Updated: October 01, 2026, 7:02 PM IST
| Washington
امریکی ریاست ٹینیسی میں کرسٹا پائیک کی سزائے موت میں ڈرامائی موڑ اس وقت آیا جب قاتلہ کرسٹا پائیک دو جان لیوا انجیکشن کے بعد بھی بچ گئی اور بدھ کی رات دیر گئے اسے اسپتال لے جایا گیا، پائیک ۲۰۰؍سال سے زیادہ عرصے میں ریاست میں سزائے موت پانے والی پہلی خاتون ہونے والی تھی۔
امریکی ریاست ٹینیسی کا محکمہ کرسٹا پائیک کو پھانسی دینے کی اپنی کوشش میں ناکام رہا ہے،پائیک کو دو جان لیوا انجیکشن دئے گئے ،تاہم اس کی طبیعت بگڑنے کے بعد اسے اسپتال میں داخل کیا گیاہے،۵۰؍ سالہ پائیک کو عدالت کی جانب سے سزائے موت کے آخری حکم امتناعی کو ختم کرنے کے بعد۲۰۶؍ سالوں میں ریاست میں سزائے موت پانے والی پہلی خاتون ہونا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کا بچنا غیر معمولی ہے۔
حکام نے پائیک کو دو بار پینٹوباربیٹل دیا، لیکن بعد میں اسے خراٹے لیتے ہوئے سنا گیا۔ گواہوں کا کہنا ہے کہ کارروائی روکے جانے اور انہیں جانے کے لیے کہنے سے پہلے سزائے موت کے کمرے کا پردہ دو الگ الگ مواقع پر کھینچا اور دوبارہ کھولا گیا۔واضح رہے کہ سزائے موت کی کوشش نیش ویل میں ریوربینڈ میکسیمم سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن میں مقامی وقت کے مطابق رات۸؍ بجے کے قریب ہوئی۔
یہ بھی پڑھئے: سنگاپور: مگرمچھ کی اے آئی سے بنی جعلی تصویر شیئر کرنے پر پر ایک شخص کو ۱۰ سال تک قید کا سامنا
پائیک کو۱۹۹۵ء میں کولین سلیمر کے قتل کے لیے سزائے موت دی جا رہی تھی، جو ایک ساتھی طالبہ تھی جسے اس نے۱۸؍ سال کی عمر میں تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا تھا۔بعد ازاںسکسٹ یو ایس سرکٹ کورٹ آف اپیلز کے ایک پینل کی جانب سے اس کے قانونی چیلنجز کا مزید جائزہ لینے کے لیے حکم امتناعی جاری کرنے کے بعد سزائے موتمیں پہلے ہی کئی گھنٹوں کی تاخیر ہو چکی تھی۔بعد میں امریکی سپریم کورٹ نے ٹینیسی کی درخواست پر ۳؍- ۶؍کے فیصلے میں اس حکم امتناعی کو ختم کر دیا، جس سے پائیک کا ڈیتھ وارنٹ آدھی رات کو ختم ہونے سے پہلے سزائے موت آگے بڑھ سکی۔تاہم اس سال ٹینیسی میں سزائے موت کی یہ دوسری ناکام کوشش ہے۔جبکہ ۴۰؍ سے زائد ڈاکٹروں اور نرسوں نے بعد میں گورنر بل لی کو خط لکھا، جس میں سزائے موت کو روکنے اور صحت کے کارکنوں کو اس عمل سے ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا۔ذہن نشین رہے کہ ۲۰۲۰ء سے اب تک ۱۷؍ ریاستوں میں۱۷۰؍ افراد کو سزائے موت دی جا چکی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: یمن میں بے گھر افراد کی خیمہ بستیوں میں بیماریاں پھیلنے کا خطرہ
یاد رہے کہ پائیک۱۸؍ سال کی تھی جب اس نے اور اس کے اس وقت کے بوائے فرینڈ نے۱۹؍ سالہ کولین سلیمر کو مارا پیٹا، تشدد کا نشانہ بنایا اور قتل کر دیا۔ پائیک کا خیال تھا کہ سلیمر نے اس کی توہین کی ہے۔ اس قتل نے شدید میڈیا توجہ حاصل کی جب سلیمر کی لاش اس کے سینے پر الٹا پینٹاگرام، جو شیطانی گروہوں سے وابستہ علامت ہے، کے ساتھ ملی۔تاہم معافی کی درخواست میں، پائیک نے کہا کہ اس کا ارادہ سلیمر کو مارنا نہیں بلکہ پیٹنا تھا۔جبکہ سلیمر کی ماں نے کہا کہ وہ چاہتی ہے کہ سزائے موت پر عمل درآمد ہو۔