• Wed, 28 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہندوستانی ٹرینوں میں رات ۱۱؍ بجے سے صبح۵؍ بجے تک چارجنگ پوائنٹس بند رکھنے کا فیصلہ

Updated: October 28, 2026, 6:06 PM IST | New Delhi

ٹرینوں میں موجود چارجنگ پوائنٹس کو رات ۱۱؍ بجے سے صبح ۵؍ بجے تک بند رکھنے کا انتظام کیا گیا ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد رات کے وقت برقی آلات کو چارج کرنے کے دوران پیدا ہونے والے ممکنہ آگ کے خطرات کو کم کرنا اور مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنانا بتایا جاتا ہے۔

Charging.Photo:INN
چارجنگ۔ تصویر:آئی این این

ہندوستانی  ریلوے میں سفر کرنے والے مسافروں کے لیے موبائل فون، لیپ ٹاپ اور دیگر برقی آلات چارج کرنے کی سہولت سے متعلق ایک اہم خبر سامنے آئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ٹرینوں میں موجود چارجنگ پوائنٹس کو رات ۱۱؍ بجے سے صبح ۵؍ بجے تک بند رکھنے کا انتظام کیا گیا ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد رات کے وقت برقی آلات کو چارج کرنے کے دوران پیدا ہونے والے ممکنہ آگ کے خطرات کو کم کرنا اور مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنانا بتایا جاتا ہے۔ریل گاڑیوں میں سفر کے دوران مسافر اپنے موبائل فون اور دیگر آلات کو چارج کرنے کے لیے نشستوں کے قریب نصب بجلی کے ساکٹ استعمال کرتے ہیں۔ تاہم، رات کے وقت مسافروں کے سو جانے کے بعد اگر کسی آلے، چارجر یا بیٹری میں خرابی کے باعث حد سے زیادہ حرارت پیدا ہو جائے تو فوری طور پر اس کا پتا لگانا مشکل ہو سکتا ہے۔ اسی لیے چارجنگ پوائنٹس کو مخصوص اوقات میں بند رکھنے کا انتظام حفاظتی اقدامات کے طور پر اہم سمجھا جاتا ہے۔۲۸؍اکتوبر ۲۰۲۶ء کو سامنے آنے والی تازہ اطلاعات کے مطابق، ہندوستانی ریلوے بورڈ نے تمام زونل ریلوے حکام کو ہدایت دی ہے کہ ٹرینوں کے ڈبوں میں موبائل فون چارج کرنے کے لیے نصب بجلی کے پوائنٹس رات ۱۱؍ بجے سے صبح ۵؍ بجے تک لازمی طور پر بند رکھے جائیں۔ حکام کو اس ہدایت پر سختی سے عمل کرانے اور کسی بھی قسم کی رعایت نہ دینے کے لیے کہا گیا ہے۔ ریلوے افسران اور نگران عملے کو اچانک معائنے کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے، تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ مقررہ وقت پر چارجنگ پوائنٹس کی بجلی بند کی جا رہی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:ایشین پیرا گیمز کے تین مرتبہ طلائی تمغہ جیتنے والے نیرج یادو نے خودکشی کی

تازہ ہدایات کے پس منظر میں ممبئی سے ہاؤڑہ جانے والی میل ٹرین میں پیش آنے والا واقعہ ہے۔ اطلاعات کے مطابق۲۵؍ اکتوبر کے آس پاس اوڈیشہ کے بندامونڈا علاقے کے قریب ٹرین کے اے سی ڈبے میں ایک مسافر کا پاور بینک چارجنگ کے دوران پھٹ گیا، جس سے ڈبے میں دھواں پھیل گیا اور فائر الارم بج اٹھا۔ ریلوے عملے نے صورتِ حال پر قابو پانے کے لیے کارروائی کی۔ دستیاب رپورٹوں کے مطابق، اس واقعے میں کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔ اس واقعے نے رات کے وقت چارجنگ پوائنٹس بند کرنے کی ہدایات پر عمل درآمد میں کوتاہی کے معاملے کو دوبارہ نمایاں کر دیا۔ 
اہم بات یہ ہے کہ رات ۱۱؍ بجے سے صبح۵؍ بجے تک چارجنگ پوائنٹس بند رکھنے کا اصول نیا نہیں ہے۔ ہندوستانی ریلوے بورڈ نے ۱۹؍ جون ۲۰۱۴ءکو بھی اس سلسلے میں ہدایات جاری کی تھیں۔ اس وقت بنگلورو سے حضرت صاحب ناندیڑ جانے والی ٹرین میں آگ لگنے کے واقعہ کے بعد ریلوے سیفٹی کمشنر کی سفارش پر یہ قدم اٹھایا گیا تھا۔ بعد ازاں مارچ ۲۰۲۱ء میں بھی ٹرینوں میں آگ لگنے کے خدشات کے پیش نظر اس ہدایت پر عمل درآمد کو دوبارہ سخت کرنے کی ضرورت محسوس کی گئی تھی۔ اب حالیہ  پاور بینک واقعہ کے بعد ریلوے بورڈ نے تمام زونل ریلوے کو پرانے ضابطے پر سختی سے عمل کرانے کی ہدایت دی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:ٹی وی سیریل ’’سی آئی ڈی ‘‘ کے پروڈیوسر بی پی سنگھ ۷۷؍ برس کی عمر میں انتقال کر گئے

ریلوے میں رات کے وقت سفر کرنے والے مسافروں کو چاہیے کہ وہ سفر شروع کرنے سے پہلے اپنے موبائل فون اور دیگر ضروری برقی آلات کو چارج کر لیں۔ رات ۱۱؍بجے سے صبح۵؍ بجے کے درمیان ڈبوں کے چارجنگ پوائنٹس بند ہونے کی وجہ سے اس دوران فون یا دیگر آلات چارج کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ مسافروں کو پاور بینک اور چارجر استعمال کرتے وقت بھی احتیاط کرنی چاہیے۔ خراب، غیر معیاری یا نقصان زدہ چارجر استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہیے اور چارجنگ کے دوران آلے میں غیر معمولی حرارت، دھواں یا کسی خرابی کی صورت میں فوری طور پر ریلوے عملے کو اطلاع دینی چاہیے۔مجموعی طور پر، ہندوستانی ریلوے کا یہ اقدام مسافروں کی حفاظت اور ٹرینوں میں آگ لگنے کے خطرے کو کم کرنے کے لیے ہے۔ تازہ ہدایات کا مقصد صرف پابندی کا اعلان کرنا نہیں بلکہ یہ یقینی بنانا بھی ہے کہ تمام متعلقہ ملازمین مقررہ وقت کے دوران چارجنگ پوائنٹس بند رکھنے کی ذمہ داری پوری کریں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK