ہندوستان کے مینوفیکچرنگ شعبے نے ستمبر ۲۰۲۶ء میں تین ماہ کی سست روی کے بعد مضبوط واپسی کی ہے۔ ایچ ایس بی انڈیا مینوفیکچرنگ پرچیزنگ منیجر انڈیکس (پی ایم آئی )اگست کے ۵۲ء۸ سے بڑھ کر ستمبر میں ۵۵ء۱ ہوگیا، جو سات ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔
EPAPER
Updated: October 01, 2026, 7:04 PM IST | New Delhi
ہندوستان کے مینوفیکچرنگ شعبے نے ستمبر ۲۰۲۶ء میں تین ماہ کی سست روی کے بعد مضبوط واپسی کی ہے۔ ایچ ایس بی انڈیا مینوفیکچرنگ پرچیزنگ منیجر انڈیکس (پی ایم آئی )اگست کے ۵۲ء۸ سے بڑھ کر ستمبر میں ۵۵ء۱ ہوگیا، جو سات ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔
ہندوستان کے مینوفیکچرنگ شعبے نے ستمبر ۲۰۲۶ء میں تین ماہ کی سست روی کے بعد مضبوط واپسی کی ہے۔ ایچ ایس بی انڈیا مینوفیکچرنگ پرچیزنگ منیجر انڈیکس (پی ایم آئی )اگست کے ۵۲ء۸ سے بڑھ کر ستمبر میں ۵۵ء۱ ہوگیا، جو سات ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔ ۵۰؍ سے زیادہ پی ایم آئی مینوفیکچرنگ سرگرمی میں توسیع کی نشاندہی کرتا ہے، جبکہ ستمبر کی شرح فروری ۲۰۲۶ء کے بعد سب سے مضبوط بہتری کو ظاہر کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ستمبر میں مینوفیکچرنگ سرگرمی میں بہتری کی بنیادی وجہ نئے آرڈرز اور پیداوار میں تیز اضافہ رہی۔ الیکٹرانکس، خوراک، ادویہ سازی اور ٹیکسٹائل مصنوعات کی مضبوط طلب نے نئے کاروباری آرڈرز کو سہارا دیا۔ مجموعی فروخت میں اضافہ بھی فروری کے بعد سب سے تیز رہا۔ اس کے علاوہ برآمدی آرڈرز میں بھی تیزی دیکھی گئی اور کمپنیوں نے برازیل، یورپ، متحدہ عرب امارات اور امریکا کے صارفین سے زیادہ طلب کی اطلاع دی۔
یہ بھی پڑھئے:ایشین گیمز:ابھیشیک کے گول سے ہندوستان نے ہاکی کے فائنل میں جگہ بنائی
زیادہ مضبوط طلب کا براہِ راست اثر فیکٹری پیداوار پر بھی پڑا۔ ستمبر میں ہندوستانی مینوفیکچرنگ پیداوار میں اضافے کی رفتار چار ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ رپورٹ کے مطابق نئے کاروباری آرڈرز اور مارکیٹ میں بہتر طلب نے کمپنیوں کو پیداوار بڑھانے کی ترغیب دی۔ اشیا کی مختلف اقسام میں انٹرمیڈیٹ گُڈزکا شعبہ سب سے بہتر کارکردگی دکھانے والا رہا، جبکہ کیپٹل گُڈزمیں اضافہ نسبتاً محدود رہا۔
مینوفیکچرنگ شعبے کی بحالی کا اثر روزگار پر بھی نظر آیا۔ اگست میں فیکٹری ملازمتوں میں کمی کے بعد ستمبر میں کمپنیوں نے دوبارہ بھرتیاں شروع کیں اور ایمپلائمنٹ گروتھ کی رفتار مئی ۲۰۲۶ء کے بعد سب سے تیز رہی۔ رپورٹ کے مطابق بڑھتی ہوئی طلب، نئے آرڈرز اور پیداوار میں اضافے نے کمپنیوں کو اضافی افرادی قوت رکھنے کی ترغیب دی۔ زیادہ آرڈرز اور مستقبل میں مزید فروخت کی توقع کے باعث مینوفیکچرنگ کمپنیوں نے خام مال اور دیگر پیداواری اشیا کی خریداری بھی بڑھا دی۔ ستمبر میں خریداری کی رفتار اگست کے مقابلے میں تیز رہی، جبکہ خریدے گئے خام مال کے ذخائر میں اضافہ سات ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ تیار شدہ مصنوعات کے اسٹاک میں بھی مسلسل تیسرے ماہ اضافہ ہوا اور اس میں اضافے کی رفتار تقریباً ساڑھے ۱۱؍ سال میں دوسری سب سے تیز رہی۔
مینوفیکچرنگ کمپنیوں کے مستقبل سے متعلق اعتماد میں بھی بہتری آئی۔ ستمبر میں آئندہ ۱۲؍ ماہ کی پیداوار کے بارے میں کاروباری توقعات چار ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ کمپنیوں نے نئے کاروباری استفسارات، آرڈرز کی پائپ لائن اور مستقبل میں طلب کے بہتر رہنے کی توقع کو اعتماد میں اضافے کی اہم وجوہات قرار دیا۔ اگرچہ مجموعی طور پر مینوفیکچرنگ شعبے کی کارکردگی مضبوط رہی، لیکن کمپنیوں کو لاگت کے محاذ پر کچھ دباؤ کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ الیکٹرانک پرزوں، ادویہ سازی سے متعلق اشیا اور اسٹیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث اِن پُٹ کاسٹ میں افراطِ زر کی رفتار اگست کے مقابلے میں بڑھی۔ تاہم، رپورٹ کے مطابق لاگت میں اضافہ اب بھی طویل مدتی اوسط سے کم رہا۔ کمپنیوں نے اپنی فروخت کی قیمتوں میں بھی اضافہ کیا، لیکن قیمتوں میں اضافے کی رفتار نسبتاً محدود رہی۔
یہ بھی پڑھئے:اجے دیوگن نے ’’درِیشیم: دی کنکلوژن‘‘ کے لیے موہن لال کی منظوری طلب کی
ستمبر میں مضبوط بہتری کے باوجود مالی سال ۲۷۔۲۰۲۶ء کی دوسری سہ ماہی، یعنی جولائی سے ستمبر کے دوران مینوفیکچرنگ پی ایم آئی کا اوسط ۵۳ء۸ رہا۔ یہ ۲۰۲۱ء کے بعد کسی دوسری سہ ماہی کا سب سے کم اوسط ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ستمبر کی تیز بحالی کے باوجود سہ ماہی کی مجموعی کارکردگی پر پہلے کے کمزور مہینوں کا اثر برقرار رہا۔مجموعی طور پر ستمبر کے اعداد و شمار ہندوستانی مینوفیکچرنگ شعبے میں طلب، پیداوار، نئے آرڈرز اور روزگار کی بحالی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ پی ایم آئی کا ۵۵ء۱ تک پہنچنا، نئے آرڈرز میں تیزی، برآمدی طلب میں اضافہ اور روزگار میں بہتری آنے والے مہینوں میں صنعتی سرگرمی کے لیے اہم اشارے سمجھے جا رہے ہیں، اگرچہ خام مال کی قیمتوں اور عالمی طلب سے متعلق خطرات اب بھی موجود ہیں۔