Updated: August 20, 2026, 8:03 PM IST
| Jalna
یونیسیف کے زیرِ اہتمام پروگرام کے تحت کھرانہ نے بچوں، نوعمر بچیوں اور برادری کے ارکان سے بات چیت کر کے یہ سمجھنے کی کوشش کی کہ کس طرح خاندان اور برادری پر مبنی دیکھ بھال کا نظام نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کے بچوں کو تعلیم، صحت، غذائیت اور نفسیاتی و سماجی تعاون سے جوڑنے میں مدد کر رہا ہے۔
آیوشمان کھرانہ۔ تصویر:آئی این این
یونیسیف انڈیا کے قومی سفیر اور اداکار آیوشمان کھرانہ نے مہاراشٹر کے ضلع جالنہ کا دورہ کر کے سیزنل مائیگریشن سے متاثرہ بچوں اور ان کے خاندانوں سے ملاقات کی اور بچوں کے محفوظ و مامون بچپن کی ضرورت پر زور دیا۔یونیسیف کے زیرِ اہتمام پروگرام کے تحت کھرانہ نے بچوں، نوعمر بچیوں اور برادری کے ارکان سے بات چیت کر کے یہ سمجھنے کی کوشش کی کہ کس طرح خاندان اور برادری پر مبنی دیکھ بھال کا نظام نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کے بچوں کو تعلیم، صحت، غذائیت اور نفسیاتی و سماجی تعاون سے جوڑنے میں مدد کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:کیا وِل اِسمتھ ’’رَاکا‘’ میں اللو ارجن کے مقابل ویلن بنیں گے
اس موقع پر آیوشمان کھرانہ نے کہا کہ مجبوری میں کی جانے والی موسمی نقل مکانی کئی خاندانوں کی تلخ حقیقت ہے، لیکن کسی بھی بچے کو اپنے حالات کی وجہ سے اپنا بچپن نہیں کھونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جالنہ میں انہوں نے دیکھا کہ برادری مل کر نقل مکانی سے متاثرہ بچوں کی حفاظت کر رہی ہے اور انہیں خاندان، دیکھ بھال اور تعاون سے جوڑے ہوئے ہے۔ کِن شپ کیئر نہ صرف بچوں کو محفوظ گھر فراہم کرتا ہے، بلکہ رشتوں کو برقرار رکھنے، اعتماد بڑھانے اور بہتر مستقبل کی امید پیدا کرنے میں بھی مدد کرتا ہے۔
انہوں نے نوجوان کمیونٹی لیڈروں اور بال متروں سے بھی ملاقات کی۔ کھرانہ نے کہا کہ بال متر بچوں کے حقوق، تحفظ اور بہبود کے لیے اہم کردار ادا کرتے ہیں اور بچوں کو اسکول میں برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ چائلڈ لیبر اور کم عمری کی شادی جیسے خطرات کو روکنے میں مدد کرتے ہیں۔ آیوشمان کھرانہ نے کہا کہ ہندستان میں بچوں کے تحفظ کے لیے مضبوط قوانین موجود ہیں، جن میں جوینائل جسٹس ایکٹ بھی شامل ہے، جس نے اس سال اپنے دس سال مکمل کیے ہیں۔ اب یہ یقینی بنانا ضروری ہے کہ ان حفاظتی تدابیر کا فائدہ ہر بچے اور خاندان تک پہنچے، خاص طور پر ان خاندانوں تک جو موسمی نقل مکانی کے چیلنجوں کا سامنا کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:ایم ایل ایس: انٹر میامی اور فلاڈیلفیا یونین کا میچ ۲۔۲؍گول پرختم
انہوں نے ۱۸؍ سالہ شلپا سے بھی ملاقات کی، جو پہلے اپنے خاندان کے ساتھ نقل مکانی کر چکی تھیں۔ اب انہوں نے اسکول کی تعلیم مکمل کر کے ایک پیشہ ورانہ کورس میں داخلہ لیا ہے۔ کھرانہ نے کہا کہ لڑکیوں کے خواب تبھی پورے ہو سکتے ہیں جب بچے تعلیم یافتہ، صحت مند اور محفوظ ماحول میں پروان چڑھیں۔
انہوں نے ایسے خاندان سے بھی ملاقات کی جو اپنے دو چھوٹے پوتے پوتیوں کی دیکھ بھال کر رہا ہے کیونکہ ان کے والد سیزنل کام کے لیے نقل مکانی کرتے ہیں۔ برادری اور بال متروں کے تعاون سے بچے اسکول میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور انہیں غذائیت اور ویکسینیشن جیسی سہولیات مل رہی ہیں۔