Updated: April 09, 2026, 5:17 PM IST
| Mumbai
فلم ’’دھرندھر: دی ریوینج‘‘ کے اداکار مانو گوہل نے انکشاف کیا ہے کہ اس فلم کی کامیابی کے بعد رنویر سنگھ میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ باپ بننے اور فلمی کامیابی کے بعد رنویر اپنے انتخاب اور عوامی امیج کے حوالے سے زیادہ محتاط ہو گئے ہیں۔ مانو کے مطابق رنویر کے لباس، رویے اور میڈیا میں موجودگی میں بھی واضح فرق دیکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے فلم پر لگنے والے پروپیگنڈا الزامات کو بھی مسترد کرتے ہوئے اسے تخلیقی اظہار قرار دیا۔
مانو گوہل۔ تصویر: آئی این این
فلم ’’دھرندھر‘‘ اور اس کے سیکوئل ’’دھرندھر: دی ریوینج‘‘ کی غیر معمولی کامیابی کے بعد اداکار رنویر سنگھ کی شخصیت اور طرزِ زندگی میں تبدیلی کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ ان کے ساتھی اداکار مانو گوہل نے ایک حالیہ انٹرویو میں اس تبدیلی پر کھل کر گفتگو کی۔ ہندی رش کو دئیے گئے انٹرویو میں مانو گوہل نے کہا، ’’میرے خیال میں رنویر اس وقت اپنی زندگی کے ایک بہت اہم مرحلے میں ہیں، وہ تبدیلی سے گزر رہے ہیں۔ وہ ایک باپ بن چکے ہیں اور سب سے زیادہ کمائی کرنے والی تاریخی فلموں میں سے ایک کا چہرہ ہیں۔ وہ پہلے سے ہی ایک سپر اسٹار اور ایک عظیم اداکار ہیں، وہ آج ان کے پاس موجود ہر چیز کے مستحق ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ ان کے انتخاب کے پیچھے ایک بڑا منصوبہ ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: کس اداکارہ کے کہنے پرمیتھیلاکو اکشے کمار کی فلم’’بھوت بنگلہ ‘‘ میں کام ملا؟
انہوں نے مزید کہا کہ رنویر سنگھ کی مجموعی شخصیت میں نمایاں تبدیلی دیکھی جا سکتی ہے۔ ’’اگر آپ نے دیکھا، ان کے کپڑے، ان کی میڈیا میں موجودگی، سب کچھ بدل گیا ہے۔ ان کا برتاؤ بدل گیا ہے۔ وہ اب زیادہ ساختہ، اچھی طرح سے تیار شدہ شکل میں نظر آتے ہیں۔ وہ ایک مختلف شخص کی طرح محسوس ہوتے ہیں۔‘‘ رپورٹس کے مطابق رنویر سنگھ نے حالیہ دنوں میں میڈیا سے نسبتاً کم رابطہ رکھا ہے اور عوامی تقریبات میں بھی کم دکھائی دئیے ہیں، جسے ان کی بدلتی ترجیحات سے جوڑا جا رہا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں، جب مانو گوہل سے فلم سے جڑے تنازعات کے بارے میں پوچھا گیا، تو انہوں نے کہا، ’’رنویر صرف ہندوستان میں ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر ایک سپر اسٹار ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ وہ اپنے اسٹارڈم کو سنبھالنے میں زیادہ ذمہ دار ہو گئے ہیں۔ ان فیصلوں میں رہنمائی کرنے والے لوگ ہیں، اور دپیکا پڈوکون خود ایک بہت سمجھدار خاتون ہیں۔‘‘ مانو گوہل نے ایک اور انٹرویو میں فلم پر لگنے والے پروپیگنڈا الزامات کا بھی جواب دیا۔ انہوں نے کہا، ’’سنیما خالصتاً تخلیقی اظہار کا ایک ذریعہ ہے۔ جس لمحے آپ اس پر سیاست اور اخلاقیات کا سامان ڈالتے ہیں، آپ اس کے پروں کو روک رہے ہوتے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: فلم ’’کاک ٹیل۲‘‘ کے گانے ’’جب تلک‘‘ کے سیٹ پر مثبت توانائی تھی: شاہد کپور
انہوں نے مزید کہا، ’’فن اور سیاست کو آپس میں نہیں ملایا جانا چاہیے۔ لوگ ایسا کرتے ہیں، لیکن میں اس پر کوئی رائے نہیں رکھ سکتا کیونکہ آج دنیا اسی طرح چل رہی ہے۔‘‘ فلم کی کامیابی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’جہاں تک ’’دھرندھر‘‘ اور ان بات چیت کا تعلق ہے، مجھے لگتا ہے کہ یہ ایک توثیق ہے۔ فلم بہت اچھا کام کر رہی ہے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ جب کوئی دوست آپ کے بارے میں برا کہتا ہے یا آپ پر بحث کرتا ہے، اس کا مطلب ہے کہ آپ بڑھ رہے ہیں۔ اسی طرح، مجھے لگتا ہے کہ یہ اچھی بات ہے کہ لوگ ہماری فلم کے بارے میں بات کر رہے ہیں، اب چاہے وہ اچھے یا برے انداز میں ہو۔‘‘
فلمی حلقوں میں رنویر سنگھ کی اس تبدیلی کو ان کے کریئر کے ایک نئے مرحلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ ’’دھرندھر‘‘ فرنچائز کی کامیابی نے انہیں عالمی سطح پر مزید مستحکم کر دیا ہے۔