• Tue, 13 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

آئی ایم ایف نے توانائی بحران اور مالیاتی خطرات سے خبردار کردیا

Updated: October 13, 2026, 5:05 PM IST | New Delhi

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے خبردار کیا ہے کہ بار بار کے معاشی جھٹکوں کا سامنا کرنے والی عالمی معیشت اب اپنی برداشت کی حد کے قریب پہنچ رہی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، توانائی کی فراہمی میں رکاوٹوں، تیل کی بلند قیمتوں، بڑھتے ہوئے سرکاری قرضوں اور مالیاتی منڈیوں میں بڑھتے خطرات نے عالمی اقتصادی ترقی کے امکانات کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔

IMF.Photo:INN
آئی ایم ایف۔ تصویر:آئی این این

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے خبردار کیا ہے کہ بار بار کے معاشی جھٹکوں کا سامنا کرنے والی عالمی معیشت اب اپنی برداشت کی حد کے قریب پہنچ رہی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، توانائی کی فراہمی میں رکاوٹوں، تیل کی بلند قیمتوں، بڑھتے ہوئے سرکاری قرضوں اور مالیاتی منڈیوں میں بڑھتے خطرات نے عالمی اقتصادی ترقی کے امکانات کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔ آئی ایم ایف کی ۱۳؍ اکتوبر ۲۰۲۶ء کو جاری ہونے والی تازہ عالمی اقتصادی منظرنامے کی رپورٹ کے مطابق، مصنوعی ذہانت سے متعلق سرمایہ کاری عالمی معیشت کو سہارا دے رہی ہے، تاہم اس ترقی کے فوائد تمام ممالک تک یکساں طور پر نہیں پہنچ رہے۔ فنڈ نے زور دیا ہے کہ اگر موجودہ خطرات میں اضافہ ہوا تو عالمی معیشت کی ترقی کی رفتار متاثر ہوسکتی ہے۔ 
آئی ایم ایف نے اپنی تازہ رپورٹ میں پیش گوئی کی ہے کہ عالمی معیشت کی حقیقی شرح نمو ۲۰۲۶ءمیں  ۱ء۳؍فیصد اور۲۰۲۷ء میں ۴ء۳؍ فیصد رہ سکتی ہے۔ ۲۰۲۶ء کے لیے ترقی کی پیش گوئی جولائی میں لگائے گئے ۳؍ فیصد کے اندازے سے قدرے بہتر ہے، جس کی ایک بڑی وجہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری ہے۔ تاہم، یہ شرح  ۲۰۲۵ء کی ۵ء۳؍ فیصد عالمی ترقی سے کم ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی معیشت کی رفتار اب بھی دباؤ کا شکار ہے۔

یہ بھی پڑھئے:پونے: ایم پی ایس سی امیدواروں کا احتجاج رنگ لایا

رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جنگ اور کشیدگی طویل ہونے سے توانائی کی عالمی فراہمی متاثر ہورہی ہے اور خام تیل کی قیمتیں ۱۰۰؍ ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار ہیں۔ اگر تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے اور تیل کی قیمتیں ۲۰۲۷ء کی پہلی سہ ماہی تک ۱۳۰؍ ڈالر فی بیرل تک پہنچ جاتی ہیں تو عالمی ترقی مزید سست ہوسکتی ہے اور مہنگائی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ آئی ایم ایف کے ایک منفی منظرنامے کے مطابق ایسی صورت میں  ۲۰۲۷ء کی عالمی مہنگائی بڑھ کر۲ء۵؍ فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ توانائی کی بڑھتی قیمتوں سے خصوصاً ان ممالک پر زیادہ دباؤ پڑتا ہے جو اپنی ضروریات کے لیے تیل اور گیس درآمد کرتے ہیں۔ 
آئی ایم ایف نے خبردار کیا ہے کہ بڑھتے ہوئے سرکاری قرض، حکومتی بانڈز پر زیادہ منافع اور قرض لینے کی بڑھتی لاگت عالمی معیشت کے لیے اضافی مشکلات پیدا کرسکتی ہے۔ ادارے کے مطابق عالمی صارفین کی مہنگائی کی شرح  ۲۰۲۶ء میں ۷ء۴؍ فیصد رہنے کا امکان ہے، جو ۲۰۲۷ء میں کم ہوکر ۱ء۴؍ فیصد ہوسکتی ہے۔ اس کے باوجود توانائی اور خوراک کی قیمتوں میں اضافہ عام لوگوں کی قوتِ خرید کو متاثر کرسکتا ہے، جبکہ حکومتوں کے لیے عوامی اخراجات اور قرض کی ادائیگیوں میں توازن برقرار رکھنا مشکل ہوسکتا ہے۔ فنڈ نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ مالیاتی خسارہ اور قرض کم کرنے کے لیے قابلِ اعتبار درمیانی مدت کے منصوبے تیار کریں اور مستقبل کے معاشی جھٹکوں سے نمٹنے کے لیے مالی وسائل بحال کریں۔ 

