ممبرا میں جلوس عید میلادالبنیؐ کے تعلق سے علماء اور ذمہ داران,کی میٹنگ میں اظہار خیال۔اس دوران کئی اہم امور پرتوجہ دلائی گئی
میٹنگ میں مولانا الحاج سید معین الدین اشرف ، الحاج محمد سعید نوری،مولانا ہدایت اللہ ، مولانا توکیل شمسی، قاری عطاءاللہ ،مولانا جمال اشرفی اور دیگر نظر آرہےہیں۔تصویر: آئی این این
ہمیں اپنے کردار وعمل سے خود کو سچا عاشق ِ رسول ؐثابت کرنا ہوگا۔‘‘ سنیچر کو ممبرا میں جلوس ِعید میلادالبنیؐ کے تعلق سے علماء اور ذمہ داران کی میٹنگ بلائی گئی۔دورانِ میٹنگ کئی اہم امور پرتوجہ دلاتے ہوئے مذکورہ بالا پیغام دیاگیا ۔میٹنگ میں مولانا الحاج سید معین الدین اشرف نے کہاکہ ’’ حضور اکرم ؐپوری انسانیت کے ہادی و رہبر ہیں۔آپ ؐ کو رحمۃ للعالمین بناکر بھیجے جانے پرخدا کا شکر ادا کیا جائے۔ اس مبارک موقع پر عوام کو مسائل شرعیہ سے آگاہ کیا جائے ، ان کو نیک اعمال کی ترغیب دلائی جائے اورغلط کاموںسے بچنے کی تلقین کی جائے۔‘‘ اس موقع پر انہوں نےیہ بھی کہا کہ ’’یہ بات بطور خاص ذہن نشین رہے کہ جلوس عید میلادالنبیؐ میںعشقِ رسولؐ اور اتباعِ سنت کا پیغام عا م ہو۔ آپؐ کی محبت ہمارے ایمان کی بنیاداور آپ ؐکی سیرتِ طیبہ ہمارے لئے زندگی گزارنے کا بہترین نمونہ ہے۔‘‘
معین میاں نے مزیدکہاکہ’’شرکاء جلوس کو اپنے عمل اور کردارسے دنیا کے سامنے حضورؐ کی تعلیمات، اخلاق اور کردار کا پیغام بھی پہنچانا ہے۔عشقِ رسولؐ اور نبی کریمؐ سے محبت صرف زبان سے دعویٰ کرنے کا نام نہیں بلکہ آپؐ کی اطاعت اور اتباع کا نام ہے۔اس تعلق سے ہمیں دیکھنا چاہئے کہ ہماری زندگی میں نماز، سچائی، امانت داری ، حسنِ اخلاق، والدین کا احترام اور پڑوسیوں کے حقوق کہاں تک موجود ہیں؟اسی طرح دوران جلوس خرافات اور غیر شرعی امور سے بچنا بھی انتہائی اہم ہے۔ ڈی جے بجانا اور ناچنا اسلام میں حرام ہے، اس سےبہر صورت بچا جائے۔ اس کے علاوہ پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے جو ہدایات دی جائیں، ان کی بھی پابندی کی جائے ۔‘‘
رضا اکیڈمی کے سربراہ الحاج محمد سعید نوری نے کہا کہ’’ہمیں اپنے کردار وعمل سے خود کو سچا عاشق ِرسول ؐ ثابت کرنا ہوگا اوراپنے عمل سے یہ بتانا چاہئے کہ مسلمان اپنے نبیؐ سے محبت کرنے والااور امن پسند ہے۔ جلوس عید میلادالنبیؐ کے ساتھ اخلاقِ نبویؐ کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھالنا بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔‘‘
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’ شرکاءکوجلوس میں شرکت کرتے وقت ادب و احترام کا خاص خیال رکھنا چاہئے اور کسی کو تکلیف نہ پہنچائی جائے۔ اسی طرح جلوس کے دوران شور شرابے، گالم گلوچ، ہلڑ بازی، بدتمیزی اور ایسی تمام حرکات سے بچنا چاہئے جو حضورؐ کی مبارک تعلیمات کے خلاف ہوں۔دریں اثناء دیگرمذاہب کے ماننے والوںکو تکلیف دینا یا کسی کے جذبات کو مجروح کرنا اسلام میں سخت ناپسندیدہ عمل اور حضور ؐکی تعلیمات کے منافی ہے۔ہمیں اپنے کردار وعمل سے یہ بھی بتانا ہےکہ مسلمان بااخلاق، صابر اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنے والا ہوتا ہے۔‘‘