ایکشن فلم ’’الفا‘‘ میں اداکار بوبی دیول کے ڈی ایجنگ ایفیکٹ کی ہر طرف بحث ہو رہی ہے۔ فلم میں بوبی کے نوجوان لک کو وائی آر ایف کے ان ہاؤس وائی ایف ایکس اسٹوڈیوز نے جدید ترین تکنیک کی مدد سے تیار کیا ہے۔
EPAPER
Updated: July 15, 2026, 7:05 PM IST | Mumbai
ایکشن فلم ’’الفا‘‘ میں اداکار بوبی دیول کے ڈی ایجنگ ایفیکٹ کی ہر طرف بحث ہو رہی ہے۔ فلم میں بوبی کے نوجوان لک کو وائی آر ایف کے ان ہاؤس وائی ایف ایکس اسٹوڈیوز نے جدید ترین تکنیک کی مدد سے تیار کیا ہے۔
ایکشن فلم ’’الفا‘‘ میں اداکار بوبی دیول کے ڈی ایجنگ ایفیکٹ کی ہر طرف بحث ہو رہی ہے۔ فلم میں بوبی کے نوجوان لک کو وائی آر ایف کے ان ہاؤس وائی ایف ایکس اسٹوڈیوز نے جدید ترین تکنیک کی مدد سے تیار کیا ہے۔دنیا بھر کے سنیما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کی جا چکی اس فلم نے اب تک ۷۵ء۹۲؍ کروڑ روپے سے زیادہ کی عالمی کمائی کی ہے۔ فلم کے ایک اہم حصے میں بوبی دیول کو ان کی ابتدائی فلموں ’’سولجر‘‘، ’’گپت‘‘ اور’’برسات‘‘ کے دور کے نوجوان روپ میں دکھایا گیا ہے، جسے ناظرین نے کافی سراہا ہے۔ہدایت کار شیو رویل نے کہا کہ ڈی-ایجنگ ایفیکٹ کا مقصد صرف تکنیکی مظاہرہ نہیں بلکہ کہانی کے جذباتی اثر کو اور زیادہ مضبوط بنانا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کوشش یہی رہی کہ تکنیک ناظرین کو محسوس نہ ہو اور ان کی توجہ صرف کہانی اور اداکاری پر مرکوز رہے۔
یہ بھی پڑھئے:آئی ایف ایف ایم میں رانی مکھرجی کو اعزازی ڈاکٹریٹ سے نوازا جائے گا
ہدایتکار شیو رویل کے وژن کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے وائی ایف ایف اسٹوڈیوز نے جدید ترین ویژول ایفیکٹس (VFX) اور مصنوعی ذہانت (AI) کی جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ انتہائی باریک فنکارانہ مہارت کا استعمال کیا۔
شیو رویل نے کہا’’ شروع سے ہی ہمارے لیے یہ ویژول ایفیکٹ صرف دکھاوے کے لیے نہیں تھا۔ میرے نزدیک ہر تخلیقی فیصلہ کہانی کی خدمت کرنا چاہیے۔ ناظرین کو مکمل یقین ہونا چاہیے کہ وہ کردار کو اس کی زندگی کے ایک خاص دور میں دیکھ رہے ہیں۔ اگر یہ تاثر قدرتی محسوس نہ ہو تو جذباتی اثر بھی کمزور پڑ جاتا ہے۔ ہماری سب سے بڑی کوشش یہی تھی کہ ٹیکنالوجی مکمل طور پر نظروں سے اوجھل رہے تاکہ ناظرین کی توجہ صرف کہانی اور اداکاری پر مرکوز رہے، نہ کہ ویژول ایفیکٹس پر۔‘‘
پہلی بار اس نوعیت کی ٹیکنالوجی کا تجربہ کرنے والے بوبی دیول نے کہا’’اپنے چہرے سے برسوں کو غائب ہوتے دیکھنا واقعی ایک منفرد تجربہ تھا۔ میں نے اپنے کریئر میں کئی طرح کے کردار ادا کیے ہیں، لیکن ایسا پہلی بار ہوا۔ اس سے احساس ہوا کہ فلم سازی کی ٹیکنالوجی کس قدر ترقی کر چکی ہے تاہم ٹیکنالوجی صرف ایک حد تک مدد کر سکتی ہے، آخرکار کردار کے جذبات کو سچائی کے ساتھ پیش کرنا اداکار کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ یہی بات میرے لیے سب سے زیادہ دلچسپ رہی۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:سرکار نے ۶۲؍ ہزار کروڑ کی لاگت سے موبائل فون مینوفیکچرنگ اسکیم کو منظوری دی
وائی ایف ایکس اسٹوڈیوز کی سربراہ اور وی ایف ایکس سپروائزر شیری بھردانے کہا’’آج کے ناظرین بہت باخبر ہیں، اس لیے ویژول ایفیکٹس تقریباً نظر نہ آنے کے برابر ہونے چاہییں۔ فلم ’’الفا‘‘ میں پہلی بار ہم نے پورے سیکوئنس میں بڑے پیمانے پراے آئی اور وی ایف ایکس کا امتزاج استعمال کیا۔ بوبی دیول کے ابتدائی دور کی معیاری فوٹیج محدود ہونے کی وجہ سے یہ کام خاصا مشکل تھا۔ صرف چہرہ جوان دکھا دینا کافی نہیں ہوتا، بلکہ جلد، جھریاں، آنکھوں کے تاثرات اور دیگر باریک تفصیلات ہی اس تاثر کو حقیقی بناتی ہیں۔ اے آئی ڈی ایجنگ میں ڈیڈ آئیز جیسا مسئلہ عام ہوتا ہے، اسی لیے ہم نے اے آئی اور اپنے فنکاروں کی مہارت کو ملا کر ایک ہائبرڈ ماڈل اپنایا، جس سے ہر فریم پر مکمل کنٹرول برقرار رکھا جا سکا۔ ڈی ایجنگ کا مقصد صرف کسی کو جوان دکھانا نہیں بلکہ اس کی اداکاری اور جذبات کو مکمل طور پر محفوظ رکھنا بھی ہے۔ ہمارے لیے یہ ایک اہم سنگِ میل ہے۔‘‘