Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’بٹوارہ ۱۹۴۷ء‘‘ نے مجھے ۱۹۴۷ء کی خواتین کی حقیقت دکھائی : پریتی زنٹا

Updated: August 07, 2026, 5:02 PM IST | Mumbai

بالی ووڈ اداکارہ پریتی زنٹا نے انکشاف کیا ہے کہ وہ گزشتہ کئی برسوں سے فلموں سے دور اپنی فیملی کے ساتھ امریکہ میں زندگی گزار رہی تھیں، لیکن عامر خان اور ہدایت کار راج کمار سنتوشی کی پیشکش نے انہیں دوبارہ بالی ووڈ میں واپسی پر آمادہ کر دیا۔

Preity Zinta. Photo: INN
پریتی زنٹا۔ تصویر:آئی این این

اداکارہ  پریتی زنٹا  نے انکشاف کیا ہے کہ وہ گزشتہ کئی برسوں سے فلموں سے دور اپنی فیملی کے ساتھ امریکہ میں زندگی گزار رہی تھیں، لیکن  عامر خان  اور ہدایت کار راج کمار سنتوشی  کی پیشکش نے انہیں دوبارہ بالی ووڈ میں واپسی پر آمادہ کر دیا۔پریتی زنٹا نے بتایا کہ وہ لاس اینجلس میں اپنے شوہر  جین گڈاینف  اور جڑواں بچوں کے ساتھ خوشگوار زندگی گزار رہی تھیں اور کسی نئی فلم میں کام کرنے کا ارادہ نہیں تھا  تاہم عامر خان نے جب راج کمار سنتوشی کی فلم ’’بٹوارہ ۱۹۴۷ء کی کہانی سننے کی پیشکش کی تو وہ انکار نہ کر سکیں۔انہوں نے کہا کہ سنتوشی نے زوم کال پر فلم کی کہانی سنائی اور آخری مکالمہ ختم ہوتے ہی انہوں نے فوراً فلم کے لیے ہامی بھر لی۔

یہ بھی پڑھئے:ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ پوائنٹس ٹیبل: پاکستان کی فتح سے ایک درجے کی ترقی


 پہلے ہی دن مشکل منظر کی شوٹنگ 
پریتی نے بتایا کہ آٹھ سال بعد فلمی سیٹ پر واپسی ان کے لیے آسان نہیں تھی۔ ممبئی پہنچتے ہی ان کا لک ٹیسٹ ہوا اور اگلے ہی دن شوٹنگ شروع ہوگئی۔ انہوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ راج کمار سنتوشی نے پہلے ہی دن فلم کا سب سے مشکل سین شوٹ کروا دیا، جس سے وہ کافی گھبرا گئی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ ساتھی اداکار سنی دیول  نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور کہا کہ پریشان نہ ہوں، سب ٹھیک ہو جائے گا۔
۱۹۴۷ءمیں عورت کا صرف ایک ہی کریئر تھا 
پریتی زنٹا نے بتایا کہ وہ ہمیشہ ایک تاریخی فلم میں کام کرنا چاہتی تھیں اور سمجھتی تھیں کہ اس دور کے خوبصورت لباس اور ماحول کا تجربہ دلچسپ ہوگا، لیکن شوٹنگ کے دوران انہیں اس زمانے کی خواتین کی زندگی کی سخت حقیقت کا احساس ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ جب بھی وہ راج کمار سنتوشی سے پوچھتیں کہ اگلے منظر میں کیا کرنا ہے تو وہ کہتے:  ’’پریتی، کھانا بناؤ۔اب صفائی کرو۔ ‘‘ پریتی نے کہا کہ ایک دن انہوں نے مزاحیہ احتجاج کیا تو سنتوشی نے جواب دیا’’یہ ۱۹۴۷ء ہے۔ اگر کوئی کریئر ہو سکتا تھا تو صرف آزادی کی جدوجہد کا۔ اس کے علاوہ عورت کا کریئر اس کا شوہر، بچے اور گھر ہی تھے۔ 
خاندان میری پہلی ترجیح ہے
 پریتی زنٹا نے بتایا کہ اداکاری سے آٹھ سال کے وقفے کے دوران انہیں فلموں کی کمی محسوس نہیں ہوئی کیونکہ وہ اپنی ذاتی زندگی اور بچوں کی پرورش میں مصروف تھیں۔ ان کے مطابق’’میرے لیے سب سے بڑی کامیابی فلمی کریئر نہیں بلکہ اپنا خاندان اور بچے ہیں۔ اسی لیے میں’’بٹوارہ ۱۹۴۷ء‘‘کے کردار سے گہرائی سے جڑ سکی، کیونکہ آج بھی میری پہلی ترجیح میرا خاندان ہے۔ 
بالی ووڈ اداکارہ  پریتی زنٹا  نے اپنی آنے والی فلم ’’بٹوارہ۱۹۴۷ء‘‘ میں اپنے کردار کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ تقسیمِ ہند کے دور میں خواتین کی زندگی آج کی طرح آزاد نہیں تھی، اسی لیے ان کے کردار کی دنیا صرف گھر اور خاندان تک محدود ہے۔ایک حالیہ انٹرویو میں پریتی زنٹا نے کہا کہ فلم میں ان کا کردار حمیدہ  ایک گھریلو خاتون کا ہے، جو کھانا پکاتی ہے، گھر سنبھالتی ہے اور اپنے خاندان کی دیکھ بھال کرتی ہے۔ انہوں نے کہا’’اس زمانے میں خواتین کا کوئی پیشہ ورانہ کریئر نہیں ہوتا تھا۔ ان کے پاس زیادہ تر کوئی انتخاب بھی نہیں تھا، وہ صرف گھر اور خاندان کی ذمہ داریاں نبھاتی تھیں۔ 
اداکارہ نے بتایا کہ ماں بننے کے بعد وہ اس کردار سے پہلے سے زیادہ جذباتی طور پر جڑ سکیں۔ ان کے مطابق جب وہ اپنے بچوں کی معمولی ضروریات پر بھی پریشان ہو جاتی ہیں تو وہ تصور کرتی تھیں کہ تقسیمِ ہند کے دوران ماؤں نے کس قدر مشکل حالات کا سامنا کیا ہوگا۔ یہی احساس ان کی اداکاری میں بھی نظر آئے گا۔ 

یہ بھی پڑھئے:جوس بٹلر ٹی۲۰؍ کرکٹ میں سب سے زیادہ رن بنانے والے بلے باز بن گئے


پریتی زنٹا نے کہا کہ ’’بٹوارہ ۱۹۴۷ء‘‘ صرف ایک تاریخی فلم نہیں بلکہ ان خواتین کی ہمت، قربانی اور استقامت کی کہانی ہے، جنہوں نے ہجرت، تشدد اور بے یقینی کے باوجود اپنے خاندانوں کو سنبھالے رکھا۔  راج کمار سنتوشی کی ہدایت کاری میں بننے والی اس فلم میں  سنی دیول  مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں، جبکہ  شبانہ اعظمی، علی فضل، کرن دیول  اور دیگر فنکار بھی اہم کرداروں میں نظر آئیں گے۔ یہ فلم تقسیمِ ہند کے پس منظر میں انسانی رشتوں، قربانیوں اور امید کی کہانی پیش کرے گی۔ 
 انٹرویو میں پریتی زنٹا نے بتایا کہ فلم میں ان کا کردار ایک ایسی خاتون کا ہے جو صرف  کھانا پکاتی ہے، گھر کی صفائی کرتی ہے اور اپنے خاندان کی دیکھ بھال کرتی ہے۔  انہوں نے کہا’’اس زمانے میں خواتین کا کوئی کریئر نہیں ہوتا تھا۔ ان کی زندگی کا مرکز صرف گھر اور خاندان تھا اور میں نے اسی حقیقت کو اپنے کردار میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ ‘‘اداکارہ نے کہا کہ اس کردار کو نبھاتے ہوئے انہیں تقسیمِ ہند کے دور میں خواتین کی قربانیوں اور مشکلات کا گہرا احساس ہوا۔ ان کے مطابق اُس وقت لاکھوں خواتین نے انتہائی کٹھن حالات میں بھی اپنے خاندانوں کو سنبھالا اور ہر مشکل کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔
راج کمار سنتوشی کی ہدایت کاری میں بننے والی ’’بٹوارہ ۱۹۴۷ء‘‘ تقسیمِ ہند کے پس منظر پر مبنی ایک تاریخی فلم ہے، جس میں  سنی دیول ،  پریتی زنٹا ،  علی فضل ،  شبانہ اعظمی  اور دیگر فنکار اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ فلم میں تقسیم کے دوران عام خاندانوں، خصوصاً خواتین کی جدوجہد، قربانی اور حوصلے کو اجاگر کیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK