• Thu, 17 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’اقلیتوں کیساتھ ناانصافی نہ کی جائے، انہیں سیاسی نمائندگی کا مساوی حق ملنا چاہیے‘‘

Updated: September 17, 2026, 11:48 AM IST | ZA Khan / Sharjeel Qureshi | Pune

پونے میں : انتخابی حلقوں کی حد بندی پر سمینار کا انعقاد، سیاسی و سماجی شخصیات کی شرکت۔

From right: Kaleem Azeem, Anees Sundke, Riaz Qazi, Qari Idrees, Ghafoor Pathan, Azhar Tamboli, and former IG Abdul Rehman. Photo: INN
دائیں سے کلیم عظیم،انیس سُنڈکے،ریاض قاضی، قاری ادریس ، غفور پٹھان، اظہر تمبولی اور سابق آئی جی عبدالرحمٰن۔ تصویر: آئی این این

 پونے میں ’’انتخابی حلقوں کی حد بندی: ایک بحث‘‘ کے عنوان سے ایک اہم سمینار کا انعقاد کیا گیا، جس میں شہر کی مختلف سیاسی اور سماجی شخصیات نے شرکت کی۔ اس پروگرام کا اہتمام مہاراشٹر کے سابق آئی جی پی اور آئی پی ایس افسر عبدالرحمٰن اور ان کی ٹیم کی جانب سے پونے کے کیمپ علاقے میں واقع لیڈی حوّا بائی اسکول میں کیا گیا۔ سمینار کے دوران انتخابی حلقوں کی حد بندی، اسکے ممکنہ سیاسی اثرات اور خصوصاً مسلم سماج کی سیاسی نمائندگی جیسے اہم امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ پروگرام کا مقصد مسلم سماج میں سیاسی بیداری اور شعور کو فروغ دینا اور عوام کو انتخابی عمل، حلقہ بندی اور سیاسی نمائندگی سے متعلق اہم معلومات فراہم کرنا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: جرنگے کی طبیعت بگڑی، منصوبہ تبدیل کرنے کا امکان

اس تقریب کے آرگنائزراور کلیدی مقرر سابق آئی پی ایس عبدالرحمٰن نے انتخابات اور حلقہ بندیوں (انتخابی حدود کا ازسرِ نو تعین) کے تصورات، اس سے وابستہ عمل، اور آئندہ ہونے والی حلقہ بندیوں کے عام شہریوں اور جمہوریت پر ممکنہ اثرات کو واضح اور سادہ الفاظ میں بیان کیا۔انہوںنے کہا کہ موجودہ سیاسی حالات میں عوام کا اپنے حقوق اور سیاسی نمائندگی کے حوالے سے باخبر اور باشعور ہونا انتہائی ضروری ہے۔ خاص طور پر مسلم سماج کو انتخابی عمل اور حلقہ بندی کے اثرات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سیاسی بیداری کے اس سلسلے کو صرف پونے تک محدود نہیں رکھا جائے گا، بلکہ مستقبل میں مہاراشٹر کے مختلف شہروں اور علاقوں میں بھی ایسے پروگرام منعقد کیے جائیں گے، تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک سیاسی شعور اور بیداری کا پیغام پہنچایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دیتے وقت اکثر سیاسی حساب کتاب کو پیش نظر رکھتی ہیں۔ بعض جماعتوں کے فیصلہ سازی کے عمل میں یہ اندیشہ دکھائی دیتا ہے کہ مسلم امیدوار کو امیدوار بنائے جانے سے غیر مسلم ووٹر ناراض ہو سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے مسلم سماج کو آبادی کے تناسب سے امیدواریاں اور سیاسی نمائندگی حاصل نہیں ہو پاتی۔ یہ صورتِ حال جمہوری نمائندگی کے اصول کے لیے تشویش ناک ہے۔سمینار میں شریک سیاسی و سماجی شخصیات نے بھی انتخابی حلقوں کی حد بندی اور سیاسی نمائندگی سے متعلق اپنے خیالات پیش کیے۔ شرکاء نے اس طرح کے سیمینار کو موجودہ دور میں اہم اور وقت کی ضرورت قرار دیا۔ اس پروگرام کو کامیاب بنانے کے لیے اقبال شیخ، انجم انعامدار، سفیان قریشی، زبیر میمن، منور قریشی، اقبال انصاری، مولانا جمیل قادری، ابراہیم ایوت محل والا سمیت دیگر کارکنان نے خصوصی محنت کی۔

مسلم سماج سےیہ اپیل کی گئی

اپنی سیاسی شرکت کو صرف انتخابات میں ووٹ ڈالنے تک محدود نہ رکھے بلکہ مقامی خود اختیاری اداروں، اسمبلی، لوک سبھا، راجیہ سبھا اور پالیسی سازی کے عمل میں بھی فعال کردار ادا کرے۔اس کے علاوہ مختلف سیاسی جماعتوں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ مسلم معاشرے سے تعلق رکھنے والے اہل، تعلیم یافتہ، سماجی وابستگی رکھنے والے اور عوام سے جڑے ہوئے کارکنوں کو مناسب مواقع فراہم کریں۔

سیکولرزم کا دعویٰ کرنے والی سیاسی جماعتوں کو بھی مسلم سماج کی سیاسی نمائندگی کے مسئلے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ صرف انتخابات کے دوران اقلیتی ووٹوں کو اہمیت دینا اور اسکے بعد امیدواروں کے انتخاب اور فیصلہ سازی کے عمل میں انہیں مناسب مقام نہ دینا جمہوری اعتبار سے ایک تضاد ہے۔اقلیتی معاشرہ کے ساتھ ناانصافی نہیں ہونی چاہیے۔ مسلم معاشرہ کو کسی رحم یا احسان کے طور پر نہیں بلکہ جمہوریت میں مساوی حق کے طور پر نمائندگی ملنی چاہیے۔
- عبدالرحمٰن،سابق آئی پی ایس افسر

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK