Updated: August 28, 2026, 12:58 PM IST
| Tehran
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے ایران پر بیرونِ ملک خطیر رقم خرچ کرنے کے الزام پر شدید ردعمل دیتے ہوئے واشنگٹن کو اپنے عوام کی ضروریات پر توجہ دینے کا مشورہ دیا ہے، قالیباف نے امریکی حکومت کے اسرائیل اور بیرونِ ملک فوجی اڈوں پر اخراجات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو اربوں ڈالر اپنے شہریوں پر خرچ کرنے چاہئیں۔
محمد علی باقر قالیباف۔ تصویر: آئی این این
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے جمعرات کو امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا، جب انہوں نے ایران پر الزام عائد کیا کہ وہ بیرونِ ملک خطیر رقم خرچ کر رہا ہے جبکہ ایرانی عوام اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں قالیباف نے کہا کہ واشنگٹن کو اربوں ڈالر بیرونِ ملک اتحادیوں اور فوجی اڈوں پر خرچ کرنے کے بجائے اپنے شہریوں پر خرچ کرنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا، ’’اس ناکام سلطنت کو چاہیے کہ اپنے دہشت گرد پراکسی، اسرائیل، اور ۷۵۰؍ فوجی اڈوں پر اربوں ڈالر خرچ کرنے کے بجائے یہی رقم اپنے عوام پر خرچ کرے، لیکن نہیں، ایسا کرنا اس حکومت کے لیے شاید بہت زیادہ منطقی بات ہوگی۔‘‘ بیسنٹ کو مخاطب کرتے ہوئے قالیباف نے کہا، ’’سکوٹی، آپ کی ساکھ داؤ پر لگی ہوئی ہے، کچھ کریں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: نیپال میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتوں کی تعداد ۴۶۹؍ ہوگئی، ریسکیو ابھی تک جاری
قالیباف کا یہ بیان بیسنٹ کی ایک پوسٹ کے ردعمل میں سامنے آیا، جس میں امریکی وزیرِ خزانہ نے ایرانی حکومت پر بیرونِ ملک بڑی مقدار میں رقم ضائع کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ بیسنٹ نے کہا تھا، ’’جبکہ ایرانی عوام بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے مشکلات سے دوچار ہیں، بدعنوان حکومت بیرونِ ملک خطیر رقم ضائع کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’حکومت کو اپنے دہشت گرد پراکسیز کو اربوں ڈالر فراہم کرنے کے بجائے یہ رقم اپنے عوام پر خرچ کرنی چاہیے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: نسل کشی کا مجرم ’بوسنیا کا قصاب‘ راتکوملادیچ کا ۸۴؍ برس کی عمر میں انتقال کر گیا
جون میں ایران اور امریکا نے پاکستان اور قطر کی ثالثی میں اسلام آباد میں ۱۴؍ نکاتی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے میں فروری کے اواخر میں امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر کیے گئے حملوں کے نتیجے میں شروع ہونے والی دشمنی کے خاتمے، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے، امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے اور ۶۰؍ روزہ مذاکراتی عمل شروع کرنے سے متعلق نکات شامل تھے۔ تہران کا الزام ہے کہ امریکہ نے مفاہمتی یادداشت کی اہم شقوں پر عمل درآمد نہیں کیا۔ ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے اپنے وعدے پورے کیے جانے تک آبنائے ہرمز مکمل طور پر نہیں کھولی جائے گی۔