Inquilab Logo Happiest Places to Work

بابل خان خود اپنی شناخت قائم کرنے میں مصروف ہیں

Updated: May 16, 2026, 11:36 AM IST | Mumbai

بابل خان اُن نوجوان فنکاروں میں شمار کئے جاتے ہیں جنہوں نے فلمی دنیا میں قدم رکھتے ہی لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرلی۔

A thought-provoking young actor, Babil Khan. Photo: INN
ایک فکر انگیز نوجوان اداکار بابل خان۔ تصویر: آئی این این

بابل خان اُن نوجوان فنکاروں میں شمار کئے جاتے ہیں جنہوں نے فلمی دنیا میں قدم رکھتے ہی لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرلی۔ ان کی شناخت صرف اس وجہ سے نہیں بنی کہ وہ عظیم اداکار عرفان خان کےبیٹےہیں، بلکہ اس لیے بھی کہ ان کے اندر ایک حساس فنکار، ایک خاموش مزاج نوجوان موجود ہے اوران کے اندر والد کے فن و فکر کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ بالی ووڈ کی چکاچوند بھری دنیامیں جہاں اکثر اسٹار کڈز پر بھاری توقعات کا بوجھ ہوتا ہے، وہیں بابل خان نے اپنی الگ شخصیت بنانے کی کوشش کی ہے۔ ان کے چہرےپر اکثر ایک سنجیدگی، گفتگو میں ٹھہراؤ اور انداز میں ایک عجیب سی اداسی محسوس ہوتی ہے، شاید یہ اسی زندگی کا اثر ہے جس نے انہیں کم عمری میں ہی شہرت، جدائی اور ذمہ داری تینوں کا مطلب سکھادیا۔ 
بابل خان کی پیدائش ۱۵؍مئی ۱۹۹۸ءکوہوئی۔ ان کی والدہ ستاپا سکدرایک مصنفہ اور فلمی دنیا سے وابستہ شخصیت ہیں۔ بابل کا بچپن کسی عام فلمی خاندان کے بچوں جیسا نہیں تھا۔ ان کے والد عرفان خان شہرت کے باوجود نہایت سادہ زندگی پسند کرتے تھے۔ وہ اپنے بچوں کو فلمی دنیاکی مصنوعی چمک دمک سے دور رکھنا چاہتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ بابل کی شخصیت میں آج بھی ایک سادگی اور حقیقت پسندی نمایاں دکھائی دیتی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: تمل ناڈو: وزیراعلیٰ بننے کے بعد وجے نے ’’جنا نیائے گن‘‘ کی ریلیز خود سنبھال لی

۲۰۲۰ءمیں جب عرفان خان کا انتقال ہوا تو پورا ہندوستان غم میں ڈوب گیا۔ بابل خان اس وقت مسلسل خبروں اور سوشل میڈیا پر اپنے والد کے تعلق سے جذباتی پیغامات کی وجہ سے زیرِ بحث رہے۔ انہوں نےاپنے والد کے آخری ایام، ان کی بیماری اور ان کے ساتھ گزرے لمحوں کے بارے میں جس طرح کھل کر بات کی، اس نے لوگوں کے دلوں کو چھو لیا۔ ان کی تحریروں میں ایک بیٹے کی بے پناہ محبت اور جدائی کا درد صاف محسوس ہوتا تھا۔ 
فلمی دنیا میں قدم رکھنے سے پہلے بابل خان نے کیمرے کے پیچھے بھی کام کیا۔ وہ فلم سازی کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنا چاہتے تھے۔ بعد میں انہوں نے اداکاری کا رخ کیا۔ ان کی پہلی نمایاں فلم’قلعہ‘ تھی، جسے نیٹ فلکس پر ریلیز کیا گیا۔ اس فلم میں ان کے ساتھ ترپٹی ڈمری اورسواستیکا مکھرجی بھی نظر آئیں۔ ’قلعہ‘ ایک نفسیاتی اور جذباتی کہانی تھی، جس میں بابل نے نہایت خاموش مگر اثر انگیز انداز میں اداکاری کی۔ ناقدین نے کہا کہ ان کے چہرے کے تاثرات اور آنکھوں میں وہی گہرائی محسوس ہوتی ہے جو کبھی عرفان خان کی پہچان ہوا کرتی تھی۔ اس فلم کیلئے انہیں ’بیسٹ ڈبیبیو اداکار‘ کا آئیفا ایوارڈ ملا۔ اس کے علاوہ انہوں نے۲۰۲۳ء کی فلم ’فرائیڈے نائٹ پلان‘میں کام کیا جس میں انہوں نےجوہی چاولہ کے بیٹے سدھارتھ مینن کا کردارادا کیا۔ ۲۰۲۳ء ہی میں ان کی منی ویب سیریز ’دی ریلوے مین‘ بھی ریلیز ہوئی تھی جسے یش راج فلمز نے پروڈیوس کیا تھا۔ یہ سیریز بھوپال گیس سانحہ پر مبنی تھی۔ اس سیریزکوبہت سراہا گیا۔ ان کے لباس، گفتگو اور انداز میں بھی روایتی بالی ووڈ ہیرو والی چمک کم اور ایک فنکارانہ بے ساختگی زیادہ دکھائی دیتی ہے۔ کبھی وہ اپنے والد کی یاد میں پرانی تصاویر شیئر کرتے ہیں، کبھی شاعرانہ انداز میں زندگی کی بات کرتے ہیں اور کبھی اپنے جذبات چھپانے کے بجائے کھل کر بیان کردیتے ہیں۔ یہی بے ساختگی ان کی شناخت بنتی جارہی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK