Inquilab Logo Happiest Places to Work

نیپال میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتوں کی تعداد ۴۶۹؍ ہوگئی، ریسکیو ابھی تک جاری

Updated: August 28, 2026, 12:02 PM IST | Kathmandu

نیپال میں ۲۶؍ اگست کو آنے والے تباہ کن سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی، سیلاب اور ملبے کے باعث ہلاکتوں کی تعداد ۴۶۹؍ تک پہنچ گئی جبکہ تقریباً ایک ہزار افراد اب بھی لاپتہ ہیں، ریسکیو ٹیموں نے ایک ہزار ۵۴۵؍ افراد کو بچا لیا ہے اور متاثرہ علاقوں میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے۔

Nepal floods. Photo: INN
نیپال سیلاب۔ تصویر: آئی این این

نیپال میں بدھ، ۲۶؍ اگست کو آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد ہلاکتوں کی تعداد ۴۶۹؍ تک پہنچ گئی ہے، جبکہ تقریباً ایک ہزار افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ نیپال پولیس کے مطابق ریسکیو ٹیمیں شمالی اور وسطی علاقوں میں دریائے بھوٹے کوشی اور تریشولی کے کنارے ملبے میں زندہ بچ جانے والوں اور لاپتا افراد کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہ قدرتی آفت نیپال اور تبت کی سرحد کے قریب شروع ہوئی، جہاں شدید سیلابی ریلے نے پانی کے ساتھ چٹانیں، برف، کیچڑ اور ملبہ اپنے ساتھ بہا لیا۔ سیلاب نے کئی دیہات، سڑکوں، پلوں اور بجلی کے منصوبوں کو شدید نقصان پہنچایا، جبکہ متعدد علاقے ملک کے دوسرے حصوں سے کٹ گئے ہیں۔ متاثرہ راستہ کھٹمنڈو کو تبت کے لہاسا سے ملانے والی اہم شاہراہ بھی ہے اور یہاں بڑی تعداد میں سیاح، ٹریکرز اور مذہبی زائرین سفر کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: کین بیتوا ریوَر لنک پروجیکٹ کے خلاف قبائلی برادری آخراحتجاج کیوں کررہی ہے؟

نیپال پولیس کے مطابق ایک ہزار ۵۴۵؍ افراد کو اب تک بچایا جا چکا ہے، جبکہ ۴؍ ہزار ۳۴۸؍ اہلکار امدادی اور سرچ آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ چٹوان میں سب سے زیادہ ۱۷۸؍ لاشیں ملی ہیں، جبکہ نوال پرسی مشرقی علاقے میں ۱۱۰؍، گورکھا میں ۴۴؍، نواکوٹ میں ۳۷؍ اور دھادنگ میں ۳۳؍ لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ لاپتہ افراد میں غیر ملکی شہری بھی بڑی تعداد میں شامل ہیں۔ رائٹرز کے مطابق نیپال اور پڑوسی تبت میں تقریباً ایک ہزار افراد لاپتا ہیں، جن میں کم از کم ۵۴۰؍ غیر ملکی شامل ہیں۔ بھارتی شہریوں کی بھی بڑی تعداد کے بارے میں معلومات نہیں مل سکی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ایران پر نئی معاشی پابندیوں کا دباؤ، تہران نے کہا وہ یہ دباؤ برداشت کر سکتا ہے

ریسکیو کارروائیوں کے دوران ایک اور خطرہ بھی پیدا ہوگیا ہے۔ ملبے کے باعث دریاؤں کے راستے میں مصنوعی جھیلیں بننے سے حکام کو خدشہ ہے کہ اگر پانی کی سطح مزید بلند ہوئی تو دوبارہ اچانک سیلاب آسکتا ہے۔ حکام نے متاثرہ علاقوں میں نگرانی بڑھا دی ہے اور ہیلی کاپٹروں، بھاری مشینری اور سرچ ڈاگز کے ذریعے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ تاہم تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ نیپال میں ۴۶۹؍ افراد ہلاک، تقریباً ایک ہزار لاپتہ اور ایک ہزار ۵۴۵؍ افراد ریسکیو کیے جا چکے ہیں۔ امدادی کارروائیاں تاحال جاری ہیں اور ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK