Inquilab Logo Happiest Places to Work

تاریخ کی ایک کتاب میں کمال مولیٰ مسجد کا تذکرہ

Updated: May 16, 2026, 11:21 AM IST | Bhopal

مسجد کیلئے پتھر ہندو عمارتوں کے ملبوں سے حاصل شدہ ہیں جن کو چھپانے کی کوشش نہیں کی گئی۔ صاف ظاہر ہے کہ یہ ملبہ ان کے مالکان سے خرید کر مسجد میں استعمال کیا گیا ہوگا۔ آزادی سے پہلے ریزیڈنٹ اندور نے اس کو مسجد ہی مانا ہے۔

The premises of Kamal Moula Mosque, which was declared a `Saraswati Temple` by the Madhya Pradesh High Court on Friday. Photo: INN
کمال مولیٰ مسجد کا احاطہ جسے جمعہ کو مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے ’’سرسوتی مندر‘‘ قرار دے دیا ہے۔ تصویر: آئی این این

دھار شہر کے جنوب مغرب میں ایک قدیم عمارت حضرت مولانا کمال الدین چشتیؒ کے مقبرہ سے متصل ہے۔ اس کے ارد گرد قبرستان ہے۔ ۷۰۴ھ، مطابق ۱۲۰۵ء میں سلطان علاؤ الدین خلجی نے جب مالوہ فتح کیا اس وقت حضرت کمال کا یہاں قیام تھا۔ سلطان شیخ کے ارادت مندوں میں تھا۔ اس نے اپنی فتح کی خوشی میں اس مقام پر ایک عالی شان مسجد تعمیر کرنے کا حکم دیا جو دو سال کی مدت میں ۷۰۶ھ مطابق ۱۲۰۷ء میں بن کر تیار ہوئی۔ مسجد سے متصل ایک کنواں (کتاب میں عقل کنواں درج ہے)، احاطہ، دالان اور فرزندگان کے حجرے تعمیر کروائے۔ اتنی بڑی عمارت صرف دو سال کی قلیل مدت میں تعمیر کی گئی تھی اس لئے ایک صدی کے اندر ہی مرمت طلب ہوگئی۔ 
دلاور غوری (اس وقت کا مالوہ کا صوبیدار) نے ۷۹۵ھ مطابق ۹۳۔ ۱۲۹۲ء میں اس کی مرمت کروائی۔ مسجد کے دروازہ پر ایک کتبہ نصب کیا جس میں یہ تحریر ہے کہ ’’محمد شاہ تغلق کے صوبیدار دلاور خاں غوری نے دھار کی اس مسجد جامع کی مرت کروائی۔ ‘‘ 
مسجد کے مشرقی داخلی دروازہ میں راستہ کے دونوں طرف دالان ہیں اور شمالی و جنوبی دیوار کے ساتھ ساتھ دالان بھی ہیں۔ مسجد کی عمارت پوری سنگ سرخ کی بنی ہوئی ہے۔ درمیان میں بہت بڑا صحن ہے، جس کے بیچ میں حوض کے نشانات ہیں۔ مسجد کی اصل عمارت بہت وسیع اور شاندار ہے۔ درمیانی محراب میں سنگ موسیٰ (لغت کے مطابق سنگ موسیٰ ایک قسم کا سیاہ خوبصورت پتھر ہے۔ فیروز اللغات صفحہ ۸۵۹) نصب کیا گیا ہے۔ منبر و مقصورہ (امام کے کھڑے ہونے کی جگہ) بھی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ایک اور دھچکا، ایک اور بابری، دھار کی کمال مولیٰ مسجد بھی ’’ہاتھ سے نکلی‘‘