یہ بھی پڑھئے:رجنی کانت کی ’جیلر ۲‘ ہندی میں بڑے ملٹی پلیکسز پر ریلیز نہیں ہوگی

مصنوعی ذہانت سے متعلق سرمایہ کاری عالمی معیشت کے لیے ترقی کا اہم ذریعہ بن رہی ہے، لیکن اس کے فوائد چند ممالک اور ٹیکنالوجی کی عالمی رسدی زنجیر سے وابستہ معیشتوں میں زیادہ مرتکز ہیں۔ آئی ایم ایف کے مطابق صرف۳۲؍ ممالک عالمی اقتصادی ترقی کے مجموعی اضافے میں تقریباً ۹۵؍ فیصد حصہ ڈال رہے ہیں، جبکہ اپریل میں ایسے ممالک کی تعداد۵۴؍ تھی۔ ادارے نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اگر مصنوعی ذہانت سے متعلق توقعات پوری نہ ہوئیں اور سرمایہ کاری میں اچانک کمی آئی تو مالیاتی منڈیوں میں گراوٹ اور اثاثوں کی قیمتوں میں کمی واقع ہوسکتی ہے۔ اس کے برعکس، اگر مصنوعی ذہانت پیداوار اور کارکردگی میں نمایاں اضافہ کرتی ہے تو عالمی معیشت کو مزید فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ 
 آئی ایم ایف نے  ہندوستان کی معاشی ترقی کے بارے میں نسبتاً مثبت اندازہ پیش کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق  ہندوستان کی معیشت ۲۰۲۶ء اور ۲۰۲۷ء دونوں برسوں میں ۷؍ فیصد کی شرح سے ترقی کرسکتی ہے، جس کے پیچھے مضبوط اندرونی طلب، خدمات کے شعبے کی سرگرمیاں اور مصنوعی ذہانت سے متعلق سرمایہ کاری اہم عوامل ہیں۔ اس کے باوجود تیل کی بلند قیمتیں، عالمی تجارت میں نئی رکاوٹیں اور بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ ہندوستان سمیت تیل درآمد کرنے والے ممالک کے لیے خطرات پیدا کرسکتے ہیں۔ آئی ایم ایف کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ عالمی معیشت اب تک مختلف بحرانوں کا مقابلہ کرتی رہی ہے، لیکن اس کی جھٹکوں کو برداشت کرنے کی صلاحیت محدود ہوتی جارہی ہے۔ ادارے نے حکومتوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ فوری مسائل سے نمٹنے کے ساتھ توانائی کے تحفظ، مالیاتی استحکام، پیداواری صلاحیت اور عالمی تجارتی تعاون کو مضبوط بنانے پر توجہ دیں، تاکہ مستقبل میں کسی بڑے بحران کی صورت میں معیشتوں کو زیادہ نقصان سے بچایا جاسکے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK