• Sat, 05 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سپر ہیرو کی دنیا سے باہر گال گیڈوٹ کی نئی راہ میں بڑا دھچکا،کریئر پر سوالات

Updated: September 04, 2026, 8:02 PM IST | New York

ہالی ووڈ اداکارہ گال گیڈوٹ کے لیے سپر ہیرو کردار ’’ونڈر وومن‘‘ سے آگے بڑھنے کا سفر توقع کے مطابق آسان ثابت نہیں ہو رہا۔ ڈی سی یونیورس میں ’’ونڈر وومن‘‘ کے کردار سے عالمی شہرت حاصل کرنے والی اداکارہ نے اب واضح کیا ہے کہ وہ موجودہ حالات میں اس کردار میں دوبارہ واپسی کا ارادہ نہیں رکھتیں۔

Gal Gadot.Photo:X
گل گیڈوٹ۔ تصویر:ایکس

ہالی ووڈ اداکارہ  گال گیڈوٹ  کے لیے سپر ہیرو کردار ’’ونڈر وومن‘‘ سے آگے بڑھنے کا سفر توقع کے مطابق آسان ثابت نہیں ہو رہا۔ ڈی سی یونیورس میں ’’ونڈر وومن‘‘ کے کردار سے عالمی شہرت حاصل کرنے والی اداکارہ نے اب واضح کیا ہے کہ وہ موجودہ حالات میں اس کردار میں دوبارہ واپسی کا ارادہ نہیں رکھتیں۔ اسی دوران ان کی نئی ایکشن فلم ’’دی رنر‘‘ بھی ریلیز ہوچکی ہے، لیکن فلم کو ناقدین کی جانب سے ملا جلا بلکہ کئی جگہ سخت ردعمل ملا ہے۔ 
 گال گیڈوٹ نے ۲۰۱۶ء میں فلم ’’بیٹ مین ورسیز سپرمین: ڈان آف جسٹس‘‘ میں پہلی مرتبہ ونڈر وومن یعنی ڈیانا پرنس کا کردار ادا کیا تھا۔ اس کے بعد ۲۰۱۷ء میں ریلیز ہونے والی ’’ونڈر وومن‘‘ نے انہیں عالمی سطح پر سپر اسٹار بنا دیا۔ فلم نے دنیا بھر میں تقریباً ۸۲۴؍ ملین ڈالرس کا کاروبار کیا اور اسے ڈی سی کی کامیاب ترین فلموں میں شمار کیا گیا۔ بعد ازاں گیڈوٹ نے ’’جسٹس لیگ‘‘ اور ’’ونڈر وومن ۱۹۸۴‘‘ میں بھی یہ کردار ادا کیا۔ 
گیڈوٹ کی ونڈر وومن کے طور پر آخری نمایاں پیشکش۲۰۲۳ء کی فلم  ’’دی فلیش‘ ‘ میں ہوئی تھی۔ تاہم ڈی سی اسٹوڈیوز میں جیمز گن اور پیٹر سفاران کی قیادت میں بڑی تخلیقی تبدیلی کے بعد پرانے ڈی سی ایکسٹینڈڈ یونیورس کے متعدد اہم کرداروں اور اداکاروں کو نئے سرے سے ترتیب دیا گیا۔ 

یہ بھی پڑھئے:انگلینڈ کی خواتین کی ٹیم نے ون ڈے میں آئرلینڈ کو ۶؍ وکٹ سے شکست دے دی

 گیڈوٹ کے مطابق ڈی سی اسٹوڈیوز کی نئی قیادت نے ابتدا میں انہیں بتایا تھا کہ ’’ونڈر وومن ۳‘‘ ان کے ساتھ بنائی جائے گی  لیکن بعد میں صورتحال تبدیل ہوگئی اور یہ منصوبہ آگے نہیں بڑھ سکا۔ اداکارہ نے حالیہ انٹرویو میں بتایا کہ انہیں باضابطہ طور پر اس انداز میں نہیں بتایا گیا کہ اسٹوڈیو ان کے بغیر آگے بڑھنے کا فیصلہ کرچکا ہے، بلکہ انہیں بعد کے حالات سے اندازہ ہوا۔ 
گیڈوٹ نے ڈی سی اسٹوڈیوز کی جانب سے سابق سپرمین اداکار  ہنری کیولو  اور’ ’ونڈر وومن‘‘ کی ہدایت کار پیٹی جینکنز کے ساتھ کیے گئے برتاؤ پر بھی افسوس کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق کیول کے معاملے کو جس طرح نمٹایا گیا وہ خوبصورتی سے نہیں کیا گیا، جبکہ جینکنز کے معاملے میں بھی صورتحال مناسب نہیں تھی۔   گیڈوٹ نے حالیہ بیانات میں اشارہ دیا ہے کہ ان کی ونڈر وومن کے طور پر واپسی کے امکانات بہت کم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ زندگی کے حالات میں اتنے طویل عرصے کے لیے فلم کی تیاری میں مصروف ہونا ان کے لیے آسان نہیں، خاص طور پر ان کی خاندانی ذمہ داریوں اور بچوں کی تعلیم کے باعث۔ 
 اداکارہ نے اس کے باوجود ونڈر وومن کے کردار سے اپنی محبت اور شکرگزاری کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس مشہور کردار کو ادا کرنے اور اسے دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچانے کا موقع ملنا ان کے لیے باعثِ فخر ہے۔ انہوں نے مستقبل میں یہ کردار ادا کرنے والی اداکارہ کے لیے بھی نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:’ ’دی ٹریٹرز ۲‘‘ کی فاتح کرِسٹل ڈی سوزا اور رِدا تھارانا، ٹرافی کے ساتھ ۶۶؍ لاکھ روپے بھی جیتے

سپر ہیرو کی دنیا سے نکلنے کے بعد گیڈوٹ نے ایکشن تھرلر’’دی رنر‘‘ میں مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ فلم میں وہ مایا نامی ایک وکیل اور سنگل مدر کا کردار ادا کرتی ہیں، جو اپنے بیٹے کی جان بچانے کے لیے ایک خطرناک صورتحال میں پھنس جاتی ہے۔ فلم کو پرائم ویڈیو پر عالمی سطح پر ریلیز کیا گیا ہے۔  تاہم فلم کو ناقدین کی جانب سے زیادہ مضبوط ردعمل نہیں ملا۔  دی گارڈجین  کے جائزے میں فلم کے اسکرپٹ، مکالموں اور ایکشن کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ گیڈوٹ کی جسمانی ایکشن کارکردگی کو تسلیم کرنے کے باوجود ان کی اداکاری میں جذباتی گہرائی کی کمی کی نشاندہی کی گئی۔  گال گیڈوٹ کی صورتحال اس لحاظ سے دلچسپ ہے کہ انہوں نے ’ونڈر وومن‘ کے ذریعے ایک ایسا کردار حاصل کیا جس نے ان کی شناخت ہی بدل دی۔ لیکن سپر ہیرو فرنچائز سے باہر ایک اداکارہ کے طور پر اپنی جگہ مضبوط کرنا ان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK