کے علاوہ جھیلیں اور خوبصور پارک بھی بنائے گئے ہیںجو بڑی تعداد میں سیاحوں کو اپنی جانب راغب کرتے ہیں۔

The Picture Shows The Fort Of Shahzadpur.Photo:INN
تصویر میں شہزادپور کا قلعہ دیکھا جاسکتاہے- تصویر:آئی این این
امبالہ ہریانہ صوبے کا ایک اہم شہر ہے جو پنجاب کی سرحد سے ملحق ہے اور اپنی قدیم تاریخ، سائنسی آلات کی صنعت اور فوجی اہمیت کی وجہ سےمشہور ہے۔ یہ شہر ندی کے قریب واقع ہے اور چنڈی گڑھ سےتقریباً۴۰؍کلومیٹر دور چھترپتی شیواجی مہاراج انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے۵۵؍کلومیٹر کی دوری پر ہے۔ امبالہ کو ’سائنس کا شہر‘ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہاں ملک کے ۴۰؍فیصد سائنسی آلات تیار ہوتےہیں، اور یہ زرعی پیداوار، کپاس، گنا اور صنعتی مرکز کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔
تاریخی اہمیت
امبالہ کا ذکر قدیم ہڑپا تہذیب سےملتا ہے، جہاں پتھر کے آلات اورباقیات ملی ہیں جو اس علاقے کی قدیم رہائش کی نشاندہی کرتے ہیں۔مانا جاتا ہے کہ ۱۴؍ویں صدی میں امبا راجپوت نے یہاں آبادکاری کی بنیاد رکھی۔موریا سلطنت (اشوک کے دور) میں توپرا کا ستون اور ستوپ اس علاقے کی اہمیت بتاتے ہیں۔مغل دور میں محمد غوری اور پٹھانوں نے یہاں حملے کیے، جبکہ پر تھویراج چوہان کی شکست (۱۱۹۲ء)کے بعد مسلم حکمرانی قائم ہوئی۔برطانوی دور میں ۱۸۴۳ءمیں امبالہ کنٹونمنٹ بنایا گیا، اور۱۸۴۷ءمیں اسے الگ ضلع کا درجہ ملا۔ آزادی کے بعد ۱۹۶۶ءمیں ہریانہ کا حصہ بنا۔
نیتا جی سبھاش پارک
یہ پارک امبالہ کا سب سے بڑا پارک سمجھا جاتاہے۔ اس کی خوبصورتی ایسی ہے کہ بآسانی قومی سطح کے کسی بھی بڑے پارک سے مقابلہ کر سکتاہے۔ یہاں دو ریستوران،ایک دلکش جھیل، کشادہ سبزہ زار،۶؍ بڑے کھیل کے میدان، فوارے، بچوںکےجھولے اور آرام کے لیے گھاس کےنرم قطعات اور سایہ دار درخت موجود ہیں۔اگر آپ اپنے بچوں، اہلِ خانہ یا دوستوں کے ساتھ معیاری وقت گزارنا چاہتے ہیں یا پکنک منانے کا ارادہ رکھتے ہیں تو یہ مقام نہایت موزوں ہے۔یہاں موجود میدانوں میں فٹبال، کرکٹ اور دیگر کھیلوں کی مشق کی جا سکتی ہے۔ ویڈیو ریلز بنانے اور فوٹوگرافی کے شوقین افراد کے لیے بھی یہ جگہ خاص کشش رکھتی ہے۔
جھیل میں کشتی رانی کی سہولت دستیاب ہے، جبکہ اسکیٹنگ کے لیے باقاعدہ ٹریک بھی بنایا گیا ہے۔ یہ پارک امبالہ کینٹ ریلوے اسٹیشن سے پیدل فاصلے پر واقع ہے۔ لہٰذا جب بھی امبالہ آئیں، اس پارک کی سیر ضرور کریں۔
 
 
شہزاد پور قلعہ
یہ قلعہ ضلع امبالہ کے شہر شہزاد پور میں واقع قدیم ترین عمارتوں میںشمارہوتاہے۔ اس نے کئی سکھ حکمرانوں کے ادوار دیکھے ہیں۔ سردارکرم سنگھ یہاں کے پہلے حکمران بنے اور تقریباً۲۰؍برس تک حکومت کرتےرہے۔ اگرچہ وہ خود یہاں زیادہ عرصہ مقیم نہ رہے، ان کی عدم موجودگی میں گربخش سنگھ نے ان کی زیرِ نگرانی انتظام سنبھالا۔
۱۸۰۹ء میں انگریزوں سے معاہدے کے بعد یہ جاگیر ان کے قبضے میں چلی گئی۔ تاریخ سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے یہ قلعہ نہایت اہم ہے۔ یہ امبالہ کینٹ سے تقریباً ۵۰؍ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور سڑک کے ذریعے آسانی سے پہنچا جا سکتا ہے۔ یہ صبح آٹھ بجے سے شام چھ بجے تک کھلا رہتا ہے، اور آپ اپنے اہلِ خانہ یا دوستوں کے ساتھ یہاں کا دورہ کر سکتے ہیں۔
 
 
سی بی اے جھیل
یہ جھیل امبالہ کینٹونمنٹ بورڈ کی جانب سے سیوریج کے پانی کو جمع کرنے اور اس کی صفائی کے لیے تعمیر کی گئی۔ قریب ہی واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ بھی قائم ہے، مگر جھیل کو اس انداز سے ترتیب دیا گیا ہے کہ یہ ایک قدرتی اور دلکش منظر پیش کرتی ہے۔ اس کے اطراف خوبصورت پارک تعمیر کیے گئے ہیں۔اگر آپ فطرت سے محبت رکھتے ہیں اور تازہ ہوا کی تلاش میں ہیں تو یہ جگہ بہترین انتخاب ہے۔ یہاں کشتی رانی، صبح و شام کی سیر اور پارک میں بیٹھ کر سکون حاصل کرنےکا لطف اٹھایا جا سکتا ہے۔ کینٹ ایریا میں واقع یہ مقام صبح اور شام کے اوقات میں خاصا پررونق رہتا ہے۔
رانی کا تالاب
رانی کا تالاب تقریباً ۴۰۰؍سال قدیم تاریخی اور دیدنی مقام ہے، جو امبالہ کینٹ میں واقع ہے اور فوج کے زیرِ انتظام ہے۔ اسے چھچھروُلی کے معروف راجہ رنجیت سنگھ نے تعمیر کروایا تھا۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK