Updated: February 18, 2026, 8:04 PM IST
| New Delhi
این بی ڈی ایس اے نے مشاہدہ کیا کہ براڈکاسٹر خود تسلیم کرچکا ہے کہ مواد سوشل میڈیا سے لیا گیا تھا اور نشریات سے قبل اس کی تصدیق نہیں کی گئی تھی۔ اتھارٹی نے فیصلہ سنایا کہ غیر تصدیق شدہ مواد نشر کرنا سنگین کوتاہی ہے اور ایسا کرنا ضابطہ اخلاق کے تحت ”درستگی“ کے اصول کی خلاف ورزی ہے۔
نیوز براڈکاسٹنگ اینڈ ڈجیٹل اسٹینڈرڈز اتھارٹی (این بی ڈی ایس اے) نے غیر تصدیق شدہ ویڈیو نشر کرنے پر زی نیوز پر ایک لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے۔ نیوز چینل نے غیر تصدیق شدہ دعوؤں کی بنیاد پر جموں-سری نگر نیشنل ہائی وے پر ٹریفک جام کی وجہ ایک ٹرک ڈرائیور کے نماز پڑھنے کو قرار دیا تھا۔ ۳ اور ۴ مارچ ۲۰۲۵ء کو نشر ہونے والے پروگرام ”ٹرک پر نماز...جموں میں نیا بوال شروع!“ کے خلاف شکایات کے جواب میں جسٹس اے کے سیکری (ریٹائرڈ) کی سربراہی میں این بی ڈی ایس اے نے ۱۷ فروری ۲۰۲۶ء کو اپنے فیصلے میں نیوز چینل پر ایک لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا اور براڈکاسٹرز اور ڈجیٹل نیوز پبلشرز کے لئے سوشل میڈیا مواد کے استعمال سے متعلق نئی گائیڈ لائنز بھی جاری کیں۔
شکایت کنندگان نے الزام لگایا تھا کہ زی نیوز نے ایک وائرل کلپ نشر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مسلمان ٹرک ڈرائیور نے نماز پڑھنے کے لئے ہائی وے کے درمیان میں اپنی گاڑی روک دی، جس سے ٹریفک بری طرح متاثر ہوا۔ تاہم، بعد میں حقائق کی جانچ اور سرکاری ایڈوائزری سے معلوم ہوا کہ ہائی وے پہلے ہی خراب موسم اور زمین کھسکنے کے واقعہ کی وجہ سے متاثر تھا۔ شکایت کنندگان نے دلیل دی کہ نیوز چینل کی متنازع نشریات نے معمول کی رکاوٹ کو فرقہ وارانہ رنگ دیا اور سوشل میڈیا کی وائرل غیر تصدیق شدہ ویڈیو کو ٹریفک جام کی وجہ بنا کر پیش کر کے غلط معلومات کو فروغ دیا۔ اپنے دفاع میں زی نیوز نے کہا کہ اس نے نشریات کے دوران واضح طور پر ذکر کیا تھا کہ یہ ویڈیو وائرل اور غیر تصدیق شدہ ہے۔ چینل نے مزید کہا کہ جعلی پائے جانے پر مذکورہ کلپ کو بعد میں حذف کر دیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: عدالت عظمیٰ کی سیاستدانوں کو بھائی چارہ بڑھانے کی تلقین
این بی ڈی ایس اے کے مشاہدات
اتھارٹی نے مشاہدہ کیا کہ براڈکاسٹر نے خود تسلیم کیا ہے کہ مواد سوشل میڈیا سے لیا گیا تھا اور نشریات سے قبل اس کی تصدیق نہیں کی گئی تھی۔ اتھارٹی نے فیصلہ سنایا کہ غیر تصدیق شدہ مواد نشر کرنا سنگین کوتاہی ہے اور ایسا کرنا ضابطہ اخلاق کے تحت ”درستگی“ کے اصول کی خلاف ورزی ہے۔ این بی ڈی ایس اے نے ویڈیو کو بعد میں حذف کر دیئے جانے کو مدِ نظر رکھتے ہوئے صرف ایک لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا، تاہم اتھارٹی نے نوٹ کیا کہ اس معاملے میں اس سے بھی بھاری جرمانہ عائد کیا جا سکتا تھا۔
سوشل میڈیا مواد پر نئی گائیڈ لائنز
سوشل میڈیا کے وائرل مواد پر بڑھتے ہوئے انحصار اور جعلی خبروں اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کردہ ڈیپ فیکس جیسے خطرات کے پیشِ نظر، این بی ڈی ایس اے نے براڈکاسٹرز اور ڈجیٹل نیوز پبلشرز کیلئے تفصیلی گائیڈ لائنز جاری کی ہے۔ ان میں نشریات سے قبل لازمی تصدیق، قابلِ اعتماد ذرائع سے تائید، چھیڑ چھاڑ یا اے آئی کی مداخلت کی جانچ اور فرقہ وارانہ تشدد یا عوامی بدامنی جیسے حساس معاملات میں دعوؤں کی سخت جانچ پڑتال شامل ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’اے آئی کانفرنس‘ میں ڈیپ فیک اور مصنوعی ذہانت کے بڑھتے استعمال پر ماہرین کااظہار تشویش
اتھارٹی نے واضح کیا کہ مواد کو ”وائرل“ یا ”غیر تصدیق شدہ“ بتانے والے ڈسکلیمرز (وضاحتیں) براڈکاسٹرز کو ذمہ داری سے مبرا نہیں کرتے۔ این بی ڈی ایس اے نے اس حکم نامے کو ’نیوز براڈکاسٹرز اینڈ ڈجیٹل ایسوسی ایشن‘ کے اراکین میں تقسیم کرنے اور اسے اپنی سالانہ رپورٹ میں شائع کرنے کی ہدایت دی ہے۔