Updated: April 09, 2026, 6:01 PM IST
| Ankara
ترک صدر رجب طیب اردگان اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں ایران کے ساتھ حالیہ جنگ بندی اور خطے کی صورتحال پر گفتگو کی گئی۔ اردگان نے جنگ بندی کو مستقل امن کی جانب ایک اہم موقع قرار دیتے ہوئے اس کے مؤثر استعمال پر زور دیا۔
ترک صدر رجب طیب اردگان (دائیں)، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ (بائیں)۔ تصویر: آئی این این
ترکی کے صدر رجب طیب اردگان اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان بدھ کو ایک اہم ٹیلی فونک رابطہ ہوا، جس میں ایران کے ساتھ حالیہ جنگ بندی اور خطے میں جاری پیش رفت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ بیان کے مطابق دونوں لیڈروں نے خاص طور پر اس جنگ بندی پر توجہ مرکوز کی جو منگل کی رات اعلان کی گئی تھی۔ اس موقع پر رجب طیب اردگان نے خطے کی تازہ ترین صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے جنگ بندی کے اعلان پر اطمینان کا اظہار کیا۔ اردگان نے کہا کہ ۴۰؍ دنوں کی کشیدگی کے بعد حاصل ہونے والی دو ہفتوں کی جنگ بندی ایک اہم موقع فراہم کرتی ہے، جس کے ذریعے ایک مستقل امن معاہدے کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے اس مدت کو مؤثر انداز میں استعمال کرنے پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا کہ کوئی بھی ایسی کارروائی جو اس عمل کو نقصان پہنچائے، خطے میں استحکام کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کی وہائٹ ہاؤس میں روٹے سے ملاقات، نیٹو پر تنقید
ترک صدر نے مزید کہا کہ ترکی اپنے دوست اور برادر ممالک، بالخصوص پاکستان کے ساتھ مل کر سفارتی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا تاکہ ایک پائیدار حل تک پہنچا جا سکے۔ دوسری جانب ڈونالڈ ٹرمپ نے منگل کو ایران کے ساتھ دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ تہران کی جانب سے مذاکرات کے لیے ایک ۱۰؍ نکاتی ’’قابل عمل‘‘ تجویز پیش کی گئی ہے، جسے مستقبل کے معاہدے کی بنیاد قرار دیا جا رہا ہے۔ ایران کی سپریم نیشنل سیکوریٹی کونسل کے مطابق اس تجویز میں کئی اہم نکات شامل ہیں، جن میں عدم جارحیت، آبنائے ہرمز پر ایرانی کنٹرول کا تسلسل، یورینیم افزودگی کی اجازت، اور ایران پر عائد تمام بنیادی اور ثانوی پابندیوں کا خاتمہ شامل ہے۔
مزید برآں اس تجویز میں ایران کو معاوضہ ادا کرنے، خطے سے امریکی افواج کے انخلاء، اور لبنان میں حزب اللہ کے خلاف جاری جنگ سمیت تمام محاذوں پر لڑائی ختم کرنے کی شرائط بھی شامل ہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ۲۸؍ فروری سے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف کارروائیوں کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا تھا۔ اس کے بعد منگل کی رات جنگ بندی کا اعلان ممکن ہو سکا۔ موجودہ صورتحال میں عالمی برادری کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا یہ عارضی جنگ بندی ایک مستقل امن معاہدے میں تبدیل ہو سکے گی یا نہیں، جبکہ ترکی سمیت کئی ممالک اس عمل کو آگے بڑھانے کے لیے سفارتی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