کانگریس نے امیت شاہ کے خلا ف احتجاج کیا تو بی جے پی ورکروں نے کانگریس دفتر کے باہر نعرے لگائے امیت شاہ کے ہاتھوں اجیت ڈوبھال کو لوک مانیہ تلک ایوارڈ، دیویندر فرنویس اور ایکناتھ شندے کی بھی شرکت
EPAPER
Updated: August 02, 2026, 9:10 AM IST | Pune
کانگریس نے امیت شاہ کے خلا ف احتجاج کیا تو بی جے پی ورکروں نے کانگریس دفتر کے باہر نعرے لگائے امیت شاہ کے ہاتھوں اجیت ڈوبھال کو لوک مانیہ تلک ایوارڈ، دیویندر فرنویس اور ایکناتھ شندے کی بھی شرکت
حسب اعلان مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ سنیچر کے روز پونے پہنچے جہاں انہیں کانگریس کی طرف سے مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ کانگریس نے پہلے ہی اعلان کیا تھا کہ امیت شاہ کی آمد پر ان کے خلاف مظاہرہ کیا جائے گا۔ اسی کے پیش نظر پولیس نے شہر کے چپے چپے پر اپنے اہلکار تعینات کر دیئے تھے۔ حالانکہ پولیس نے کانگریس کو خود ہی احتجاج کی اجازت بھی دے رکھی تھی۔ ادھر بی جے پی نے کانگریس کے احتجاج کے جواب میں اس کے دفتر کے باہر احتجاج کیا۔
یاد رہے کہ پونے کے تلک اسمارک مندر ٹرسٹ کے زیر اہتمام اس سال کا لوک مانیہ تلک ایوارڈ قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال کو دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔ یہ ایوارڈامیت شاہ کے ہاتھوں دیا جانے والا تھا۔ کانگریس نے اعلان کیا تھا کہ اگر امیت شاہ پونےآئے تو ان کے خلاف احتجاج کیا جائے گا۔ پونے کانگریس کے صدر پرشانت جگتاپ ، دپتی چودھری اور سابق رکن اسمبلی موہن جوشی اس احتجاج کی قیادت کر رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے شنکر سیٹھ روڈ پر واقع ’سیون لوز چوک ‘ پر احتجاج کی اجازت مانگی تھی لیکن پولیس نے مارکیٹ یارڈ علاقے میں مظاہرہ کرنے کی اجازت دی۔ اس دوران بڑی تعداد میں کانگریس کارکنان احتجاج میں شریک ہونے پہنچے انہوں نے امیت شاہ کے خلاف نعرے لگائے۔ وہ امیت شاہ کے قافلے کے سامنے احتجاج کرنا چاہتے تھے لیکن پولیس نے انہیں ایسا کرنے سے روک دیا۔
بی جے پی کارکنان کی گرفتاری
دوسری طرف بی جے پی کارکنان نے کسی بھی طرح کے احتجاج کی کوئی اجازت نہیں لی تھی لیکن کانگریس کے احتجاج کے جواب میں بی جے پی کارکنان نے اچانک شہر کانگریس کے دفتر پہنچ کر وہاں احتجاج شروع کر دیا لیکن پولیس نے فوری طور پر انہیں وہاں سے ہٹ جانے کیلئے کہا۔ حکم نہ سننے پر پولیس نے انہیں گرفتار کر لیا اور تھانے لے گئی ۔ ان پر بغیر اجازت احتجاج کرنے کا معاملہ درج کیا گیا۔
اس دوران پولیس نے خصوصی فورس بلا رکھی تھی اور شہر کے ہر ایک حصے میں اہلکاروں کو تعینات کر دیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ اس سے قبل کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے اعلان کے بعد پونے میں جو احتجاج ہوا تھا اس میں ہزاروں کی تعداد میں طلبہ پہنچے تھے۔ اسی کے پیش نظر امیت شاہ کی آمد پر سیکوریٹی کو سخت کر دیا گیا تھا۔
مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے ہاتھوں قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال کو لوک مانیہ تلک ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اس موقع پر امیت شاہ نے ڈوبھال کی تعریفوں کے پل باندھے۔ انہوں نے کہا کہ ’اجیت ڈوبھال نے دہشت گردی کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ ان کی وجہ سے کئی بم دھماکوں کی تفتیش میں مدد ملی ہے۔‘‘
یاد رہے کہ لوک مانیہ تلک کے پوتے روہت تلک کے قائم کردہ تلک اسمارک مندر ٹرسٹ کی جانب سے ہر سال ملک کی کسی سیاسی یا سماجی شخصیت کو یہ ایوارڈ دیا جاتا ہے۔ اس سے قبل نریندر مودی ، منموہن سنگھ اور اندرا گاندھی کو بھی یہ ایوارڈ دیا جا چکا ہے۔ اس بار اجیت ڈوبھال کے نام قرعہ فال نکلا۔ امیت شاہ نے اپنی تقریر میں کہا ’’ میں جب گجرات کا وزیر داخلہ تھا تو وہاں سلسلہ وار بم دھماکے ہوئے تھے۔ اس وقت نریندر مودی گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے۔ انہوں نے صرف بم دھماکوں کی نہیں بلکہ اس کے پیچھے جن لوگوں کا ہاتھ ان کی اور ملک کے دیگر علاقوں میں ہو رہی دہشت گردانہ کارروائی کی تحقیقات کرنے کی ہدایت دی اور اس تعلق سے اجیت ڈوبھال کی مدد حاصل کرنے کا مشورہ دیا۔ اس وقت میں پہلی بار اجیت ڈوبھال کے رابطے میں آیا تھا۔‘‘ امیت شاہ نے کہا اجیت ڈوبھال کی دی ہوئی ٹپ کے سبب نہ صرف ان ۱۳؍ بم دھماکوں کی تفتیش مکمل ہوئی بلکہ دیگر کئی واردات کی تفتیش میں بھی مدد ملی۔ مرکزی وزیر داخلہ نے کہا’ ’ اجیت ڈوبھال کو سب سے پہلے وزیر اعظم مودی ہی نے قومی سلامتی کا مشیر مقرر کیا اور آج اجیت ڈوبھال سب سے زیادہ عرصہ تک قومی سلامتی کے مشیر رہنے والے افسر بن چکے ہیں۔ ‘‘ انہوں نے کہا ’’ وزیر اعظم مودی نے فوج کو مضبوط بنانے اور ملک کو محفوظ رکھنے کیلئے جو اقدامات کئے ہیں ان میں اجیت ڈوبھال کا بہت بڑا تعاون رہا ہے۔ ‘‘
مرکزی وزیر داخلہ نے تلک اسمارٹ ٹرسٹ اس بات کیلئے شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اس سال لوک مانیہ تلک ایوارڈ کیلئے اجیت ڈوبھال کے نام کا انتخاب کیا۔ امیت شاہ کے مطابق اجیت ڈوبھال پیدائشی دیش بھکت ہیں اس لئے انہیں یہ ایوارڈ ملنا ضروری تھا۔ اس پروگرام میں دیویندر فرنویس اور ایکناتھ شندے بھی موجود تھے ۔ ایکناتھ شندے نے بھی اجیت ڈوبھال کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے میں اجیت ڈوبھال کی حکمت عملی اور ان کی دور اندیشی بہت کارگر ثابت ہو ئی ہے۔ انہیں اس ایوارڈ کا ملنا خوشی کی بات ہے۔