Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’میں حکومت ِکرناٹک اور دیگر شخصیات کی مشکور ہوں کہ انہوں نے ہمارا حق دلایا ‘‘

Updated: May 16, 2026, 9:46 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

خود کو ’’حجاب گرل ‘‘کہتے ہوئے فخر کرنے والی مسکان خان جو پھر سرخیوں میں ہیں، حکومت کرناٹک کے فیصلے سے خوش ہیں، وزیر اعلیٰ کا شکریہ ادا کیا۔

I remember this picture, when the miscreants tried to stop him, Muskan Khan raised the slogan of Takbir. Photo: INN
یاد ہے یہ تصویر، جب شر پسندوں نے روکنا چاہا تو مسکان خان نے نعرۂ تکبیر بلند کیاتھا۔ تصویر: آئی این این

کرناٹک کی حجاب پسند طالبہ مسکان خان ایک مرتبہ پھرسرخیوں میں ہیں۔ کرناٹک حکومت کے فیصلے پر انہوں نے خوشی کا اظہار کرنے کےساتھ اسے حکومت کا مثبت اورخوش آئند قدم قرار دیا اور اس تعلق سے ویڈیو بھی جاری کیا۔ اس وقت میڈیا کے نمائندے ان سےمسلسل رابطہ قائم کر رہے ہیں۔ واضح ہوکہ مسکان اب اپنی مذہبی شناخت اور حجاب کے ساتھ بی کام فائنل ایئرکا امتحان دیں گی، جو اُن کا دیرینہ خواب تھا۔ مسکان نے بتایا کہ ’’کرناٹک حکومت کی جانب سے ہم سب کو خوش خبری ملی۔ وہ اس طرح مخاطب کررہی ہیں ’’میں ہوں حجاب گرل مسکان خان۔ آگے وہ کہتی ہیں کہ آپ کو یاد ہوگا کہ ۲۰۲۲ء میں حجاب کا تنازع ہوا تو میں ہی نہیں بہت سی لڑکیاں اُڈپی اور منگلور وغیرہ کی، امتحان نہیں دے سکی تھیں اور انہوں نے اس تعلق سے احتجاج کیا تھا۔ اب کرناٹک حکومت نے ایک آفیشیل آرڈر پاس کیا ہے کہ جو بھی لڑکی حجاب پہننا چاہتی ہے وہ ایسا کرسکتی ہے، کالج جاسکتی ہے اور امتحان دے سکتی ہے۔ میں اپنے وزیراعلیٰ سدا رمیّا کا، ایجوکیشن منسٹرمدھو بنگا رپّا کا، رضوان اشرف سر کا، ضمیر احمدخان کا اوریوٹی قادر خان کا شکریہ ادا کرتی ہوں جو ہمارے ساتھ کھڑے ہوئے اور ہمیں اپنا حق دلایا۔ ‘‘ 

یہ بھی پڑھئے: کرناٹک کی حجاب پسند طالبہ مسکان کیا کر رہی ہیں؟

مسکان کے والد محمدح سین خان نے اس بات کا اعادہ کیا کہ انہوں نے اور ان کی ہونہار بیٹی نے جو کوشش کی تھی، اس میں کامیابی ملی اورسبھی طبقات کیلئے حکومت نے اپنے فیصلے سے آسانی پیدا کی ہے جس سےبالخصوص بچیوں کیلئے اعلیٰ تعلیم کا راستہ ہموار ہوا ہے، اب وہ بلا کسی رکاوٹ اورکسی کی رخنہ اندازی کے، اعلیٰ تعلیم حاصل کرسکیں گی۔ مسکان بھی اپنا بی کام کا امتحان پاس کرسکے گی۔ ‘‘مسکان کے والد کے مطابق ’’ ان چار برسوں میں ہماری بیٹی نے گھر پر رہتے ہوئے نہ صرف اپنی تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھیں بلکہ وہ سماجی خدمات کے حوالے سے بھی کوشاں رہی۔ انہوں نےبیدر میں جہیزکی لعنت کے خلاف چلائی جانے والی مہم کاتذکرہ کیا جس میں نمایاں طور پرمسکان نے اپنی نمائندگی درج کرائی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK