پردۂ سیمیں پرمسلم کردار میں اشوک کمار کا جلوہ نکھر کر سامنے آتا تھا

Updated: August 09, 2020, 3:53 PM IST | Anees Amrohi

فلم ’بے نظیر‘ کے نواب اور ’بہو بیگم‘ میں نواب سکندر مرزا کے کردار میں انہوں نے جان ڈال دی ہے۔ ’میرے محبوب‘ کے لُٹے پٹے نواب بلند اختر چنگیزی اور مشہور زمانہ فلم ’پاکیزہ‘کے نواب شہاب الدین کو لوگ آج بھی یاد کرتے ہیں۔ ان کا اُردو کا تلفظ اور الفاظ کی ادائیگی بہت اعلیٰ درجے کی تھی، علاوہ ازیں ان کے بدن پر چوڑی دار پاجامہ اور شیروانی بھی خوب سجتی تھی

ashok kumar
اشوک کمار

 بمبئی ٹاکیز سے علاحدہ ہوکر اشوک کمار نے ششدھر مکھرجی،  واچہ، گیان مکھرجی، رائے بہادر چنی لال اور کمال امروہی کے ساتھ مل کر فلمستان اسٹوڈیو کی بنیاد ڈالی اور ایک فلم ’آٹھ دن‘ بنانی شروع کی۔ اشوک کمار کو لگا کہ وہ اداکاری کی طرح  ہدایتکاری بھی کامیابی کے ساتھ کر سکتے ہیں لہٰذا اس کی ہدایتکاری خود کرنے کا فیصلہ کیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ فلم بُری طرح فلاپ ہو گئی۔اس کےبعد انہوں نے پھر کبھی ہدایتکاری نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ فلم ’آٹھ دن‘ میں اردو کے مقبول افسانہ نگار اور اشوک کمار کے دوست سعادت حسن منٹو نے بھی ایک چھوٹا سا کردار ادا کیا تھا۔ 
 اشوک کمار نے اداکاری میں کامیابی حاصل کرنے کے کچھ عرصے کے بعد  اپنے دونوں چھوٹے بھائیوں، انوپ کمار اور کشور کمار کو بھی بمبئی بلا لیا۔ کشور کمار کو گانے کا بہت شوق تھا حالانکہ ان کی آواز اس زمانے کے گلوکاروں، طلعت محمود، محمدرفیع، مکیش، منّا ڈے اور مہندر کپور جیسی تو نہیں تھی مگر انہوںنے اپنے اسٹائل سے گلوکاری میں کافی مقبولیت حاصل کر لی۔ کشور کمار ہرفن مولا قسم کے آدمی تھے۔ فلم میں اداکاری اور گلوکاری کے علاوہ موسیقی بھی دیتے تھے اور فلمسازی اور ہدایتکاری میں بھی ان کو دخل تھا۔ ۱۹۵۸ء میں کشور کمار کی بنائی فلم ’چلتی کا نام گاڑی‘ میں تینوں بھائیوں نے مزاحیہ کردار ادا کئے تھے اور بڑے بھائی کے کردارمیں اشوک کمار نے بھی جم کر کامیڈی کی تھی۔
