ہندوستانی فلمی تاریخ میں کچھ فن کار ایسے گزرے ہیں جنہوں نےاپنی اداکاری سے نہ صرف لوگوں کے دل جیتے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی نئی راہیں کھولیں۔ اشوک کمار کا شمار ایسے ہی فن کاروں میں ہوتا ہے۔
EPAPER
Updated: October 13, 2026, 4:31 PM IST | Mumbai
ہندوستانی فلمی تاریخ میں کچھ فن کار ایسے گزرے ہیں جنہوں نےاپنی اداکاری سے نہ صرف لوگوں کے دل جیتے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی نئی راہیں کھولیں۔ اشوک کمار کا شمار ایسے ہی فن کاروں میں ہوتا ہے۔
ہندوستانی فلمی تاریخ میں کچھ فن کار ایسے گزرے ہیں جنہوں نےاپنی اداکاری سے نہ صرف لوگوں کے دل جیتے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی نئی راہیں کھولیں۔ اشوک کمار کا شمار ایسے ہی فن کاروں میں ہوتا ہے۔ وہ محض ایک کامیاب اداکار نہیں تھے، بلکہ ہندوستانی سنیما کے اس دور کے نمائندہ فن کار تھے جب فلمی اداکاری اپنے روایتی اندازسے نکل کر زندگی کے حقیقی رنگوں کے قریب آرہی تھی۔ ان کے چہرے کے تاثرات، مکالمہ ادا کرنے کا فطری انداز، بے ساختہ مسکراہٹ اور کردار کے مطابق خود کو ڈھال لینے کی صلاحیت نے انہیں اپنے عہد کے دوسرے اداکاروں سے ممتاز کیا۔
یہ بھی پڑھئے: ۶؍ سال بعد بپاشا باسو کی اداکاری میں واپسی، ہنسل مہتا کی کرائم سیریز میں نظر آئیں گی
اشوک کمار ۱۳؍اکتوبر ۱۹۱۱ء کو بہار کے شہر بھاگل پور میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک بنگالی خاندان سے تھا۔ ان کے والد کنج لال گنگولی وکیل تھے اور خاندان میں تعلیم کو خاص اہمیت حاصل تھی۔ ان کے چھوٹے بھائی انوپ کمار اور کشور کمار بھی بعد میں فلمی دنیا میں معروف ہوئے، جب کہ ان کے ایک اور بھائی اشیت کمار گنگولی نے بھی فلمی صنعت سے وابستگی رکھی۔اشوک کمار کی اداکاری کا آغاز کسی طے شدہ منصوبے کے تحت نہیں ہوا تھا۔ ۱۹۳۶ء میں فلم ’’جیون نیا‘‘ کے لیے انہیں مرکزی کردار ادا کرنےکا موقع ملا۔ اسی سال ریلیز ہونے والی فلم ’اچھوت کنیا‘نے انہیں نمایاں شہرت دلائی۔’اچھوت کنیا‘ اپنے موضوع اور اداکاروں کی کارکردگی کے باعث اہم فلم ثابت ہوئی۔ اس نے اشوک کمار کو گھر گھر پہنچانےمیں بنیادی کردار ادا کیا۔ دیویکا رانی کے ساتھ ان کی جوڑی بھی مقبول ہوئی اور دونوں نے ’جنم بھومی‘، ’عزت‘، ’ساوتری‘، ’نرملہ‘ اور ’کنگن‘ جیسی فلموں میں کام کیا۔
ان ابتدائی فلموں میں اشوک کمار کی اداکاری کا انداز اس زمانے کے رائج مبالغہ آمیز انداز سے مختلف تھا۔ وہ مکالمے ادا کرتے ہوئے غیر ضروری طور پر آواز بلند کرنے یا چہرے کے تاثرات کو حد سے زیادہ نمایاں کرنے کے بجائے کردار کے مطابق فطری انداز اپنانے کی کوشش کرتے تھے۔ یہی خوبی آگے چل کر ان کی شناخت بنی۔
یہ بھی پڑھئے: رجنی کانت کی ’جیلر ۲‘ ہندی میں بڑے ملٹی پلیکسز پر ریلیز نہیں ہوگی
۱۹۴۳ء میں ریلیز ہونے والی فلم ’قسمت‘ اشوک کمار کے کیریئر کا ایک اہم موڑ ثابت ہوئی۔۱۹۴۹ء میں کمال امروہی کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم ’محل‘ اشوک کمار کے یادگار کاموں میں شامل ہے۔ اس فلم میں ان کے ساتھ مدھوبالا نے کام کیا۔اشوک کمار نے اپنے طویل کیریئر میں مختلف ادوار کے بدلتے ہوئے تقاضوں کے ساتھ خود کو ڈھالا۔ ان کی مشہور فلموں میں’پرینیتا‘ (۱۹۵۳ء)،’چلتی کا نام گاڑی‘،’ہائوڑہ برج‘(۱۹۵۸ء)، ’قانون‘ (۱۹۶۱ء)، ’گمراہ‘(۱۹۶۳ء)اور ’بندنی‘ان کے کیریئر کی اہم فلمیں ہیں۔ اشوک کمار کی فنی خدمات کو حکومت اور فلمی صنعت نے مختلف اعزازات کے ذریعے تسلیم کیا۔ انہیں ۱۹۶۲ء میں پدم شری سے نوازا گیا۔ ۱۹۶۸ء کی فلم ’’آشیرواد‘‘ کے لیے بہترین اداکار کا قومی فلم ایوارڈ ان کے فن کا ایک اہم اعتراف تھا۔۱۹۸۸ء میں انہیں ہندوستانی سنیما کے سب سے بڑے اعزازات میں شمار ہونے والا دادا صاحب پھالکے ایوارڈ دیا گیا۔ یہ اعزاز فلمی صنعت میں ان کی طویل خدمات اور ہندوستانی سنیما پر ان کے اثرات کے اعتراف میں پیش کیا گیا۔ ۱۹۹۹ء میں انہیں پدم بھوشن سے بھی نوازا گیا۔ان کی آخری فلمی پیش کشوں میں ۱۹۹۷ء کی فلم ’’آنکھوں میں تم ہو‘‘ کا نام لیا جاتا ہے۔۱۰ دسمبر ۲۰۰۱ء کو ممبئی میں ۹۰ سال کی عمر میں ان کا انتقال ہوگیا۔ ان کی وفات سے ہندوستانی فلمی دنیا نے ایک ایسے فن کار کو کھو دیا جس نے خاموشی سے، مگر گہرے اثرات کے ساتھ، اداکاری کے انداز کو تبدیل کیا تھا۔