Inquilab Logo Happiest Places to Work

بالی ووڈ میں عصری اور قومی موضوعات پر فلمیں بنانے کی روایت ابتدا ہی سے رہی ہے

Updated: August 23, 2026, 4:59 PM IST | Anis Amrohvi | Mumbai

تحریک آزادی کے دوران ہمارے فلم سازوں نے آزادی اور اتحاد کے موضوع پر فلمیں بنائیں، اس سے قبل سماجی بھید بھاؤ کو موضوع بنایا، بعد میں حالات تبدیل ہوئے تو اسمگلنگ، انڈر ورلڈ، دہشت گردی، بدعنوانی، فرقہ پرستی اور مہنگائی وغیرہ کے موضوع پر بھی فلمیں بنائی گئیں۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

ہندوستان میں پہلے پہل ۱۸۹۶ء میں چھوٹی چھوٹی خاموش فلموں کی آمد شروع ہوئی تھی اور ۷؍جولائی ۱۸۹۶ء کو ’لمونیئر برادرس‘نے بمبئی کے واٹسن ہوٹل میں ’میجک لائٹس‘ نام کی ایک چھوٹی سی فلم کی نمائش کی۔ 
طویل فیچر فلموں کے سلسلے کو ہندوستان میں شروع کرنے کا سہرا دادا صاحب پھالکے کو جاتا ہے۔ انہوں نے ’لائف آف کرائسٹ‘ نام کی ایک غیر ملکی فلم سے متاثر ہوکر بڑی جدو جہد اور محنت سے فلم ’راجہ ہریش چندر‘ کو مکمل طور سے ہندوستان میں تیار کیا اور ۱۹۱۳ء میں اس خاموش فلم کی نمائش کی تھی۔ اس طرح ہندوستان میں خاموش فلموں کا سفر شروع ہو گیا اور ۱۹۳۱ء میں ہندوستانی فلموں کو بولنا بھی آگیا، جب ار دیشر ایرانی نے ہندوستان کی پہلی بولتی فلم ’عالم آراء‘ کی نمائش کی۔ یہی وہ دور تھا جب ہندوستان کی آزادی کی تحریک روز بہ روز زور پکڑتی جا رہی تھی۔ 
اُس زمانے میں ہمارا سب سے بڑا قومی مسئلہ تھا، ہندوستان کی آزادی.... اور اس سے جڑی ہوئی تھی ہماری قومی ایکتا، لہٰذا انگریزی حکومت کی مختلف قسم کی پابندیوں اور ظلم و ستم کے باوجود کئی لوگوں نے ہمت کرکے تحریک آزادی کو موضوع بناکر فلمیں بنائیں۔ ان پر پابندی بھی لگی۔ کچھ لوگوں نے سیدھے طور پر تحریک آزادی کو موضوع نہ بناکر قومی اتحاد، ہندو مسلم بھائی چارہ، اونچ نیچ، سماجی بھید بھائو اور کچھ تاریخی موضوعات کو اس طرح پیش کیا جس سے عوام میں اتحاد قائم ہو اور تحریک آزادی کا پیغام بھی عام لوگوں تک پہنچ جائے۔ انہیں حالات سے پریشان ہوکر ۱۹۲۲ء میں برٹش حکومت نے پریس سینسر شپ قائم کیا اور فلموں پر بھی اس قانون کے تحت سنسر لگا دیا۔ 
ہندوستانی فلموں نے ہر دور میں قومی مسائل کی عکاسی کی ہے، اور آج بھی، جب کہ ہماری فلموں نے ایک صدی سے زیادہ کا سفر طے کر لیا ہے، عصری فلموں میں قومی مسائل کی بھرپور عکاسی کی جا رہی ہے۔ حالانکہ فلموں کو مکمل طور پر تفریح کا ایک ذریعہ مانا جاتا ہے، لیکن پچھلی صدی کی آخری دہائی تک یہی ایک سب سے بہتر، مؤثر اور مضبوط ذریعہ تھا عوام تک اپنی بات کو پہنچانے کا۔ فلموں کے ذریعہ جو پیغام دیا جاتا تھا، وہ سماج کے مختلف طبقوں کی بہت بڑی تعداد پر جلد اثر کرتا تھا۔ آج حالانکہ حالات مختلف ہیں۔ ٹیلی ویژن پر بے شمار چینل ہیں اور پوری دنیا میں انٹر نیٹ کا جال بھی پھیل چکا ہے۔ مگر اس سب کے باوجود بڑے پیمانے پر ہماری عصری فلموں کے ذریعہ ہی قومی مسائل کی عکاسی ہو رہی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: یش کی فلم ’’ٹاکسک‘‘ کی ایڈوانس بکنگ میں زبردست تیزی