 انہیں دنوں اشوک کمار نے فلم انڈسٹری سے بمل رائے جیسے باصلاحیت ہدایتکار کو متعارف کرایا اور ان کی ہدایت میں۱۹۵۳ء میں فلم ’پرنیتا‘ بنائی گئی جس کی ہیروئن میناکماری تھیں۔ بمل رائے اور اشوک کمار میں طے یہ ہوا تھا کہ جو فلم اشوک کمار بنائیںگے، اس  کے ہدایتکار بمل رائے ہوںگے۔ کچھ عرصے تک یہ سلسلہ چلتا رہا مگربمل رائے اپنے وعدے سے ہٹ گئے، اسلئے  دونوں کے تعلقات خراب ہو گئے۔ کچھ عرصے بعد ۱۹۶۳ء میں جب فلم ’بندنی‘ کیلئے بمل رائے نے اشوک کمار کو سائن کرنا چاہا تو انہوںنے انکار کر دیا مگر بعد میں اداکارہ نوتن کے اصرار پر وہ بمل رائے کی ہدایت میں اس فلم میں کام کرنے پر راضی ہوئے۔ فلم ’بندنی‘ اشوک کمار کی بہترین فلموں میں ایک اضافہ ثابت ہوئی اور بہت کامیاب رہی۔ اس کے بعد اشوک کمار نے بمل رائے کی کئی فلموں میں اداکاری کی۔ اشوک کمار فلم کے کردار میں ڈھلنے کیلئے کچھ بھی کر سکتے تھے کیونکہ وہ ایک کمییٹڈ اداکار تھے مگر ۱۹۶۴ء میں ریلیز فلم ’چترلیکھا‘ کیلئے جب ہدایتکار کیدار شرما نے ان سے گنجا ہونے کیلئے کہا تو اشوک کمار نے صاف انکار کر دیا۔
 اشوک کمار کے دادامنی بننے کی بھی دلچسپ کہانی ہے۔ ان کی چھوٹی بہن ستی رانی اکثر بمبئی ٹاکیز آیا کرتی تھیں کیونکہ ان کے شوہر ششدھر مکھرجی بھی وہیں کام کرتے تھے لہٰذا وہ بنگالی تہذیب کے مطابق اشوک کمار کو بڑے بھائی کے بجائے داداموڑیں کہہ کر مخاطب کرتی تھیں۔ بنگالی میں مڑیں کو موڑی کہا جاتا ہے اور انگریزی، ہندی اور اردو میں ڑ کی جگہ ن کا استعمال ہوتا ہے۔ لہٰذا وہاں کے باقی لوگ بھی اشوک کمار کو دادامنی ہی کہنے لگے۔ ستی رانی اور ششدھر مکھرجی کے بیٹے جوائے مکھرجی نے بھی کئی مقبول فلموں میں ہیرو کے کردار ادا کئے۔ مزاحیہ اداکار دیوین ورما اشوک کمار کے داماد ہیں اور اداکارہ وحیدہ رحمان اشوک کمار کی منہ بولی بہن تھیں ،اسلئے ہرسال اُن کو راکھی  باندھتی تھیں۔ اشوک کمار کی بیٹی پریتی گانگولی کے بعد اُن کی نواسی انورادھا پٹیل نے بھی فلموں میں اداکاری کی مگر یہ دونوں ہی کامیاب نہ ہو سکیں۔ انورادھا نے ایک فلم ’’لَو اِن گوا‘‘ میں اشوک کمار کے ساتھ بھی کام کیا تھا۔ اشوک کمار کبھی رات کی شفٹ میں شوٹنگ پر نہیں جاتے تھے مگر ۱۹۷۰ء میں منوج کمار کی فلم ’پورب اور پچھم‘ کیلئے انہوںنے لگاتار ایک ماہ کا وقت دیا اور کئی بار رات میں بھی شوٹنگ میں حصہ لیا۔