عمارت کا طرز تعمیر ہندوانہ ہے۔ چودھویں صدی میں جتنی عمارتیں تعمیر ہوئی ہیں وہ ہندو طرز کی ہیں جو مقامی کاریگروں نے بنائی تھیں۔ یہ کاریگرمحراب، قوسی چھتوں، گنبد و مینار کی تعمیر کے فن سے نا آشنا تھے۔ چودھویں اور پندرہویں صدی عیسوی کی تعمیرات میں ہندو اور ایرانی طرز تعمیر کی آمیزش سے ایک نیا طرز تعمیر ایجاد ہوا جو تغلق و پٹھان طرز تعمیر کہلاتا ہے۔ مغلیہ دور میں اس میں اور ترقی ہوئی اور سولہویں صدی میں نیا مغل طرز تعمیر ایجاد ہوا۔ 
اس مسجد میں پتھر کے ستونوں پر پتھر کے پاٹ یا سلیں رکھ کر ہموار چھت بنائی گئی ہے۔ صرف ایک گنبد مخروطی شکل کا ہے۔ مسجد کا پتھر ہندو عمارتوں کے ملبوں سے حاصل کیا گیا ہے جس کو چھپانے کی کوشش نہیں کی گئی ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ملبہ ان کے مالکان سے خرید کر مسجد میں استعمال کیا گیا ہوگا۔ مسجد میں سے سنسکرت اور پالی زبان کے کچھ پتھر برآمد ہوئے ہیں اور ستونوں پر ہندو آرٹ کی کندہ کاری ہے۔ 
ہندو مورخ اور دھار کے ہندو عوام اس جامع مسجد کو بھوج شالہ کا نام دیتے ہیں۔ دھار میونسپلٹی نے بھی بھوج شالہ کی تختی لگا رکھی ہے۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ یہ راجہ بھوج کی سنسکرت کی پاٹھ شالہ تھی جس کو مسلمان بادشاہوں نے مسجد بنادیا اور اس میں سرسوتی (علم کی دیوی) کی مورتی نصب تھی جو اَب لندن کے میوزیم میں ہے۔ یہ قضیہ دھار ریاست کے زمانہ سے ہی چل رہا ہے۔ آزادی سے پہلے ریزیڈنٹ اندور نے اس کو مسجد ہی مانا ہے۔ آزادی کے بعد یہ تنازع مرکزی حکومت ہند کے روبرو پیش ہوا۔ حکومت نے اس کو مسجد مان کر محکمۂ آثار قدیمہ کے تحفظ میں دے دیا ہے اور پنج وقتہ نماز پر پابندی لگا دی ہے، صرف جمعہ کی نماز یہاں ادا کی جاتی ہے۔ مسجد سیاحوں کے لئے روزانہ صبح ۸؍ بجے سے شام ۵؍ بجے تک کھلی رہتی ہے، بعد میں مقفل کردی جاتی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: سنجے راؤت کی پوسٹ سے مہایوتی میں تلملاہٹ

مسجد کے احاطے کے باہر ہر سال مولانا کمال الدین چشتیؒ کا عرس منعقد ہوتا ہے جس میں مالوہ کے سجادگان اور قرب و جوار کے بہت لوگ جمع ہوجاتے ہیں۔ عرس کی تقریبات پانچ دن تک جاری رہتی ہیں۔ یہ سلسلہ ۱۹۴۲ء سے جاری ہے اور روز بہ روز ترقی کررہا ہے۔ اس کے مقابلے میں ہندو عوام نے بھی بھوج دِوَس منانا شروع کردیا ہے جو بسنت پر منایا جاتا ہے۔ ایک دن سرسوتی کی مورتی مسجد کے منبر پر رکھ کر اس کی پوجا پولیس کی نگرانی میں کی جاتی ہے۔ یہ سلسلہ ۱۹۴۷ء کے بعد سے شروع ہوا۔ ایک عرصے سے یہ مہم جاری ہے کہ سرسوتی کی مورتی کو لندن عجائب خانہ سے حاصل کرکے اس مسجد میں نصب کیا جائے۔ 
اس مسجد کے مندر یا بھوج شالہ ہونے کے کوئی تاریخی شواہد موجود نہیں ہیں۔ جس بھوج شالہ کا ذکر آتا ہے وہ شہر سے جنوب کی سمت کَن تالاب کے کنارے پر تھی جس کے نشانات وہاں ملتے ہیں۔ دھار میں بھوج راجہ تین ہوئے ہیں۔ پہلا بھوج راجہ ۲ھ، مطابق ۶۲۴ء میں ہوا جس نے معجزۂ شق القمر دیکھا اور مسلمان ہوگیا تھا۔ بھوج دوم ۱۰۱۰ء سے ۱۰۵۵ء میں ہوا جو حضرت عبداللہ شاہؒ چنگال کے ہاتھ پر ایمان لایا اور عبداللہ نام رکھا۔ بھوج سوم کا عہد ۱۲۸۰ء سے علاؤ الدین خلجی کے مالوہ (دھار) فتح کرنے تک تھا۔ ان تینوں بھوج راجاؤں نے اس مقام پر کوئی پاٹھ شالہ نہیں بنائی تھی جس کو جامع مسجد میں تبدیل کیا گیا ہو۔ 
(کتاب: ’’مالوہ کی کہانی، تاریخ کی زبانی‘‘ صفحہ ۲۱۷؍ تا ۲۱۹۔ یہ کتاب ضیاء پبلی کیشنز، ندوہ روڈ ٹیگور مارگ، لکھنؤ کے زیر اہتمام ۱۹۹۵ء میں شائع ہوئی تھی۔ اس کے مصنف قاضی عبدالقدوس فاروقی دیپالپوری مدھیہ پردیش گورنمنٹ میں ڈپٹی ٹائریکٹر ایگریکلچر تھے) 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK