Updated: July 15, 2026, 6:06 PM IST
| Washington
امریکی ایوانِ نمائندگان نے ’’سن شائن پروٹیکشن ایکٹ ۲۰۲۵ء‘‘ بھاری اکثریت سے منظور کر لیا ہے، جس کے تحت ڈے لائٹ سیونگ ٹائم (DST) کو مستقل بنانے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ بل کے حق میں ۳۰۸؍ جبکہ مخالفت میں ۱۱۷؍ ووٹ پڑے۔ اگر امریکی سینیٹ بھی اس کی منظوری دے دیتی ہے اور صدر ڈونالڈ ٹرمپ اس پر دستخط کر دیتے ہیں تو امریکہ میں سال میں دو مرتبہ گھڑیاں آگے پیچھے کرنے کا نظام ختم ہو جائے گا۔ تاہم، اس تجویز پر بچوں کی حفاظت، صبح کے اوقات اور فضائی سفر سمیت مختلف شعبوں سے تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔
امریکہ میں سال میں دو مرتبہ گھڑیاں آگے اور پیچھے کرنے کے نظام کو ختم کرنے کی کوشش ایک اہم مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ امریکی ایوانِ نمائندگان نے ’’سن شائن پروٹیکشن ایکٹ ۲۰۲۵ء‘‘ کو ۱۱۷؍ کے مقابلے میں ۳۰۸؍ ووٹوں سے منظور کر لیا، جس کے بعد اب یہ بل منظوری کے لیے امریکی سینیٹ کے پاس جائے گا۔ اگر سینیٹ بھی اس بل کی منظوری دے دیتی ہے اور صدر ڈونالڈ ٹرمپ اس پر دستخط کر دیتے ہیں تو امریکہ میں ڈے لائٹ سیونگ ٹائم (DST) مستقل بنیادوں پر نافذ ہو جائے گا اور ہر سال مارچ اور نومبر میں گھڑیاں تبدیل کرنے کی روایت ختم ہو جائے گی۔
یہ بھی پڑھئے: پہلی بار ہیومنائیڈ روبوٹس نے زندہ جانور کی کامیاب سرجری کی
مجوزہ قانون کے مطابق نومبر میں گھڑیاں دوبارہ معیاری وقت (Standard Time) پر واپس نہیں لائی جائیں گی، جبکہ ریاستوں کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ چاہیں تو مستقل ڈے لائٹ سیونگ ٹائم اختیار کریں یا اس سے استثنا برقرار رکھیں۔ ہوائی اور ایریزونا پہلے ہی ڈے لائٹ سیونگ ٹائم پر عمل نہیں کرتے۔ امریکی کانگریس کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق H.R.139 – Sunshine Protection Act 2025 کا مقصد ڈے لائٹ سیونگ ٹائم کو مستقل وقت کے نظام میں تبدیل کرنا ہے، جبکہ جن ریاستوں کو پہلے سے استثنا حاصل ہے، وہ اپنے موجودہ معیاری وقت کو برقرار رکھ سکیں گی۔ ڈے لائٹ سیونگ ٹائم کا بنیادی مقصد شام کے اوقات میں زیادہ دیر تک قدرتی روشنی فراہم کرنا اور توانائی کی بچت کرنا ہے۔ تحقیقی ادارے EBSCO کے مطابق اس نظام سے نہ صرف توانائی کی کھپت میں کمی آتی ہے بلکہ بعض مطالعات میں ٹریفک حادثات میں کمی کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ایران پر حملے اور ناکہ بندی کے باوجود امریکہ کو معاہدہ کی امید؟
امریکی ایوان کی انرجی اینڈ کامرس کمیٹی اس بل کی پہلے ہی بھاری اکثریت سے حمایت کر چکی تھی، جبکہ ۲۰۲۲ء میں امریکی سینیٹ بھی متفقہ طور پر اسی نوعیت کی قانون سازی منظور کر چکی تھی، تاہم اس وقت ایوانِ نمائندگان میں پیش رفت نہ ہونے کے باعث یہ قانون نافذ نہیں ہو سکا تھا۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ طویل عرصے سے سال میں دو مرتبہ گھڑیاں تبدیل کرنے کے نظام کے مخالف رہے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ برس اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لکھا تھا کہ ’’ریپبلکن پارٹی ڈے لائٹ سیونگ ٹائم کے خاتمے کے لیے بھرپور کوشش کرے گی کیونکہ سال میں دو مرتبہ گھڑیاں تبدیل کرنا عوام کے لیے تکلیف دہ اور حکومت کے لیے مہنگا عمل ہے۔‘‘ بعد ازاں انہوں نے ایک اور بیان میں شام کے اوقات میں زیادہ دیر تک روشنی برقرار رکھنے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ گھڑیوں کی بار بار تبدیلی ختم ہونی چاہیے۔
بل کی منظوری کے بعد وہائٹ ہاؤس نے بھی اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے سال میں دو مرتبہ گھڑیاں تبدیل کرنے سے وابستہ وقت، اخراجات اور عوامی پریشانی کا خاتمہ ہوگا اور امریکی شہریوں کے کروڑوں ڈالر کی بچت ممکن ہوگی۔ تاہم اس تجویز پر اختلافی آراء بھی سامنے آ رہی ہیں۔ ریپبلکن سینیٹر ٹام کاٹن نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ مستقل ڈے لائٹ سیونگ ٹائم کے نتیجے میں موسم سرما میں سورج بہت دیر سے طلوع ہوگا، جس کے باعث امریکہ کے کئی علاقوں میں بچوں کو اندھیرے میں اسکول جانا پڑے گا، جو حفاظتی اعتبار سے تشویشناک ہے۔ دوسری جانب ریپبلکن رکنِ کانگریس رابرٹ ایڈرہولٹ نے بل کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ سال میں دو مرتبہ وقت کی تبدیلی برسوں سے خاندانوں، کاروباری اداروں اور ملازمین کے لیے پریشانی کا باعث رہی ہے۔
انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ بچوں کی حفاظت ایک اہم مسئلہ ہے اور اگر مستقل ڈے لائٹ سیونگ ٹائم نافذ ہوتا ہے تو اسکولوں کے اوقات، بس سروس اور دیگر انتظامات پر نظرِ ثانی کی جا سکتی ہے تاکہ طلبہ کو اندھیرے میں سفر نہ کرنا پڑے۔ ادھر امریکی فضائی کمپنیوں کی نمائندہ تنظیم Airlines for America نے خبردار کیا ہے کہ وقت کے نظام میں کسی بھی بڑی تبدیلی کے اثرات فضائی آپریشن، بین الاقوامی پروازوں کے شیڈول، عملے کی تعیناتی اور عالمی رابطہ نظام پر بھی مرتب ہوں گے۔ تنظیم کے مطابق اگر قانون نافذ ہوتا ہے تو اس کے لیے مناسب عبوری مدت اور بین الاقوامی فضائی نظام کے مطابق جامع منصوبہ بندی ناگزیر ہوگی تاکہ مسافروں اور ایئرلائنز کو غیر ضروری مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