 اشوک کمار کے ایک قریبی دوست نوندو گھوش نے اپنی ایک کتاب میں اشوک کمار کے والد کے حوالے سے ایک بڑی ہی دلچسپ بات تحریر کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے اجداد میں ایک خطرناک ڈاکو رگھوناتھ نام کے ہوئے ہیں جو روگھو کے نام سے جانے جاتے تھے۔ جس طرح انگلینڈ میں رابن ہڈ کا نام مشہور ہوا، اُسی طرح بنگال میں روگھو کے چرچے عام تھے۔ نوبل انعام یافتہ رابندر ناتھ ٹیگور کی کتاب’شیش سپتک‘ میں بھی روگھو ڈاکو کا ذکر ملتا ہے۔ یہ روگھو  اشوک کمار کے دادا  کے دادا تھے۔ برسوں تک پولیس، روگھو کی تلاش میں رہی۔ ایک مرتبہ سراغ ملنے  پر پولیس روگھو کو گرفتار کرنے ایک مندر میں پہنچی تو وہاں روگھو کی جگہ ایک بوڑھے برہمن کو پایا۔ اسے وہیں چھوڑکر پولیس واپس چلیگئی تو پتہ چلا کہ وہ بوڑھا برہمن ہی روگھو تھا۔
 اشوک کمار نے طویل عرصے تک ہندوستانی پردہ سیمیں پر اپنی ہیرو کی پہچان کو کامیابی کے ساتھ برقرار رکھا مگر جب چہرے پر عمر کے نشان زیادہ واضح ہونے لگے تو انہوںنے۶۰ء کی دہائی میں کردار بدلنا شروع کر دیا۔  اس کے بعد انہوںنے کریکٹر آرٹسٹ کے طور پر فلمیں سائن کرنی شروع کر دیں اور اس میں بھی کامیابی حاصل کی۔ ۱۹۶۰ء میں ریلیز ان کی فلم’قانون‘ بے حد کامیاب رہی جس میں انہوںنے ایک جج کا کردار ادا کیا تھا۔ ۱۹۶۱ء میں ’دھرم  پُتر‘ اور’اُمید‘، ۱۹۶۲ء میں ’راکھی، نقلی نواب، مہندی لگی میرے ہاتھ، اسی کا نام دنیا ہے، برما روڈ اورآرتی‘ ۱۹۶۳ء میں ’یہ راستے ہیں پیار کے، استادوں کے استاد، میری صورت تیری آنکھیں،میرے محبوب، گمراہ، گرہن، بندنی اورآج اور کل‘، ۱۹۶۴ء میں ’دوج کا چاند،چترلیکھااوربے نظیر‘‘، ۱۹۶۵ء میں ’اونچے لوگ، بھیگی رات، آکاش دیپ وغیرہ، ۱۹۶۶ء میں’ممتا، دادی ماں، افسانہ‘، ۱۹۶۷ء میں’نئی روشنی، مہربان، بہو بیگم اور جویل تھیف ، ۱۹۶۸ء میں ’سادھو اور شیطان، ایک کلی مسکائی اور آشیرواد، ۱۹۶۹ء میں ’ستیہ کام، انتقام، دو بھائی، آنسو بن گئے پھول اور آرادھنا، ۱۹۷۰ء میں’شرافت، سفر، پورب اور پچھم، ماںاورممتا، ۱۹۷۱ء میں ’نیا زمانہ اورادھیکار‘، ۱۹۷۲ء میں ’پاکیزہ‘ کے علاوہ انہوںنے ایک کامیڈی فلم ’وکٹوریہ نمبر ۲۰۳‘  کے نام قابل ذکر ہیں۔ ۱۹۷۵ء میں امیتابھ بچن اور جیہ بہادری کی فلم ’مِلی‘ میں بھی اشوک کمار نے مِلی کے باپ کا یادگار کردار ادا کیا۔  ۱۹۸۴ء میں دوردرشن کے پہلے ٹی وی سیریل ’ہم لوگ‘ میں سوتردھار (راوی) کا کردار ادا کیا جو کافی عرصہ تک چلا ۔ ۱۹۸۶ء میں انہوںنے ٹی وی سیریل ’بھیم بھوانی‘ اور ’کراس روڑ‘ میں بھی کام کیا۔ ٹی۔وی سیریل ’بھارت ایک کھوج‘ میں بھی انہوںنے اداکاری کی۔ ۱۹۹۷ء میں اشوک کمار کی اداکاری والی آخری فلم ’آنکھوں میں تم ہو‘ ریلیز ہوئی ، اس کے بعد صحت کی خرابی کی وجہ سے انہوںنے کام کرنا ترک کر دیا۔ اشوک کمار اور دلیپ کمار ایک طویل عرصے تک فلمی دنیا میں اداکاری کرتے رہے مگر ایک ساتھ ان دونوں اداکاروں نے صرف تین فلموں،’دیدار، شکتی‘ اور’دُنیا‘ میں ہی کام کیا ہے۔
 اشوک کمار کی پسندیدہ اداکارائوں میں گیتا بالی، مدھوبالا، مینا کماری، سچترا سین اور نوتن کے نام خاص طور پر لئے جا سکتے ہیں۔ مینا کماری نے ۱۸؍فلموں میں اشوک کمار کے ساتھ اداکاری کی ہے۔ اشوک کمار کے عشق کی بھی کئی داستانیں مشہور ہوئیں۔ سب سے پہلے اُن کی دوسری ہیروئن لیلا چٹنس کے ساتھ ان کا نام جوڑا گیا۔ اس کے بعد فلم ’سمادھی‘ کی تکمیل کے دوران نلنی جیونت  کے ساتھ ان کے چرچے ہوئے۔اس کی وجہ سے اُن کی بیوی نے سگریٹ کم کرنے کے بہانے سے اپنی بیٹی بھارتی کو اشوک کمار کے ساتھ شوٹنگ پر بھیجنا شروع کر دیا تھا۔ کافی دنوں بعد اداکارہ نروپا رائے کے نام کے ساتھ بھی اشوک کمار کا نام جوڑا گیا۔ اِن دونوں نے لگاتار ایک ساتھ ۱۵؍فلموں میں کام کیا تھا۔ اس کے باوجود اشوک کمار نے ہمیشہ اپنے آپ کو ایک ذمہ دار شوہر اور شفیق باپ کے طور پر ثابت قدم رکھا۔
 اشوک کمار نے کئی مسلم سوشل فلموں میں بڑی کامیاب اداکاری کی ہے اور ایسے کرداروں میں وہ نہ صرف پسند کئے جاتے تھے بلکہ مسلم کردار ان پر خوب جچتے بھی تھے۔ فلم ’بے نظیر‘ کے نواب اور ’بہو بیگم‘ میں نواب سکندر مرزا کے کردار میں بھی انہوںنے میناکماری کے ساتھ بہترین اداکاری پیش کی ہے۔ اس کے علاوہ فلم ’میرے محبوب‘ کے لُٹے پٹے نواب بلند اختر چنگیزی اور کمال امروہی کی مشہور زمانہ فلم ’پاکیزہ‘کے نواب شہاب الدین کو لوگ آج بھی یاد کرتے ہیں۔ فلم ’پیار کیا ہے پیار کریںگے‘ میں عبدالرحمان کا کردار اور فلم ’آپ کے دیوانے‘میں انشااللہ خاں،’فلم بڑھتی کا نام داڑھی‘ میں گلفام اور فلم ’دھرم پُتر‘ میں نواب بدرالدین، فلم ’ہمایوں‘ میں ہمایوں، اور میناکماری کے ساتھ فلم ’نجمہ‘ میں یوسف کے کرداروں کو بھلا کیسے بھلایا جا سکتا ہے۔ بی آرچوپڑہ کے ایک ٹی وی سیریل میں انہوںنے بہادر شاہ ظفر کا کردار ادا کیا تھا۔ ان کا اردو کا تلفظ اور الفاظ کی ادائیگی بھی بہت اعلیٰ درجے کی تھی اور ان کے بدن پر چوڑی دار پائجامہ کے ساتھ شیروانی بھی خوب سجتی تھی۔
 ۱۰؍دسمبر ۲۰۰۱ء کو بڑھاپے اور طویل بیماری کے بعد اشوک کمار نے آخری سانس لی اوروہاں چلے گئے جہاں سے کوئی واپس نہیں آتا

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK