اے آر رحمان نے کینیڈی سینٹر میں منعقدہ میلانیہ کی شاندار پریمیر تقریب میں شرکت کی۔ میلانیہ ٹرمپ کی پروڈیوس کردہ یہ دستاویزی فلم عالمی سطح پر ریلیز ہو رہی ہے، تاہم برطانیہ میں ٹکٹوں کی فروخت سست روی کا شکار ہے۔
EPAPER
Updated: January 30, 2026, 6:16 PM IST | New York
اے آر رحمان نے کینیڈی سینٹر میں منعقدہ میلانیہ کی شاندار پریمیر تقریب میں شرکت کی۔ میلانیہ ٹرمپ کی پروڈیوس کردہ یہ دستاویزی فلم عالمی سطح پر ریلیز ہو رہی ہے، تاہم برطانیہ میں ٹکٹوں کی فروخت سست روی کا شکار ہے۔
آسکر یافتہ موسیقار اے آر رحمان نے ۲۹؍ جنوری ۲۰۲۶ءکو واشنگٹن ڈی سی کے کینیڈی سینٹر میں منعقدہ سابق خاتونِ اول میلانیہ ٹرمپ کی نئی دستاویزی فلم میلانیہ کی پریمیر تقریب میں بین الاقوامی رونق بڑھا دی۔ اس تقریب میں موسیقی، سیاست، کھیل اور تفریح سے تعلق رکھنے والی کئی نامور شخصیات نے شرکت کی۔
اپنی موسیقی کی عالمی شہرت کے حامل رحمان نمایاں بین الاقوامی مہمانوں میں شامل تھے۔ ان کے ساتھ فیفا کے صدر جیانی انفینٹیو، ریپر واکا فلوکا فلیم، اور جارڈن بیلفورٹ بھی موجود تھے، جن کی زندگی پر فلم ’’دی وولف آف وال اسٹریٹ‘‘ بنائی گئی۔ سیاسی شخصیات میں سابق نیویارک سٹی میئر ایرک ایڈمز، امریکی سیکنڈ لیڈی اُوشا وینس، وزیرِ صحت رابرٹ ایف کینیڈی جونیئراور وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ بھی تقریب میں شریک ہوئے۔
یہ دستاویزی فلم ڈونالڈ ٹرمپ کی دوسری صدارتی حلف برداری سے قبل کے ۲۰؍ دنوں پر مرکوز ہے اور ایک اہم سیاسی دور میں میلانیہ ٹرمپ کی زندگی کے پردے کے پیچھے کے لمحات دکھاتی ہے۔ اس کی ہدایت کاری بریٹ ریٹنر نے کی ہے جبکہ فرنینڈو سولیچن اور مارک بیک مین اس کے پروڈیوسر ہیں۔ اس منصوبے میں میلانیہ ٹرمپ خود بھی بطور پروڈیوسر شامل ہیں اور اسے امیزون ایم جی ایم اسٹوڈیوز کے تحت ریلیز کیا جا رہا ہے۔ ۲۴؍ جنوری کو وائٹ ہاؤس میں اس کی ایک نجی اسکریننگ بھی ہوئی، جس میں ڈونالڈ اور میلانیہ ٹرمپ، ان کے بیٹے بیرن اور منتخب مہمانوں نے شرکت کی۔
اے آر رحمان کی اس تقریب میں شرکت ایسے وقت میں سامنے آئی جب وہ بالی ووڈ میں فرقہ وارانہ تعصب سے متعلق اپنے حالیہ بیانات کے باعث خبروں میں تھے۔ بی بی سی ایشین نیٹ ورک سے گفتگو کرتے ہوئے رحمان نے کہا ’’شاید مجھے کبھی اس کا علم نہیں ہو سکا، شاید خدا نے اسے چھپا لیا، لیکن میں نے ایسا کچھ محسوس نہیں کیا۔ پچھلے آٹھ برسوں میں شاید اس لیے کہ طاقت کا توازن بدل گیا ہے اور اب غیر تخلیقی لوگوں کے پاس اختیار ہے۔‘‘
انہوں نے مزید صاف گوئی سے کہا کہ ’’یہ فرقہ وارانہ معاملہ بھی ہو سکتا ہے، لیکن یہ میرے سامنے براہِ راست نہیں آتا۔ یہ مجھے افواہوں کی صورت میں سننے کو ملتا ہے کہ آپ کو بک کیا گیا تھا مگر میوزک کمپنی نے جا کر اپنے پانچ کمپوزرز رکھ لیے۔ میں کہتا ہوں ٹھیک ہے، مجھے اپنے خاندان کے ساتھ وقت گزارنے کا زیادہ موقع مل گیا۔ میں کام کی تلاش میں نہیں ہوں۔ میں نہیں چاہتا کہ میں کام ڈھونڈوں، میں چاہتا ہوں کام خود میرے پاس آئے، میری خلوص نیت کے ذریعے۔ جو میں ڈیزرو کرتا ہوں، وہ مجھے مل جاتا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:’’گاندھی ٹاکس‘‘ کی ریلیز کے تعلق سے ادیتی راؤ حیدری پرجوش ہیں
امریکہ میں فلم کی پریمیر کے لیے جوش و خروش دیکھا گیا، لیکن برطانیہ سے ابتدائی اشارے کچھ زیادہ حوصلہ افزا نہیں ہیں۔ میلانیہ ۳۰؍جنوری ۲۰۲۶ءکو برطانیہ بھر کے۱۰۰؍ سے زائد سنیما گھروں میں ریلیز ہونے جا رہی ہے، تاہم پیشگی ٹکٹوں کی فروخت خاصی سست رہی ہے۔ ویو سنیما کے سی ای او ٹِم رچرڈز نے انکشاف کیا کہ کمپنی کے مرکزی آئزلنگٹن تھیٹر میں ساڑھے بجے کے شو کے لیے صرف ایک ٹکٹ فروخت ہوا جبکہ شام ۶؍ بجے کے شو کے لیے صرف دو ٹکٹ بک ہوئے۔
رچرڈز نے ویو کے اس فیصلے پر ہونے والی عوامی تنقید کا جواب دیتے ہوئے دی ٹیلی گراف کو بتایا کہ ’’ میں نے سب کو کہا ہے کہ فلم کے بارے میں ہماری ذاتی رائے سے قطع نظر، اگر اسے بی بی ایف سی کی منظوری حاصل ہے تو ہم اسے دیکھتے ہیں اور ۹۹؍ فیصد مواقع پر دکھاتے ہیں۔ ہم فلموں کو سینسر کرنے کے لیے جج اور جیوری کا کردار ادا نہیں کرتے۔‘‘ اطلاعات کے مطابق اس دستاویزی فلم کا پروڈکشن بجٹ ۴۰؍ ملین ڈالر تھا، جس میں سے میلانیہ ٹرمپ نے اپنی شمولیت کے عوض ۲۸؍ ملین ڈالر وصول کیے۔ ۱۰۴؍ منٹ دورانیے پر مشتمل میلانیہ ان کی زندگی کے ایک اہم سیاسی دور کو بیان کرتی ہے اور ٹرمپ صدارت کے دوران ان کے کردار کی ایک قریبی جھلک پیش کرتی ہے۔