امریش پوری کی فلم میں موجودگی عوام کو سنیما ہال تک کھینچ لاتی تھی

Updated: January 13, 2020, 5:48 PM IST | Mumbai

بحیثیت ویلن فلم انڈسٹری میں امریش پوری نے جومقام حاصل کیا،وہ ان کی بہترین اداکاری اور سخت محنت کا نتیجہ تھا۔پردۂ سیمیں کے وہ واحد ویلن تھےجن کےانتقال پر روزناموں نے صفحۂ اول پر خبر چھاپی اوراداریئے لکھے ۔اسٹیج سےاپنی اداکاری کا سفر شروع کرنے والے امریش پوری نے اپنی ایسی امیج بنائی کہ فلم میں ان کی موجودگی ناظرین کو سنیماہال تک کھینچ لے جاتی تھی۔

امریش پوری۔ تصویر: مڈڈے
امریش پوری۔ تصویر: مڈڈے

 ممبئی(ایجنسی): بحیثیت ویلن فلم انڈسٹری میں امریش پوری نے جومقام حاصل کیا،وہ ان کی بہترین اداکاری اور سخت محنت کا نتیجہ تھا۔پردۂ سیمیں کے وہ واحد ویلن تھےجن کےانتقال پر روزناموں نے صفحۂ اول پر خبر چھاپی اوراداریئے لکھے ۔اسٹیج سےاپنی اداکاری کا سفر شروع کرنے والے امریش پوری نے اپنی ایسی امیج بنائی کہ فلم میں ان کی موجودگی ناظرین کو سنیماہال تک کھینچ لے جاتی تھی۔ بلندآواز،پرکشش شخصیت اور مکالموں کی بہترین انداز میں ادائیگی ،چہرے کی سختی اور آنکھوں کے خوف کے سبب وہ ایک عرصہ تک بالی ووڈ میں بطور کھلنائک بے تاج بادشاہ بنے رہے۔ان کا مشہور ڈائیلاگ ’’موگیمبو خوش ہوا…‘‘ آج بھی لوگوں کےذہن میں گونج رہا ہے۔ فلم انڈسٹری میں امریش پوری نے موگمیبو کے مشکل ترین کردار کو جس خوبی سے نبھایا،وہ ان کی بہترین اداکاری،بلند قامت، بھاری بھرکم شخصیت، پاٹ دار آواز کی دین تھا۔اگر دوسرے الفاظ میں یوں کہا جائےتوغلط نہ ہوگاکہ امریش پوری کے بغیر فلم مسٹر انڈیاکا تصور بھی نہیں کیاجاسکتا۔ان کے اندر فن کارانہ صلاحیتیں کوٹ کوٹ کربھری ہوئی تھیں۔جو رول بھی انہیں ملا،اپنی لاجواب اور بہترین اداکاری کے ذریعہ انہوں نے اسے امر بنادیا۔
 امریش پوری نے اپنے کیرئیرکا آغاز اسٹیج سے کیا۔کئی برسوں تک وہ اس سے جڑے رہے۔ اس کے بعد انہیں فلموں میں کام کرنے کا موقع ملا۔آہستہ آہستہ انہوں نے اپنی فن کارانہ صلاحیتوں سے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ ابتدا میں مختصرسا رول اداکرنے والے اس شخص کے بارے میں کسی نے سوچا بھی نہیں ہوگا کہ وہ ایک دن شہرت کی بلندیوں کو چھولے گا اور ایک منجھے ہوئے اداکار کی شکل میں اپنی شناخت کرائے گا۔  انبالہ میں ۲۲؍ جون ۱۹۲۲ء کو پیداہوئے امریش پوری کیریکٹر آرٹسٹ چمن پوری اور ویلن مدن پوری کے سب سےچھوٹےبھائی تھے۔کالج کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے فلموں کا رخ کیا۔لیکن بطور ہیرو مسترد کردیئے جانےکے بعد وہ فطری طور پر بہت مایوس ہوئے۔بادل نخواستہ انہوں نے اپنی معاشی ضرورتوں کی تکمیل کیلئےوزارت محنت میں ملازمت اختیار کرلی۔لیکن ان کادل اداکاری کی طرف ہی اٹکا رہا۔آخر کار انہوں نے ایک دن ملازمت چھوڑدی اور اسٹیج اداکاری کی طرف متوجہ ہوگئے۔اسی دوران ان کی ملاقات ستیہ دیو دوبے سے ہوئی۔اس ملاقات نے امریش پوری کی دنیا ہی بدل دی۔ ستیہ دیو دوبے بہترین ہدایت کارتھے۔ انہوں نے امریش پوری کی اداکاری کو دیکھ کر ان کے اندرچھپی ہوئی صلاحیتوں کوبھانپ لیا۔ ڈرامہ ’’اندھا یگ‘‘ میں امریش پوری کی اداکاری سےمتاثرہوکر انہوں نے تقریباً۵۰؍ڈراموں میںانہیں کام دیا اور ان کے اندر چھپی ہوئی فن کارانہ صلاحیتوں کواجاگر کیا۔بقول ستیہ دیو دوبے:’’امریش جی کے بارے میں کیا کہوں۔بس اتنا کہہ سکتا ہوں کہ وہ ایک عمدہ ترین اداکار تھے۔‘‘اپنے زمانے کے مشہور ویلن کے این سنگھ امریش پوری کے آئیڈیل تھے۔انہی سے متاثر ہوکر انہوں نے اپنے آپ کو ویلن کے روپ میں ڈھالا اور وہ اس میں اس قدر کامیاب ہوئے کہ فلم انڈسٹری میں ویلن کو اہم مقام اور رتبہ دیا جانے لگا۔بقول گلشن گروور:’’فلم انڈسٹری میں کھلنائک کواہم مقام دلانے میں امریش پوری کا بہت بڑا ہاتھ تھا۔پہلے کھلنائک سیٹ پر ہی پنکھے کی ہوا کھاتے تھے۔لیکن امریش پوری نے کھلنائکوں کے لیے وینیٹی وین کی شروعات کی۔ آج انہیں کی بدولت فلمی دنیا ہم وینیٹی وین میں آرام کرپارہے ہیں۔‘‘ ڈراموںمیں ان کی بہترین اداکاری کو دیکھ کر پہلی مرتبہ سکھ دیونےفلم ’ریشما اور شیرا‘ میں ایک رول کے لیے سائن کیا۔لیکن کنڑ فلم ’’کاڑو‘‘ سے امریش پوری کو فلمی دنیا میں پہچان ملی اور یہ فلم امریش پوری کے لیے سنگ میل ثابت ہوئی۔ مشہور آرٹ فلم ساز شیام بینیگل نے جب یہ فلم دیکھی تو وہ ان کی اداکاری کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکے اور انہیں اپنی فلم’’ منتھن‘‘ اور’’ نشانت‘‘ میں کاسٹ کیا۔ پھرتو ان کی کامیابی کا سفر شروع ہوگیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK