امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ تمام متعلقہ دستاویزات میں اے آئی کی اصطلاح پر پابندی لگائیں گے، ساتھ ہی انہوں نے وال اسٹریٹ جرنل کواے آئی کے بجائے ’سپر انٹیلیجنس‘ استعمال نہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔
EPAPER
Updated: October 28, 2026, 6:05 PM IST | Washington
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ تمام متعلقہ دستاویزات میں اے آئی کی اصطلاح پر پابندی لگائیں گے، ساتھ ہی انہوں نے وال اسٹریٹ جرنل کواے آئی کے بجائے ’سپر انٹیلیجنس‘ استعمال نہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس بات پر ناراض ہیں کہ زیادہ لوگ مصنوعی ذہانت کو سپر انٹیلیجنس کے طور پکارے جانے کی ان کی تحریک میں شامل نہیں ہو رہے۔منگل کو ٹرمپ نے دی وال اسٹریٹ جرنل کو تنقید کا نشانہ بنایا، جس نے تقریباً ہر کسی کے ساتھ اس ٹیکنالوجی کو مصنوعی ذہانت، یا مختصراً اے آئی کہنا جاری رکھا ہوا ہے۔انہوں نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا، ‘‘وال اسٹریٹ جرنل کب مصنوعی ذہانت (AI)، جو ایک بہت برا اور غلط نام ہے، کوایس آئی (سپر انٹیلیجنس) کہنا شروع کرے گا، وہ نام جو عملی طور پر ہر کوئی استعمال کر رہا ہے، یا جلد ہی کرے گا۔‘‘ ٹرمپ نے کہا کہ ان کی انتظامیہ جلد ہی تمام متعلقہ دستاویزات میں اے آئی /آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی اصطلاح پر باضابطہ طور پر پابندی لگا دے گی۔
یہ بھی پڑھئے: ترکی کے ساحل سے دنیا کا قدیم ترین بحری جہازکا ملبہ برآمد
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ، جب سروے میں ظاہر ہوا کہ امریکی باشندوں کااے آئی کے بارے میں ملازمتوں کے ضیاع، ڈیٹا سینٹرز اور ماحولیاتی خدشات کی وجہ سے منفی نظریہ بڑھ رہا ہے، تو ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے جس میں امریکی وفاقی حکومت کو ’’سپر انٹیلیجنس‘‘ کی اصطلاح استعمال کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کی گئی۔بعد ازاں کئی امریکی ایجنسیوں نے جواب دیا اوراے آئی کے بجائے ایس آئی استعمال کرنا شروع کرنے کا وعدہ کیا، لیکن زیادہ تر ٹیکنالوجی کمپنیوں، ماہرین، تجزیہ کاروں، میڈیا آؤٹ لیٹس اور امریکہ سے باہر کی حکومتوں نے اے آئی کی اصطلاح استعمال کرنا جاری رکھا۔مزید برآں اکتوبر کے اوائل میں وہائٹ ہاؤس کی جانب سے واشنگٹن میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران، این ویڈیا کے چیف ایگزیکٹو جینسن ہوانگ اے آئی کا ذکر کرتے ہوئے خود کو بار بار درست کرتے رہے۔انہوں نے کہا، ’’جیسا کہ آپ جانتے ہیں ہم اے آئی کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں - معاف کیجیے، میرا مطلب ہےایس آئی۔ میں اس میں ماہر ہو جاؤں گا۔‘‘جبکہ حالیہ ہفتوں میں، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے بھی رائٹرز کو بتایا کہ وہائٹ ہاؤس کی درخواستوں کے باوجود وہ اے آئی کو جو کہتا ہے اسے تبدیل نہیں کرے گا۔
یہ بھی پڑھئے: یور مدر، یور مدر، یور مدر: ناقدین، ناظرین سے مثبت ریٹنگ، حدیث نبویؐ سے متاثر فلم
معنوی اصل اور الجھن
اے آئی تحقیق، جو کئی دہائیوں پر محیط ہے، پہلے سے ہی قائم شدہ فقروں کی ایک لمبی فہرست کی حامل ہے۔ٹرمپ کے کئی ماہ قبل ابتدائی طور پر نام کا اعلان کرنے کے فوراً بعد، ٹیکنالوجی ماہرین نے کہا کہ ’’ اے آئی سپر انٹیلیجنس‘‘ کالفظ پہلے سے ہی بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے۔اس کی تحقیق میں شامل افراد اکثر اس اصطلاح کو اس فرضی خیال کا حوالہ دیتے ہوئے استعمال کرتے ہیں کہ ٹیکنالوجی انتہائی ترقی یافتہ علمی افعال انجام دے سکتی ہے اور استدلال کی مہارتیں تیار کر سکتی ہے جو انسانوں سے آگے نکل جائیں گی۔تاہم ٹرمپ کی نئی اصطلاح کی کوشش کو کچھ حمایت بھی حاصل ہوئی ہے۔نیل چلسن، جو پہلی ٹرمپ انتظامیہ کے دوران فیڈرل ٹریڈ کمیشن کے چیف ٹیکنالوجسٹ تھے اور اب ایبونڈینس انسٹی ٹیوٹ میں اے آئی پالیسی کی قیادت کرتے ہیں، نے کہا کہ انہیں بھی ’’آرٹیفیشل انٹیلیجنس‘‘ کے فقرے سے نفرت ہے۔چلسن نے کمپیوٹر سائنسدان جان میکارتھی کے لیے لکھے گئے ایک تعزیتی مضمون کو اجاگر کیا، جو ۲۰۱۱ءمیں انتقال کر گئے تھے۔تعزیتی مضمون میں لکھا تھا، ’’میکارتھی کا اثر ڈارٹ ماؤتھ میں شروع ہوا، جہاں انہوں نے اس شعبے میں پہلی کانفرنس کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے’’آرٹیفیشل انٹیلیجنس‘‘ کی اصطلاح وضع کی، جو۱۹۵۶ء میں منعقد ہوئی، حالانکہ بعد میں انہوں نے خواہش کی کہ انہوں نے اس شعبے کا نام مختلف رکھا ہوتا -’’کمپیوٹیشنل انٹیلیجنس‘‘ زیادہ مناسب ہوتا، اگر کم پرکشش نہ ہوتا۔ چلسن نے ایکس پر پوسٹ کیا،’’جس سائنسدان نے آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی اصطلاح وضع کی اسے بھی اس اصطلاح پر افسوس تھا، لیکن ٹرمپ کے برعکس ان میں اسے تبدیل کرنے کی ضدنہیں تھی۔‘‘