ایف ڈی اے کے ذریعہ لائسنس معطل کئے جانے کیخلاف عرضی پر سماعت کے دوران ججوں نے کہا کہ ’’گاہکوں کی طرح تم بھی کچھ عرصہ تکلیف برداشت کرو۔‘‘
اڈپی کے مالکان اس ا مید پر عدالت عالیہ پہنچ گئے کہ ان کا لائسنس بحال ہوجائے گا مگر ایسا نہیں ہوا۔ تصویر: آئی این این
ایف ڈی اے (فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن) کے ذریعہ بند کرائے گئے تھانے کے ایک ریسٹورنٹ کے مالکان کو راحت دینے سے انکار کرتے ہوئے بامبے ہائی کورٹ نے کہا کہ آپ نے گاہکوں کو تکلیف پہنچائی ہے تو اب نتیجہ بھگتو۔ اس ریسٹورنٹ کو ممنوعہ (ویجیٹبل آئل سے بنی) پنیر فروخت کرنے پر بند کرایا گیا ہے۔
یاد رہے کہ اس ماہ کی ابتداء میں حکومت مہاراشٹر نے پوری ریاست میں ایک سال کیلئے ’نان ڈیری پنیر‘ جسے ’اینا لاگ پنیر‘ بھی کہا جاتا ہے یعنی دودھ کے بجائے ’ویجیٹیبل آئل‘ اور دیگر ایشاء سے بنائی گئی پنیر کی فروخت پر پابندی عائد کردی ہے۔ بہت بڑی تعداد میں ریسٹورنٹ، ہوٹلوں اور کھانے پینے کے دیگر مقامات پر اینالگ پنیر فروخت کیا جاتا ہے لیکن گاہک اسے دودھ سے بنی اصلی پنیر سمجھ کر کھاتے ہیں۔ عوام کی صحت کا خیال کرتے ہوئے مہاراشٹر حکومت نے اس پنیر کی فروخت پر پابندی عائد کردی ہے۔ اس قانون میں کہا گیا ہے کہ اس پابندی کی خلاف ورزی ہونے پر اگر خراب کھانا کھانے کی وجہ سے کسی کی موت ہوجائے تو خلاف ورزی کرنے والوں کو عمر قید کی سزا اور ۱۰؍ لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے۔پابندی کے باوجود تھانے میں واقع اُڈپی سواد نامی ایک ریسٹورنٹ میں اینالاگ پنیر فروخت کی جارہی تھی جس کی وجہ سے ایف ڈی اے نے اس کا لائسنس معطل کردیا۔ اڈپی ہوٹل کے انتظامیہ نے اس فیصلے کو بامبے ہائی کورٹ میں چیلنج کرکے درخواست کی کہ ان کا لائسنس بحال کردیا جائے۔
واضح رہے کہ بامبے ہائی کورٹ نے حال ہی میں چند مرتبہ ایف ڈی اے کو مختلف مقامات پر کارروائی کی وجہ سے لتاڑا ہے حتیٰ کہ عدالت نے ایف ڈی اے کو پونے کی ایک مٹھائی کی دکان کے کاروبار میں نقصان کی بھرپائی کے طور پر ۵؍ لاکھ روپے ادا کرنے کا بھی حکم دیا تھا جس کی وجہ سے بہت سے ریسٹورنٹ اور مٹھائی کی دکانوں کے مالکان ایف ڈی اے کے خلاف عدالت پہنچنے لگے ہیں۔ شاید اسی امید پر اڈپی کے مالکان بھی عدالت عالیہ پہنچ گئے کہ ان کا لائسنس بحال ہوجائے گا تاہم ججوں نےانہیں کسی بھی قسم کی راحت دینے سے انکار کردیا۔اصلی پنیر استعمال نہ کرنے کے سوال پر عرضی گزار کے وکیل نے عدالت سے کہا کہ اب ان کے ریسٹورنٹ میں اصلی پنیر استعمال کیا جائے گا اس لئے لائسنس بحال کردیا جائے۔ تاہم ججوں نے کہا کہ جس طرح سے تم نے گاہکوں کے تکلیف پہنچائی ہے اس طرح کچھ وقفہ تم بھی تکلیف برداشت کرو۔ ججوں نے لائسنس بحال کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ پہلے ایف ڈی اے کو اپنا جواب داخل کرنے دو اور آئندہ سماعت ۷؍ ستمبر تک کیلئے ملتوی کردی۔