Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’چنری چنری‘‘ تنازع: کمپوزرز نے اسے ریمیک نہیں خراجِ تحسین قرار دیا

Updated: June 02, 2026, 6:57 PM IST | Mumbai

۱۹۹۹ء کی سپر ہٹ فلم ’’بیوی نمبر ون‘‘ کے مقبول گیت ’’چنری چنری‘‘ کے نئے ورژن ’’چنری چنری لیٹس گو‘‘ نے ریلیز ہوتے ہی سوشل میڈیا پر بحث چھیڑ دی ہے۔ ’’ہے جوانی تو عشق ہونا ہے‘‘ کے لیے تیار کیے گئے اس گانے کو جہاں کچھ مداحوں نے ناپسند کیا، وہیں موسیقار جوڑی اکشے اور آئی پی نے وضاحت کی ہے کہ یہ ریمیک نہیں بلکہ اصل گانے کو خراجِ تحسین پیش کرنے کی ایک کوشش ہے۔ دوسری جانب گانے کے حقوق کے متعلق ٹپس انڈسٹریز اور پوجا انٹرٹینمنٹ کے درمیان ۴۰۰؍ کروڑ روپے کے قانونی تنازعے نے معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

بالی ووڈ کے چند ہی گانے ایسے ہیں جو دہائیوں گزرنے کے باوجود اپنی مقبولیت برقرار رکھنے میں کامیاب رہتے ہیں، اور ’’بیوی نمبر ون‘‘ کا مشہور نغمہ ’’چنری چنری‘‘ انہی میں شامل ہے۔ سلمان خان اور سشمتا سین پر فلمایا گیا یہ گانا ۱۹۹۹ء میں ریلیز ہوا تھا اور آج بھی موسیقی کے شائقین کی پسندیدہ فہرست میں شامل ہے۔ اب ڈیوڈ دھون کی نئی فلم ’’ہے جوانی تو عشق ہونا ہے‘‘ کے لیے اس گانے کا نیا ورژن ’’چنری چنری لیٹس گو‘‘ پیش کیا گیا ہے، جس کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔ متعدد صارفین نے سوال اٹھایا کہ ایک کلاسک اور یادگار گانے کو دوبارہ بنانے کی ضرورت کیوں پیش آئی، جبکہ بعض نے نئے ورژن کو اصل گانے کے معیار سے کم قرار دیا۔

یہ بھی پڑھئے: شاہد کپور، کریتی سینن، رشیمکا مندانا کی فلم ’’کاک ٹیل ۲‘‘کا ٹریلر جاری

تنقید کے اس طوفان کے درمیان گانے کے نئے ورژن سے وابستہ موسیقار جوڑی اکشے اور آئی پی نے اپنی وضاحت پیش کی ہے۔ زوم کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اکشے نے کہا کہ وہ اس گانے کو ریمیک نہیں بلکہ ’’ری اِمیجینیشن‘‘ یا نئے انداز میں پیش کی گئی خراجِ تحسین سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہمارے نزدیک یہ ریمیک نہیں ہے۔ اصل بولوں اور جذبات کو برقرار رکھتے ہوئے اسے ایک نئے انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ دھن کے کچھ حصوں کو نمونے کے طور پر استعمال کیا گیا ہے جبکہ کئی نئے بول شامل کیے گئے ہیں۔ اس لیے اسے ریمیک کے بجائے دوبارہ تخلیق یا تفریح کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔‘‘

گیت کے شریک موسیقار اور گلوکار آئی پی نے بھی اس موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد نئی نسل کو ۱۹۹۰ء کی دہائی کے مقبول گانوں سے روشناس کرانا تھا۔ ان کے مطابق، ’’ہم نے کوشش کی کہ اصل گانے کا احساس اور جذبات برقرار رہیں، لیکن اسے موجودہ دور کی موسیقی اور آوازوں کے ساتھ پیش کیا جائے تاکہ نوجوان سامعین بھی اس سے جڑ سکیں۔‘‘ اصل ’’چنری چنری‘‘ کو معروف موسیقار انو ملک نے کمپوز کیا تھا جبکہ اسے ابھیجیت بھٹا چاریہ اور انورادھا سری رام نے گایا تھا۔ نئے ورژن میں انورادھا سری رام کی آواز برقرار رکھی گئی ہے جبکہ آئی پی، جونیتا گاندھی، اسیس کور اور سدھیر یادوونشی کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: آپ کا مشن اے آئی کو تباہ کرنا ہے: ہارورڈ میں اداکار رونی چیانگ کا خطاب وائرل

دلچسپ بات یہ ہے کہ اصل گانے سے وابستہ شخصیات کی رائے بھی منقسم نظر آتی ہے۔ انو ملک نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے نئے ورژن کا دفاع کیا، جبکہ ابھیجیت بھٹاچاریہ نے اس پر سخت تنقید کی۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ نئے ورژن میں اصل گانے کی دلکشی اور رومانویت موجود نہیں اور یہ زیادہ تر ایک ’’بھجن‘‘ جیسا محسوس ہوتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ گانا دوبارہ بنانے سے پہلے نہ تو ان سے مشورہ کیا گیا اور نہ ہی کوئی رابطہ کیا گیا۔ ادھر یہ تنازع صرف موسیقی تک محدود نہیں رہا بلکہ قانونی محاذ پر بھی پہنچ گیا ہے۔ گانے کے حقوق کے معاملے پر ٹپس انڈسٹریز اور پوجا انٹرٹینمنٹ کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں۔

ٹپس انڈسٹریز، جس کی قیادت رمیش تورانی کر رہے ہیں، کا دعویٰ ہے کہ وہ متعلقہ گانوں اور موسیقی کے تمام قانونی کاپی رائٹس کی مالک ہے۔ دوسری جانب پوجا انٹرٹینمنٹ کے سربراہ واشو بھگنانی نے ٹپس میوزک لمیٹڈ اور دیگر فریقین کے خلاف ۴۰۰؍ کروڑ روپے کا دعویٰ دائر کیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ’’بیوی نمبر ون‘‘ سے وابستہ مواد اور گانوں کو ان کی اجازت کے بغیر استعمال کیا گیا۔ واشو بھگنانی نے اے این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم نے ’’بیوی نمبر ون‘‘ مل کر بنائی تھی اور یہ بہت بڑی کامیابی ثابت ہوئی تھی۔ اگر آپ انہی گانوں کو کسی نئی فلم میں استعمال کر رہے ہیں تو کم از کم ایک فون کال کرکے آگاہ تو کرنا چاہیے تھا۔ افسوس کہ اس بارے میں کوئی بات چیت نہیں کی گئی۔‘‘ واضح رہے کہ ’’بیوی نمبر ون‘‘ اور ’’ہے جوانی تو عشق ہونا ہے‘‘ دونوں کے ہدایت کار ڈیوڈ دھون ہیں، جس کی وجہ سے یہ تنازع مزید دلچسپی کا باعث بن گیا ہے۔ ورون دھون، مرنال ٹھاکر اور پوجا ہیگڑے کی اداکاری سے سجی ’’ہے جوانی تو عشق ہونا ہے‘‘ ۵؍ جون کو سنیما گھروں میں ریلیز ہونے جا رہی ہے۔ تاہم فلم کی نمائش سے قبل ’’چنری چنری‘‘ کے نئے ورژن اور اس سے جڑے قانونی تنازعے نے اسے پہلے ہی خبروں کا مرکز بنا دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK