• Sat, 24 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

عامر خان کا اعتراف:جنون کی حد تک کام کرنے کے باعث خاندان کو وقت نہیں دے سکا

Updated: October 23, 2026, 9:05 PM IST | Mumbai

سنگاپور انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں گفتگو کے دوران اداکار نے اعتراف کیا کہ انہوں نے اپنی زندگی کے تقریباً ۳۰؍ سال فلموں اور کام کو اس قدر اہمیت دی کہ خاندان اور بچوں کے ساتھ گزارنے کے قیمتی لمحات پیچھے رہ گئے۔

AAmir Khan.Photo:INN
عامر خان۔ تصویر:آئی این این

بالی ووڈ کے معروف اداکار عامر خان اپنی زندگی اور فلمی سفر کے ایک جذباتی پہلو پر بات کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے۔ سنگاپور انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں گفتگو کے دوران اداکار نے اعتراف کیا کہ انہوں نے اپنی زندگی کے تقریباً ۳۰؍ سال فلموں اور کام کو اس قدر اہمیت دی کہ خاندان اور بچوں کے ساتھ گزارنے کے قیمتی لمحات پیچھے رہ گئے۔ عامر خان نے کہا کہ ایک یا دو سال، بلکہ پانچ سال تک اپنے کام میں پوری طرح ڈوبے رہنا سمجھ میں آتا ہے، لیکن اگر یہی کیفیت تین دہائیوں تک جاری رہے تو اس کی قیمت رشتوں اور ذاتی زندگی کو چکانی پڑتی ہے۔ اپنی زندگی کے اس احساسِ محرومی کا ذکر کرتے ہوئے وہ اسٹیج پر اپنے آنسو نہ روک سکے، کچھ دیر رکے اور حاضرین سے معذرت بھی کی۔ ان کی گفتگو نے وہاں موجود لوگوں کو بھی جذباتی کردیا اور سامعین نے تالیاں بجا کر ان کی حوصلہ افزائی کی۔ عامر خان نے بتایا کہ کورونا وبا کے دوران جب انہیں تنہائی میں اپنی زندگی پر غور کرنے کا موقع ملا تو احساس ہوا کہ ان کی زندگی کے تقریباً ۳۰؍ سال گزر چکے ہیں۔ اس دوران ان کی توجہ زیادہ تر فلموں، اداکاری اور پیشہ ورانہ مصروفیات پر مرکوز رہی، جبکہ ان کے بچے بڑے ہوکر بالغ ہوگئے۔ اداکار کے مطابق، اس حقیقت نے انہیں گہرے احساسِ نقصان سے دوچار کیا، کیونکہ وقت گزرنے کے بعد خاندان کے ساتھ نہ گزارے گئے لمحات واپس نہیں لائے جاسکتے۔

یہ بھی پڑھئے:چین میں دھوم مچانے کو تیار مارول کی فلم ’’ایونجرز: ڈومز ڈے‘‘

انہوں نے اس بات پر بھی خوشی ظاہر کی کہ انہیں یہ احساس ۵۶؍ سال کی عمر میں ہوگیا، نہ کہ  ۸۶؍ سال کی عمر میں، جب شاید اپنی زندگی میں تبدیلی لانے کے مواقع بہت محدود رہ جاتے۔ عامر خان کے مطابق، اس احساس کے بعد انہوں نے گزشتہ چار برس سے اپنے خاندان اور قریبی دوستوں کے لیے باقاعدہ وقت نکالنے کی کوشش کی ہے۔  عامر خان بالی ووڈ میں اپنی سنجیدہ اداکاری، فلموں کے انتخاب اور کرداروں کے لیے غیر معمولی محنت کرنے کے حوالے سے پہچانے جاتے ہیں۔ تاہم، سنگاپور میں ہونے والی اس گفتگو کے دوران انہوں نے واضح کیا کہ پیشہ ورانہ کامیابی کے ساتھ زندگی کے دوسرے پہلوؤں کو بھی اہمیت دینا ضروری ہے۔ ان کے مطابق، کام سے غیر معمولی لگاؤ اگر طویل عرصے تک زندگی پر حاوی رہے تو اس کا اثر قریبی رشتوں پر پڑ سکتا ہے۔
ان کا یہ اعتراف اس لیے بھی اہم ہے کہ عامر خان نے اپنے فلمی سفر میں کئی یادگار کردار ادا کیے اور بطور اداکار و فلم ساز ہندی سنیما میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ لیکن ان کی حالیہ گفتگو نے ان کی زندگی کے اس پہلو کو سامنے لایا جس پر عموماً شہرت اور کامیابی کی چمک دمک میں کم بات ہوتی ہے: خاندان کے ساتھ وقت گزارنے اور ذاتی تعلقات کو برقرار رکھنے کی اہمیت۔   اس موقع پر عامر خان نے اپنے فلمی کریئر کے ابتدائی مشکل دور کا بھی ذکر کیا۔ ان کی  ۱۹۸۸ء میں ریلیز ہونے والی فلم ’قیامت سے قیامت تک‘ کامیاب رہی تھی، جس کے بعد انہوں نے محض چھ ماہ کے اندر نو فلمیں سائن کرلی تھیں۔ لیکن جب ان فلموں کی شوٹنگ شروع ہوئی تو انہیں احساس ہوا کہ انہوں نے ضرورت سے زیادہ کام اپنے ذمے لے لیا ہے۔
عامر خان کے مطابق، اس دور میں کئی فلمیں یکے بعد دیگرے ناکام ہوئیں اور انہیں ایک ایسی اداکاری کی شخصیت کے طور پر دیکھا جانے لگا جسے صرف ایک فلم کی کامیابی حاصل ہوئی تھی۔ وہ گھر واپس آکر اپنی اس وقت کی اہلیہ رینا دتہ کے سامنے رو پڑتے تھے۔ انہوں نے اس کیفیت کو ایسی دلدل سے تشبیہ دی جس میں انسان جتنا نکلنے کی کوشش کرتا ہے، اتنا ہی اندر دھنستا چلا جاتا ہے۔ یہ تجربہ ان کے لیے ذہنی اور جذباتی طور پر انتہائی مشکل تھا اور اس نے انہیں اپنے پیشہ ورانہ فیصلوں پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور کیا۔   

یہ بھی پڑھئے:بین اسٹوکس نے ایشیز میں واپسی کی خبروں کو گمراہ کن قرار دے دیا

عامر خان سنگاپور انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں شرکت کے دوران صرف اپنی ذاتی زندگی کے بارے میں گفتگو کے باعث ہی خبروں میں نہیں رہے، بلکہ انہیں یہاں اسکرین آئیکون ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ یہ اعزاز ہانگ کانگ کے معروف فلم ساز پیٹر چان ہو سن نے انہیں پیش کیا۔ ایوارڈ وصول کرتے ہوئے عامر خان نے فلم سازی کو ایک اجتماعی فن قرار دیا اور کہا کہ کسی فلم کی کامیابی میں بہت سے لوگوں کی محنت شامل ہوتی ہے۔  فیسٹیول میں ان کی فلم ’’لگان‘‘ کی ریلیز کے ۲۵؍ سال مکمل ہونے کے حوالے سے خصوصی نمائش بھی پروگرام کا حصہ تھی۔’ ’لگان‘‘ عامر خان کی بطور فلم ساز پہلی فلم تھی اور ہندوستانی سنیما کی نمایاں فلموں میں شمار ہوتی ہے۔ فیسٹیول کے دوران عامر خان سے ان کی مشہور فلم ’’تھری ایڈیٹس‘‘ کے دوسرے حصے کے بارے میں بھی سوال کیا گیا۔ اداکار نے بتایا کہ ہدایت کار راج کمار ہیرانی اس فلم کے لیے کہانی پر کام کررہے ہیں۔ عامر خان کے مطابق، انہیں امید ہے کہ وہ آئندہ چند ہفتوں میں واپسی کے بعد کہانی کا تازہ مسودہ سنیں گے۔ تاہم، انہوں نے فلم کی تیاری، شوٹنگ یا ریلیز کی حتمی تاریخ کے بارے میں کوئی تصدیق نہیں کی۔ راج کمار ہیرانی کی ہدایت کاری میں  ۲۰۰۹ء میں ریلیز ہونے والی ’’تھری ایڈیٹس‘‘ میں عامر خان کے ساتھ آر مادھون، شرمن جوشی اور کرینہ کپور خان نے اہم کردار ادا کیے تھے۔ یہ فلم تعلیم کے دباؤ، دوستی اور اپنی پسند کے شعبے میں آگے بڑھنے جیسے موضوعات کے باعث مقبول ہوئی تھی۔ عامر خان کی حالیہ گفتگو نے ایک بار پھر یہ سوال سامنے رکھا ہے کہ پیشہ ورانہ کامیابی اور ذاتی زندگی کے درمیان توازن کس قدر ضروری ہے۔ اداکار نے اپنی زندگی کے تجربات بیان کرتے ہوئے یہ اعتراف کیا کہ کام میں غیر معمولی محنت نے انہیں کامیابی تو دی، لیکن خاندان کے ساتھ گزارے جانے والے بعض قیمتی لمحات بھی چھین لیے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK