ڈاکٹروں کی ہڑتال کے دوران ۲؍ گھنٹوں کیلئے ریاست بھر میں نرسوں نے بھی کام کاج بند کر دیا ، آئندہ بڑے پیمانے پر احتجاج کا انتباہ۔
EPAPER
Updated: August 05, 2026, 10:20 AM IST | Z. A. Khan | Aurangabad
ڈاکٹروں کی ہڑتال کے دوران ۲؍ گھنٹوں کیلئے ریاست بھر میں نرسوں نے بھی کام کاج بند کر دیا ، آئندہ بڑے پیمانے پر احتجاج کا انتباہ۔
منگل کے روز ریاست بھر کے ایلو پیتھی ڈاکٹروں نے ہومیوپیتھی ڈاکٹروں کے مارڈ میں رجسٹریشن کے خلاف ہڑتال کی تھی۔ اسی دوران موقع کی مناسبت سے مختلف اسپتالوں میں کام کرنے والی نرسوں نے بھی ہڑتال میں شرکت کی اور علامتی طور پر ۲؍ گھنٹے تک کام کاج بند رکھا۔
مہاراشٹر گورنمنٹ نرسیس فیڈریشن کی جانب سے مختلف زیر التوا مطالبات کے حق میں ریاست بھر میں دو گھنٹے تک ہڑتال کی گئی اور اسپتال کے باہر احتجاج کیا گیا۔ صبح ساڑھے ۷؍ بجے سے ساڑھے ۹؍ بجے تک نرسوں نے اپنی خدمات معطل رکھیں، زبردست نعرے لگائے اور احتجاج کیا۔اورنگ آباد کے گھاٹی سرکاری اسپتال کی گورنمنٹ نرسیس ایسوسی ایشن کی اراکین نے بھی اس احتجاج میں بھرپور شرکت کی۔ مظاہرین نے ریاست بھر میں نرسوں کی خالی اسامیوں کو پُر کرنے کامطالبہ کیا جو طویل عرصے سے زیر التواء ہے۔ مہاراشٹر گورنمنٹ نرسز فیڈریشن کی ریاستی صدر اندومتی تھورات نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نے فوری طور پر مثبت اقدامات نہیں کئے تو نرسیں غیر معینہ مدت کی ہڑتال پر جانے پر مجبور ہوں گی۔فیڈریشن کا کہنا ہے کہ حکومت کو بارہا یاددہانی کروانے کے باوجود نرسنگ شعبے کے زیر التوا مسائل کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے، جس کے باعث نرسنگ عملے میں شدید بے چینی اور ناراضگی پائی جا رہی ہے۔ نرس، اسٹاف نرس، ڈیویژنل نرس، انسٹرکٹر، اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ اور سپرنٹنڈنٹ نرس سمیت مختلف عہدوں پر ہزاروں اسامیاں خالی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: دورانِ پرواز طیارہ ۳۰۰؍ فٹ نیچے آگیا
انہوں نے کہا کہ مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر ان اسامیوں کو فوری طور پر پُر کرنا انتہائی ضروری ہے، لیکن حکومت اس جانب توجہ نہیں دے رہی۔ مظاہرین نے کہا کہ یہ احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ حکومت کی بے حسی اور غیر سنجیدہ رویے کا نتیجہ ہے۔احتجاج کرنے والوں کے اہم مطالبات میں نظرثانی شدہ سروس رول کو فوری طور پر حتمی شکل دینا، نیا تنظیمی ڈھانچہ تیار کرکے اسے سرکاری منظوری دینا، تمام رکی ہوئی ترقیوں کا عمل مکمل کرنا اور تمام خالی اسامیوں پر براہِ راست بھرتی کا عمل فوری شروع کرنا شامل ہے۔اس احتجاج میں ریاستی صدر اندومتی تھورات کے علاوہ شبھ منگل بھکت، مکرند اُودئےکار، پروین ویوہارے، وندنا کولنورکر، پرتیبھا اندھارے، کالندی اڈھاٹے، لتا سونڈگے، انوجا ٹیکالے، مجمل پٹھان، گنیش گاوڈے، دادا صاحب کاسار، ملند توگارواڑ سمیت ہزاروں نرسوں نے شرکت کی۔اندومتی تھورات نے کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ وہ ہمارے احتجاج کا فوری نوٹس لیتے ہوئے تمام جائز مطالبات پورے کرے، بصورت دیگر پورے مہاراشٹر میں غیر معینہ مدت کیلئے کام بند تحریک شروع کی جائے گی۔
یاد رہے کہ منگل ہی کو ریاست بھر کے ڈاکٹروں نے بھی ۲۴؍ گھنٹوں کیلئے ہڑتال کی تھی۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ہومیوپیتھی ڈاکٹروں کا مہاراشٹر ایسوسی ایشن آف ریزیڈنٹ ڈاکٹرس( مارڈ) کے تحت رجسٹریشن نہ کیا جائے ۔ اس کی وجہ سے ۲؍ علاحدہ طبی طریقوں کا فرق مٹ جائے گا۔