• Wed, 28 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایشین پیرا گیمز کے تین مرتبہ طلائی تمغہ جیتنے والے نیرج یادو نے خودکشی کی

Updated: October 28, 2026, 3:30 PM IST | New Delhi

نیرج یادو کی موت خودکشی کا معاملہ معلوم ہوتی ہے، جبکہ دہلی میں پولیس اس واقعہ کی تحقیقات کر رہی ہے۔ ان کی موت کی اصل وجوہات تاحال واضح نہیں ہوسکی ہیں۔

Neeraj Yadav;Photo:INN
نیرج یادو۔ تصویر:آئی این این

 معروف پیرا ایتھلیٹ اور ایشین پیرا گیمز میں تین طلائی تمغے جیتنے والے نیرج یادو کی ۴۲؍ سال کی عمر میں موت ہوگئی۔   پیرا ایتھلیٹکس ٹیم کے چیف کوچ ایس ستیہ نارائن نے بدھ کے روز ان کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے اسے انتہائی افسوس ناک واقعہ قرار دیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق نیرج یادو کی موت خودکشی کا معاملہ معلوم ہوتی ہے، جبکہ دہلی میں پولیس اس واقعہ کی تحقیقات کر رہی ہے۔ ان کی موت کی اصل وجوہات تاحال واضح نہیں ہوسکی ہیں۔  

یہ بھی پڑھئے:عامر خان کا اعتراف:جنون کی حد تک کام کرنے کے باعث خاندان کو وقت نہیں دے سکا

میڈیا رپورٹس کے مطابق نیرج یادو منگل کی رات دہلی میں مردہ پائے گئے تھے۔ پولیس کی ابتدائی جانچ میں زہر کھانے کے شبہے کا ذکر کیا گیا ہے۔ بدھ کے روز دہلی کے گرو تیغ بہادر اسپتال میں ان کا پوسٹ مارٹم کیا جا رہا تھا، تاکہ موت کی وجوہات اور دیگر متعلقہ حقائق کی تصدیق ہوسکے۔ہندوستانی پیرا ایتھلیٹکس ٹیم کے چیف کوچ ایس ستیہ نارائن نے نیرج یادو کی موت پر گہرے صدمے کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس افسوس ناک واقعہ کی اطلاع ملی ہے اور یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے۔ کوچ کے مطابق، فی الحال اس بارے میں قیاس آرائی نہیں کی جاسکتی کہ نیرج نے یہ قدم کیوں اٹھایا۔ پولیس کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی واقعہ سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آسکیں گی۔ 
 نیرج یادو کا تعلق اتر پردیش سے تھا۔ انہیں سات سال کی عمر میں پولیو کے بعد ہونے والے فالج کی کیفیت کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس کے باعث ان کی جسمانی نقل و حرکت متاثر ہوئی۔ تاہم، جسمانی مشکلات ان کے حوصلے کو توڑ نہیں سکیں اور انہوں نے کھیلوں کی دنیا میں اپنی شناخت بنانے کے لیے مسلسل محنت کی۔نیرج نے ابتدا میں وہیل چیئر ٹینس میں حصہ لیا اور تقریباً سات سال تک اس کھیل سے وابستہ رہے۔ بعد ازاں،  ۲۰۱۵ء میں انہوں نے پیرا ایتھلیٹکس کا رخ کیا۔ اپنی محنت اور بہترین کارکردگی کی بدولت وہ جلد ہی بھارتی ٹیم میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوگئے۔ وہ پیرا ایتھلیٹکس کے ایف ۵۵؍ زمرے میں مقابلہ کرتے تھے، جس میں بیٹھ کر نیزہ پھینکنے، ڈسکس تھرو اور شاٹ پٹ جیسے مقابلے شامل ہوتے ہیں۔ نیرج نے ان مقابلوں میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے قومی اور بین الاقوامی سطح پر نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ 
نیرج یادو کے کھیلوں کے کریئر کی اہم کامیابی  ۲۰۱۸ء میں انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں منعقدہ ایشین پیرا گیمز کے دوران سامنے آئی۔ انہوں نے مردوں کے ایف ۵۵؍ نیزہ پھینکنے کے مقابلے میں۸۴ء۲۹؍ میٹر کی دوری تک نیزہ پھینک کر طلائی تمغہ جیتا تھا۔ اس کارکردگی کے ساتھ انہوں نے ایشیائی ریکارڈ بھی قائم کیا۔ اس کامیابی نے انہیں  ہندوستانی پیرا ایتھلیٹکس کے نمایاں کھلاڑیوں میں شامل کردیا۔ نیرج نے ثابت کیا کہ جسمانی معذوری کے باوجود غیر معمولی محنت، عزم اور مستقل مزاجی کے ذریعے بین الاقوامی سطح پر کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:ترکی کے ساحل سے دنیا کا قدیم ترین بحری جہازکا ملبہ برآمد

 نیرج یادو نے۲۰۲۳ء میں چین کے شہر ہانگژو میں منعقدہ ایشین پیرا گیمز میں اپنی کامیابیوں کا سلسلہ برقرار رکھا۔ انہوں نے نیزہ پھینکنے اور ڈسکس تھرو کے مقابلوں میں طلائی تمغے جیتے۔ اس طرح وہ ایشین پیرا گیمز میں مجموعی طور پر تین طلائی تمغے حاصل کرنے والے کامیاب بھارتی پیرا ایتھلیٹس میں شامل ہوگئے۔ ان کی کامیابیوں میں ۲۰۱۸ء کا ایشیائی ریکارڈ اور ۲۰۲۳ءمیں دو طلائی تمغے خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کامیابیوں نے انہیں  ہندوستانی پیرا کھیلوں میں ایک نمایاں مقام دلایا تھا۔ نیرج یادو کے کریئر کا آخری دور ایک تنازع سے بھی متاثر ہوا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، ان پر ڈوپنگ سے متعلق پابندی عائد تھی، جس کی وجہ سے وہ اکتوبر ۲۰۲۶ءمیں جاپان کے آئچی ناگویا میں منعقدہ ایشین پیرا گیمز میں شرکت نہیں کرسکے۔
 اکتوبر ۲۰۲۳ء میں لیے گئے ایک نمونے میں ممنوعہ مادے اسٹینوزولول کی موجودگی سامنے آئی تھی۔ اس کے بعد ان کے خلاف انسدادِ ڈوپنگ قوانین کی خلاف ورزی کا معاملہ درج ہوا اور ۲۰۲۴ء میں انہیں عارضی طور پر معطل کردیا گیا تھا۔ اس معاملے کے نتیجے میں وہ حالیہ ایشین پیرا گیمز میں حصہ نہیں لے سکے۔ بعض میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مقابلوں میں شرکت سے محرومی کے بعد وہ ذہنی دباؤ کا شکار تھے۔ تاہم، حکام نے ان کی موت کی حتمی وجہ کی تصدیق نہیں کی ہے اور یہ ثابت نہیں ہوا کہ ڈوپنگ معطلی کا اس واقعہ سے براہِ راست تعلق تھا۔ اس لیے دونوں واقعات کو یقینی طور پر ایک دوسرے سے جوڑنا درست نہیں ہوگا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK