Updated: September 17, 2026, 6:05 PM IST
| Bengaluru
کرناٹک کے وزیر داخلہ پریانک کھرگے نے جیل میں بند طلبہ لیڈر عمر خالد کے مقدمے میں تاخیر پر سوال اٹھاتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ سے قانونی کارروائی تیز کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے عمر خالد کو ’’ملک دشمن‘‘ قرار دینے اور ان پر بنائی گئی ڈاکیومینٹری کی نمائش کی مخالفت کرنے پر بی جے پی اور اے بی وی پی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔
پریانک کھرگے۔ تصویر: آئی این این
کرناٹک کے وزیر داخلہ پریانک کھرگے نے ۱۶؍ ستمبر بدھ کو جیل میں بند طلبہ لیڈر عمر خالد کے مقدمے میں تاخیر پر سوال اٹھاتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ سے اس معاملے کی سماعت کوجلد سے جلد آگے بڑھانے کا مطالبہ کیاہے۔ پریانک نے بی جے پی کی جانب سے عمر خالد کو ’’ملک دشمن‘‘ کہے جانے پر بھی سوال اٹھایا اور بنگلورو کی نیشنل لاء اسکول آف انڈیا یونیورسٹی میں ان پر بنی ایک ڈاکیومینٹری کی مجوزہ نمائش کی مخالفت کرنے پر اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (ABVP) کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔پی ٹی آئی کے مطابق، پریانک کھرگے نے کہا، ’’حکومت ان کا ٹرائل شروع کیوں نہیں کر رہی؟ وہ اتنے سالوں سے جیل میں ہیں اور ان کے خلاف چارج شیٹ بھی موجود ہے تو پھر سماعت سے کیوں ڈر رہے ہیں؟ مودی جی اور امیت شاہ، آپ عمر خالد سے اتنے خوفزدہ کیوں ہیں؟ قانونی کارروائی کریں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ کون ملک دشمن ہے اور کون نہیں، اس کا فیصلہ عدالت کو کرنا چاہئے نہ کہ بی جے پی کو کیونکہ کل کو بی جے پی کسی کو بھی ملک دشمن کہہ دے گی تو کیا لوگ اسے سچ مان لیں گے؟
یہ بھی پڑھئے: ’’اقلیتوں کیساتھ ناانصافی نہ کی جائے، انہیں سیاسی نمائندگی کا مساوی حق ملنا چاہیے‘‘
واضح رہے کہ عمر خالد، شرجیل امام اور شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کرنے والے دیگر فعال کارکنوں کو ۲۰۲۰ء میں دہلی فسادات کی بڑی سازش کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ عمر خالد پر یو اے پی اے سمیت دیگر سنگین دفعات کے تحت معاملہ درج کیا گیا تھا اور وہ بغیر مقدمہ آگےبڑھے گزشتہ چھ سال سے قید میں ہیں۔ یہ پورا تنازع للت وچانی کی ڈاکیومینٹری ’’پرِزنر نمبر ۶۲۶۷۱۰‘‘ کی این ایل ایس آئی یومیں مجوزہ نمائش کے بعد شروع ہوا۔ یہ اسکریننگ ۱۴؍ ستمبر کو پولیٹیکل پریزنرز ڈے کے موقع پر رکھی گئی تھی، لیکن سیکوریٹی اور انتظامی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے منتظمین نے اسے فی الحال ملتوی کر دیا۔ تاہم، آر ایس ایس کی طلبہ تنظیم اے بی وی پی نے اسکریننگ کو مستقل طور پر منسوخ کرنے اور یونیورسٹی انتظامیہ کے خلاف اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ اے بی وی پی نے اس سلسلے میں مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ، مرکزی وزیر تعلیم پرہلاد جوشی اوروزیرِ قانون ارجن رام میگھوال سے بھی مداخلت کی اپیل کی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مہاراشٹر اسٹیٹ ٹرانسپورٹ کی بس کا’ این سی ایم سی کارڈ ریچارج ‘اب گھربیٹھے ممکن
پریانک کھرگے نے اے بی وی پی کو مشورہ دیا کہ وہ عمر خالد کے پیچھے پڑنے کے بجائے تعلیم میں اصلاحات اور کے پی ایس سی (KPSC) بھرتیاں گھوٹالے جیسے مسائل پر بات کرے جس میں بی جے پی لیڈر ملوث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کون سی ڈاکیومینٹری دکھائی جائے اور کون سی نہیں، اس پر غنڈہ گردی برداشت نہیں کی جائے گی۔ اس تنازع میں تیزی اس وقت آئی جب کرناٹک کانگریس کے لیڈر بی کے ہری پرساد نے عمر خالد کو ’’محبِ وطن‘‘قرار دیا اور کہا کہ اے بی وی پی کو اس معاملےپر بولنے کا کوئی اخلاقی حق نہیں ہے کیونکہ وہ نتھو رام گوڈسے کی پیروکار ہے جو ملک کا پہلا دہشت گرد تھا۔ اس بیان پر بی جے پی اور اے بی وی پی نے شدید ردِعمل کااظہارکیا اور کرناٹک بی جے پی کے صدر بی وائی وجیندر نے ہری پرساد کے بیان کو غیر ذمہ دارانہ اور قومی سلامتی سے کھلواڑ قرار دیا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار اس بیان کی وجہ سے ہری پرساد سے دوری بنا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: جرنگے کی حالت دیکھ کر انکے والد روپڑے
اس دوران بجرنگ دل کے ایک کارکن تیجس گوڈا نے ودھانا سودھا پولیس اسٹیشن میں ہری پرساد کے خلاف عدالتی نظام کو بدنام کرنے اور امن امان کو نقصان پہنچانے کی شکایت درج کرائی ہے۔ دوسری طرف ڈاکیومینٹری کی نمائش ملتوی ہونے کے باوجود ۱۴؍ ستمبر کو این ایل ایس آئی یو کے طلباء نے ایک ریڈنگ سیشن منعقد کیا جہاں انہوں نے عمر خالد کے اپنے اہل خانہ کو لکھے گئے خطوط اور آئین کی تمہید پڑھ کر سنائی۔ اے بی وی پی نے اپنا احتجاج جاری رکھا ہے اور ۱۶؍ ستمبر کو ان کے ایک وفد نے مرکزی وزیر قانون ارجن رام میگھوال سے ملاقات کر کے منتظمین اور یونیورسٹی انتظامیہ کے خلاف تحقیقات کیلئے میمورنڈم دیا۔