گزشتہ دو دہائیوں سے ہمارے ملک ہندوستان کا سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی رہا ہے، اور اسی دہشت گردی کی وجہ سے ہمارے دو سابقہ وزیر اعظم بھی قتل کئے جا چکے ہیں۔ ملک میں ہزاروں معصوموں اور بے گناہوں کی جانیں بھی گئی ہیں۔ ہماری فلم انڈسٹری بھی اس سے اچھوتی نہیں رہی ہے۔ کسی نہ کسی شکل میں دہشت گردی نے ہماری فلم انڈسٹری کو بھی متاثر کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری عصری فلموں میں دہشت گردی کے مسئلے کو بڑے پیمانے پر اجاگر کیا گیا ہے۔ فلم ’ماچس، روجا، دس، مشن کشمیر، بامبے، دل سے، فضا، کرانتی ویر، انگار وادی اوررفیوجی‘ جیسی فلموں نے ملک میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور اس کے نقصانات کی طرف اشارے کئے ہیں۔ ان فلموں کے ذریعہ ان چہروں کو بے نقاب کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو متحدہ ہندوستان کو توڑنا چاہتے ہیں۔ غیرملکی اشارے پر اور اس کی مدد سے کس طرح ہمارے ملک کے مختلف شہروں میں فسادات کرائے گئے ہیں، بم دھماکے ہوئے ہیں اور نہ صرف لاکھوں کروڑوں روپے کی املاک تباہ ہوئی ہیں، بلکہ ہزاروں لوگ بھی ان فسادات میں مارے گئے ہیں۔ 
فلمساز گلزارؔ کی فلم ’ماچس‘ میں کراس بارڈر دہشت گردی کے قومی مسئلے کو بڑے پیمانے پر پیش کیا گیا ہے۔ اسی طرح فلم ’انگار وادی‘ میں پڑوسی ملک کی شہ پر کشمیر میں پھیلی دہشت گردی کی عکاسی کی گئی ہے۔ 
یہ ضرور ہے کہ ان فلموں میں دہشت گردی کے قومی مسئلے کو موضوع بنایا گیا ہے۔ مگر ہماری ان عصری فلموں میں مسائل کے حل کا فقدان بھی ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ کسی ایک فلم میں دہشت گردی کے پنپنے کی وجہ اور اس کے خاتمے کیلئے کسی بہتر حل کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہوتا۔ 
کہا جاتا ہے کہ ہماری فلمیں ہمارے سماج کا ہی آئینہ ہیں۔ جو کچھ ہمارے سماج میں رونما ہوتا ہے، اسی کی عکاسی ہمارے فلمساز، ہدایتکار فلموں میں کرتے ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب ہندوستان میں اسمگلروں کا بہت آتنک پھیلا ہوا تھا، لہٰذا ہمارے فلمسازوں نے اسمگلنگ کے موضوع کو لے کر بھی کئی بہترین فلمیں تخلیق کی ہیں جس کی ایک بہترین مثال فلم ’دیوار‘ ہے۔ اس کے فوراً بعد ہی انڈرورلڈ کا زمانہ آگیا۔ زمین مافیا اور منشیات کے بادشاہوں نے سماج کو اپنے چنگل میں جکڑ لیا، لہٰذا عصری تقاضوں کو محسوس کرتے ہوئے فلمسازوں نے ان موضوعات پر بھی کئی بڑی اور شاندار قسم کی فلمیں بنائیں۔ ’شان، ڈان، پرندہ، انگارے، آپاتکال، ہتھیار اوربھائی‘ جیسی فلموں نے اس موضوع پر لوگوں کی توجہ بخوبی مبذول کرائی۔ انڈرورلڈ کا موضوع بھی ہمارے لئے قومی مسئلہ بنا ہوا تھا، اس لئے عصری فلموں نے اس مسئلے کو بھی بھرپور طریقے سے پیش کیا۔ 
ایک زمانے میں ہندوستانی عورت چہار دیواری میں بند، ڈری سہمی اور سماج کی ایک انتہائی دبی کچلی مخلوق ہوا کرتی تھی۔ ہماری عام فلموں میں بھی اس کا یہی روپ ہوا کرتا تھا۔ مگر دھیرے دھیرے آٹھویں اور نویں دہائیوں میں ہماری فلموں نے عورت کے اس روپ کو بدلنے کی کوشش کی، اور گزشتہ صدی جاتے جاتے جس طرح عورت نے سماج میں ایک مقام حاصل کیا اور وہ زندگی کے ہر شعبہ میں مرد کے کندھے سے کندھا ملاکر چلنے لگی۔ اس میں بھی ہماری عصری فلموں کو بڑا دخل حاصل ہے۔ ہماری فلموں نے سماج میں عورت کے ایسے روپ پیش کئے جن سے ان میں قوت ارادی اور حوصلہ پیدا ہوا۔ فلم ’پھول بنے انگارے، زخمی عورت، زخم، میڈم ایکس‘ اور اس کے بعد نمائش کیلئے پیش کی گئی فلم ’گاڈ مدر‘ اس طرح کی فلموں کی بہترین مثالیں ہیں۔ عورت کا پچھڑاپن بھی ہمارے پورے سماج کے لئے ایک مسئلہ تھا اور ہماری عصری فلموں نے اس مسئلہ کو سلولائڈ پر اتار کر عوام کے سامنے پیش کیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: سارہ علی خان نے کم وقت میں اپنی صلاحیتیں ثابت کیں

قومی اتحاد ملک کا ایک بڑا سماجی مسئلہ ہے۔ ہندوستان جیسے بڑے ملک میں، جہاں مختلف مذاہب کے ماننے والے، مختلف زبانیں بولنے والے اور مختلف رسم و رواج کے لوگ بستے ہوں، وہاں سب کو ایک ڈور سے باندھنے میں بھی ہماری فلموں کا بڑا دخل رہا ہے۔ ہمارے فلم سازوں نے وقت کی اس ضرورت کو محسوس کیا ہے اور وقت وقت پر قومی اتحاد کے موضوع پر فلمیں بنائی ہیں۔ عصری فلموں میں بھی اس قومی مسئلہ کو پیش کیا جا رہا ہے۔ ’غدر، باڈر، بامبے، زخم، جنم، ایل او سی، مشن کشمیر اورلکشیہ‘ وغیرہ کئی ایسی عصری فلمیں ہیں، جن کے ذریعہ ملک میں قومی اتحاد کو مضبوط کرنے کا پیغام دیا گیا ہے، اور ان فلموں کو عوام نے پسند بھی کیا ہے۔ ابھی حال ہی میں شاہ رخ خان کی کمپنی ریڈ چلیز نے ایک فلم ’جوان‘ بنائی ہے جس میں شاہ رخ خان ہی نے مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ اس فلم میں عصری موضوعات کو نہایت خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے۔ اس میں ملک کے شہریوں کو سیاست دانوں سے سوال پوچھنے پر آمادہ کیا ہے اور اب دیکھا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ ملک بھر میں ’جین زی‘ اور ’جین الفا‘ اسی کو فالو کررہے ہیں۔ اس حوالے سے اگر یہ دعویٰ کیا جائے کہ ہماری فلمیں ملک کےلگ بھگ تمام قومی اور عصری مسائل کی عکاسی کر رہی ہیں اور اس کے ساتھ ہی سماج کو جوڑنے کے عمل کو بھی جاری رکھے ہوئے ہیں تو قطعی غلط نہ ہوگا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK