Updated: May 14, 2026, 8:59 PM IST
| Chennai
وجے نے تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے چند دن بعد اپنی متنازع فلم Jana Nayagan کی ریلیز کا معاملہ براہ راست اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق انہوں نے پروڈیوسر وینکیٹ کے نارائن کو کانز فلم فیسٹیول سے فوری طور پر چنئی واپس آنے کو کہا تاکہ فلم کی قانونی اور سینسر مسائل کو حل کیا جا سکے۔
اداکار وجے کی سیاسی کامیابی کے بعد اب ان کی فلمی دنیا سے جڑی سب سے بڑی خبر سامنے آئی ہے۔ تمل ناڈو کے نئے وزیر اعلیٰ بننے کے چند ہی دن بعد رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہوں نے اپنی متوقع فلم Jana Nayagan کی ریلیز کا معاملہ خود سنبھال لیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق وجے نے کے وی این پروڈکشنز کے پروڈیوسر وینکیٹ کے نارائن سے براہ راست رابطہ کیا، جو اس وقت Cannes Film Festival میں شرکت کے لیے فرانس میں موجود تھے۔ اداکار نے مبینہ طور پر انہیں فوری طور پر چنئی واپس آنے کو کہا تاکہ فلم کی ریلیز سے متعلق پیچیدہ معاملات کو حل کیا جا سکے۔ یہ فلم اصل میں ۹؍ جنوری ۲۰۲۶ء کو ریلیز ہونے والی تھی اور اسے وجے کی سیاست میں مکمل داخلے سے پہلے آخری فلم کے طور پر پیش کیا جا رہا تھا۔ تاہم، فلم کو سینسر سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے معاملے پر سینسر بورڈ کے ساتھ تنازع کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد اس کی ریلیز مسلسل تاخیر کا شکار رہی۔ رپورٹس کے مطابق، فلم کئی ہفتوں سے نظرثانی کمیٹی کے پاس زیر غور ہے اور اب نئی کوششیں مطلوبہ منظوری حاصل کرنے کے لیے تیز کر دی گئی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جیسے ہی قانونی اور سرٹیفکیشن کے تمام مراحل مکمل ہوں گے، میکرز فوری طور پر نئی ریلیز حکمت عملی پر کام شروع کریں گے۔ ایچ وینوتھ کی ہدایت کاری میں بننے والی اس ایکشن تھریلر میں ممیتھا بائیجو، پوجا ہیگڑے اور بوبی دیول بھی اہم کرداروں میں نظر آئیں گے۔
یہ بھی پڑھئے : کانز ۲۰۲۶ء: پال واکر کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ون ڈیزل آبدیدہ
تقریباً ۵۰۰؍ کروڑ روپے کے بجٹ کے ساتھ بننے والی ’’جنا نیائے گن‘‘ کو تمل سنیما کی مہنگی ترین فلموں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ فلم نہ صرف اپنے بڑے پیمانے کی وجہ سے خبروں میں رہی بلکہ اسے ہندوستانی فلم انڈسٹری کے سب سے بڑے قانونی تنازعات میں سے ایک بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ فلم کے میکرز نے مبینہ طور پر سینسر بورڈ کے خلاف قانونی کارروائی بھی کی تھی۔ اس کے بعد مختلف سماعتیں ہوئیں، لیکن اب تک فلم کو باضابطہ کلیئرنس نہیں مل سکی۔ تنازع اس وقت مزید بڑھ گیا جب اپریل ۲۰۲۶ء میں فلم کے کچھ حصے آن لائن لیک ہو گئے اور سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہونے لگے۔ تاہم، کاپی رائٹ شکایات اور فوری قانونی کارروائی کے بعد لیک شدہ مواد کو انٹرنیٹ سے ہٹا دیا گیا۔
فلمی مبصرین کا کہنا ہے کہ وجے کے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد اس پروجیکٹ کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے کیونکہ یہ ان کے فلمی کریئر اور سیاسی سفر کے درمیان ایک علامتی پل سمجھی جا رہی ہے۔ فی الحال، ’’جنا نیائے گن‘‘ کی نئی ریلیز تاریخ کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا، لیکن انڈسٹری ذرائع کا ماننا ہے کہ اگلے چند ہفتوں میں اس حوالے سے بڑی پیش رفت سامنے آ سکتی ہے۔