Updated: February 18, 2026, 8:04 PM IST
| Mexico City
میکسیکو نے فلسطین کے حق میں موقفٹرمپ کے ’’بورڈ آف پیس ‘‘ کی مکمل رکنیت سے انکار کردیا ہے، میکسیکو کی صدرکلاڈیا شینبام نے کہا کہ ہم فلسطین کو ایک آزاد ریاست تسلیم کرتے ہیں، جبکہ اس بورڈ میں فلسطینی نمائندگی نہیں ہے، اسرائیل کی طرح فلسطین کی نمائندگی بھی خاطر خواہ ہونا چاہئے۔
میکسیکو کی صدر کلاڈیا شینبام۔ تصویر: ایکس
میکسیکو کی صدر کلاڈیا شینبام نے منگل کو کہا کہ ان کا ملک غزہ میں جنگ بندی کے منصوبے کی نگرانی کے لیے امریکہ کی قیادت میں بننے والے گروپ (بورڈ آف پیس) کی مکمل رکنیتحاصل نہیں کرے گا۔ انہوں نے اس کی وجہ بورڈ میں فلسطین کی نمائندگی نہ ہونا قرار دیا۔صدر شینبام نے پریس کانفرنس میں کہا، ’’چونکہ ہم فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ دونوں ریاستیں، اسرائیل اور فلسطین، اس میں شامل ہوں۔ جبکہ یہ اس طرح ترتیب نہیں دیا گیا ہے۔‘‘تاہم انہوں نے بتایا کہ میکسیکو اقوام متحدہ میں اپنے سفیر کو بطور مبصر بھیجے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں مبصر کی حیثیت سے شرکت کی دعوت دی گئی تھی، اور وزیر خارجہ سے مشاورت کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ اقوام متحدہ میں میکسیکو کی سفیر بطور مبصر شرکت کریں گی۔
واضح رہے کہ صدر شینبام کا یہ بیان جمعرات کو واشنگٹن ڈی سی میں بورڈ کے افتتاحی اجلاس سے قبل آیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران -امریکہ مذاکرات کا دوسرا دو ربھی اختتام کوپہنچا
علاوہ ازیں وہ فلسطین کی حمایت کرتی رہی ہیں اور غزہ پر اسرائیل کے حملوں کو نسل کشی قرار دے چکی ہیں، ساتھ ہی انہوں نے اس تنازع کے دو ریاستی حل پر بھی زور دیا ہے۔ یاد رہے کہ ۷؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء سے جاری اسرائیلی جارحیت کے دوران امریکہ اسرائیل کو کم از کم۲۱؍ اعشاریہ ۷؍ارب ڈالر کی فوجی امداد دے چکا ہے، جس میں اسرائیل کی کارروائیوں میں سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ اس کے باوجود امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ سے علاحدہ علاقائی امن کی بحالی کے لیے امریکہ کی قیادت میں’’بورڈ آف پیس‘‘کے قیام کا اعلان کیا تھا، جس میں یورپ، مشرق وسطیٰ، مشرقی ایشیا اور لاطینی امریکہ کے حامی ممالک شامل ہیں۔