Updated: July 15, 2026, 6:16 PM IST
| New York
امریکی ٹیکنالوجی کمپنی آئی بی ایم (آئی بی ایم) کو اسٹاک مارکیٹ میں ایک ہی دن کے دوران تقریباً ۷۰؍ ارب ڈالر (تقریباً ۸ء۵؍ لاکھ کروڑ روپے) کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا، جب کمپنی کے سی ای او اروند کرشنا نے اعتراف کیا کہ کمپنی مصنوعی ذہانت (اے آئی ) کے میدان میں توقعات کے مطابق کارکردگی نہیں دکھا سکی۔
اروند کرشنا۔تصویر:آئی این این
امریکی ٹیکنالوجی کمپنی آئی بی ایم (آئی بی ایم) کو اسٹاک مارکیٹ میں ایک ہی دن کے دوران تقریباً ۷۰؍ ارب ڈالر (تقریباً ۸ء۵؍ لاکھ کروڑ روپے) کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا، جب کمپنی کے سی ای او اروند کرشنا نے اعتراف کیا کہ کمپنی مصنوعی ذہانت (اے آئی ) کے میدان میں توقعات کے مطابق کارکردگی نہیں دکھا سکی۔
یہ بھی پڑھئے:آئی ایف ایف ایم میں رانی مکھرجی کو اعزازی ڈاکٹریٹ سے نوازا جائے گا
میڈیا رپورٹس کے مطابق اروند کرشنا نے سرمایہ کاروں کے ساتھ گفتگو میں کہا کہ آئی بی ایم نے اے آئی کی تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں کچھ اہم مواقع گنوا دیے اور بعض شعبوں میں کمپنی کی رفتار سست رہی۔ انہوں نے کہا’’ہم نے اے آئی کے کچھ شعبوں میں نقصان اٹھایا اور اب ہمیں زیادہ تیزی اور مؤثر حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔‘‘
شیئرز میں بڑی گراوٹ
سی ای او کے بیان کے بعد سرمایہ کاروں میں تشویش پھیل گئی، جس کے نتیجے میں آئی بی ایم کے شیئرز میں شدید فروخت دیکھی گئی۔ مارکیٹ ویلیو میں آنے والی یہ گراوٹ کمپنی کی حالیہ تاریخ کے بڑے نقصانات میں شمار کی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں کو امید تھی کہ آئی بی ایم، اوپن اے آئی، گوگل، مائیکروسافٹ اور دیگر کمپنیوں کی طرح اے آئی کے شعبے میں زیادہ جارحانہ پیش رفت کرے گی، لیکن کمپنی کی رفتار توقعات سے کم رہی۔
اے آئی کی دوڑ میں بڑھتا دباؤ
آئی بی ایم کئی برسوں سے اپنی واٹسن اے آئی ٹیکنالوجی کو فروغ دے رہی ہے، تاہم حالیہ برسوں میں جنریٹو اے آئی کے شعبے میں نئی کمپنیوں اور بڑے ٹیک اداروں نے تیزی سے برتری حاصل کی ہے۔ ماہرین کے مطابق، اب آئی بی ایم پر دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ اے آئی ریسرچ میں سرمایہ کاری بڑھائے، نئے ماڈلز متعارف کرائے اور کلاؤڈ و اے آئی سروسیز کو زیادہ مؤثر انداز میں مارکیٹ کرے۔
یہ بھی پڑھئے:سرکار نے ۶۲؍ ہزار کروڑ کی لاگت سے موبائل فون مینوفیکچرنگ اسکیم کو منظوری دی
سرمایہ کاروں کی تشویش
مارکیٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ سی ای او کا کھل کر اعتراف کرنا غیر معمولی بات ہے، لیکن اس سے سرمایہ کاروں کو یہ اشارہ ملا کہ کمپنی کو اندرونی سطح پر بھی اپنی اے آئی حکمت عملی پر نظرثانی کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔ اگرچہ آئی بی ایم اب بھی کلاؤڈ کمپیوٹنگ، کنسلٹنگ اور انٹرپرائز سافٹ ویئر کے شعبوں میں مضبوط موجودگی رکھتی ہے، لیکن موجودہ دور میں اے آئی کو مستقبل کی سب سے اہم ٹیکنالوجی سمجھا جا رہا ہے اور اسی میدان میں پیچھے رہ جانے کا خدشہ سرمایہ کاروں کے لیے سب سے بڑی تشویش بن گیا ہے۔ کمپنی نے عندیہ دیا ہے کہ وہ آنے والے مہینوں میں اے آئی سے متعلق نئی مصنوعات، شراکت داریوں اور سرمایہ کاری کے منصوبوں کا اعلان کر سکتی ہے تاکہ مارکیٹ کا اعتماد بحال کیا جا سکے۔