• Mon, 07 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بگ باس کے میزبانوں کی فیس نے مچایا تہلکہ، سلمان خان سب سے مہنگے

Updated: September 06, 2026, 9:59 PM IST | Mumbai

مشہور رئیلیٹی شو ’’بگ باس‘‘ ایک بار پھر ناظرین کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ اس مرتبہ بگ باس ہندی کے ساتھ ساتھبگ باس تمل، بگ باس تیلگو، بگ باس کنڑ، بگ باس ملیالم اور بنگلہ کے سیزنز بھی خبروں میں ہیں۔ جہاں شو میں ہونے والے جھگڑوں، محبت، تنازعات اور دلچسپ انکشافات کو لے کر شائقین میں جوش ہے، وہیں مختلف زبانوں میں شو کی میزبانی کرنے والے بڑے ستاروں کی فیس بھی خاصی توجہ حاصل کر رہی ہے۔

Salman Khan.Photo:INN
سلمان خان۔ تصویر:آئی این این

مشہور رئیلیٹی شو ’’بگ باس‘‘ ایک بار پھر ناظرین کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ اس مرتبہ بگ باس ہندی  کے ساتھ ساتھبگ باس تمل، بگ باس تیلگو، بگ باس کنڑ، بگ باس ملیالم اور بنگلہ   کے سیزنز بھی خبروں میں ہیں۔ جہاں شو میں ہونے والے جھگڑوں، محبت، تنازعات اور دلچسپ انکشافات کو لے کر شائقین میں جوش ہے، وہیں مختلف زبانوں میں شو کی میزبانی کرنے والے بڑے ستاروں کی فیس بھی خاصی توجہ حاصل کر رہی ہے۔ دستیاب میڈیا رپورٹس کے مطابق میزبانوں کو ملنے والے معاوضے میں خاصا فرق ہے، تاہم ان میں سے کسی بھی فیس کی باضابطہ تصدیق متعلقہ میکرز یا میزبانوں کی جانب سے نہیں کی گئی ہے۔

 
 
 
 
 
View this post on Instagram
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Star Jalsha (@starjalsha)


 بگ باس ہندی کی میزبانی ایک مرتبہ پھر بالی ووڈ سپر اسٹار  سلمان خان  کر رہے ہیں۔ سلمان خان نے سیزن ۴ ؍سے اس شو کی میزبانی کا آغاز کیا تھا اور سیزن ۱۹؍ تک وہ اس کی سب سے نمایاں شناخت  رہے۔ رپورٹ کے مطابق ۲۰۱۵ء تک سلمان خان کو فی ایپی سوڈ تقریباً ۸؍ سے ۱۰؍ کروڑ روپے معاوضہ ملتا تھا، جبکہ بگ باس ۱۳؍ کے دوران ان کی فیس بڑھ کر تقریباً ۱۳؍ سے ۱۵؍ کروڑ روپے فی ایپی سوڈ  تک پہنچ گئی تھی۔ اس سیزن میں ان کی مجموعی فیس ۳۵۰ ؍کروڑ روپے سے زیادہ بتائی گئی تھی۔ اب  بگ باس ۲۰؍ کے لیے سلمان خان کو ہر ویک اینڈ تقریباً  ۱۵؍ کروڑ روپے  ملنے کی رپورٹ ہے۔
اس مرتبہ سب سے زیادہ حیران کرنے والی فیس کا ذکر  بگ باس بنگلہ  کے میزبان اور سابق ہندوستانی کرکٹ کپتان  سورو گنگولی  کے حوالے سے کیا جا رہا ہے۔ میتھون چکرورتی اور جیت کے بعد اب شو کی میزبانی سورو گنگولی کے سپرد کی گئی ہے۔ تقریباً ایک دہائی کے وقفے کے بعد واپس آنے والا بگ باس بنگلہ  ۳۰؍ اگست ۲۰۲۶ء سے شروع ہو چکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سیزن ۳ ؍کی میزبانی کے لیے سورو گنگولی کو  ۱۲۵؍ کروڑ روپے سے زیادہ  فیس ملنے کی بات کہی جا رہی ہے۔ اگر یہ رپورٹ درست ثابت ہوتی ہے تو گنگولی بگ باس کے سب سے زیادہ معاوضہ لینے والے میزبانوں میں شامل ہوجائیں گے۔

یہ بھی پڑھئے:رائل چیلنجرز بنگلورو کے نام میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی، برلا کی تصدیق


 بگ باس تمل  کی میزبانی بھی ایک بڑے جنوبی ہند کے اسٹار وجے سیتھوپتی  کر رہے ہیں۔ کمل ہاسن کے بعد میکرز نے وجے سیتھوپتی کو شو کی میزبانی کی ذمہ داری سونپی تھی۔ انہوں نے سیزن ۸ ؍اور ۹؍ کی میزبانی کی اور اب بگ باس  تمل سیزن ۱۰؍ میں بھی وہی میزبان ہیں۔ رپورٹ کے مطابق وجے سیتھوپتی کو اس سیزن کے لیے تقریباً ۷۵؍ سے ۸۰؍ کروڑ روپے معاوضہ دیے جانے کی بات سامنے آئی ہے۔ جنوبی ہند کے سپر اسٹار ناگارجن  طویل عرصے سےبگ باس  تیلگو  کا نمایاں چہرہ ہیں۔ سیزن ۳؍ کے بعد سے وہ مسلسل شو کی میزبانی کرتے آئے ہیں اور اس بار بھی ناظرین انہیں کنٹسٹنٹس کی کلاس لیتے ہوئے دیکھیں گے۔ رپورٹ کے مطابق ۲۰۱۹ء میں ناگارجن کو پورے سیزن کے لیے تقریباً ۱۰؍کروڑ روپے  ملے تھے، جبکہ ۲۰۲۵ء میں ان کی فیس بڑھ کر تقریباً ۳۵؍ کروڑ روپے  ہوگئی تھی۔

یہ بھی پڑھئے:سلمان خان نے منوج تیواری کی بیٹی کو انڈوں کے معاملے پر خبردار کردیا

ملیالم فلم انڈسٹری کے سپر اسٹار موہن لال  بھی بگ باس کے مہنگے میزبانوں میں شامل ہیں۔ وہ بگ باس  ملیالم کے پہلے سیزن یعنی ۲۰۱۸ء سے ہی شو کی میزبانی کر رہے ہیں اور ۲۰۲۶ء میں اس کے آٹھویں سیزن میں بھی ان کی واپسی ہوئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق موہن لال پورے سیزن کی میزبانی کے لیے تقریباً  ۲۴؍ سے ۳۰ ؍کروڑ روپے معاوضہ وصول کر رہے ہیں۔بگ باس کنڑ کے ساتھ شروع سے وابستہ رہنے والے  کچّا سدیپ  بھی اس مرتبہ شو کی میزبانی کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سدیپ کو ہر ویک اینڈ کے لیے تقریباً ۲؍ کروڑ روپے  فیس دی جائے گی۔ اس حساب سے پورے سیزن میں ان کی آمدنی تقریباً ۲۰؍ کروڑ روپے  تک پہنچنے کی بات کہی جا رہی ہے۔ فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق یہ دیگر بڑے بگ باس میزبانوں کے مقابلے میں نسبتاً کم معاوضہ ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK