Updated: April 18, 2026, 6:02 PM IST
| Mumbai
کامیڈین سمئے رائنا کی ایک سال بعد واپسی نے نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ انہوں نے کشمیری پنڈتوں کی ہجرت کو ’’دانشمندی‘‘ قرار دیا۔ ان کے بیان نے سوشل میڈیا پر شدید بحث چھیڑ دی، جہاں کچھ لوگوں نے حمایت کی جبکہ ناقدین نے اسے تاریخ کی غلط تعبیر اور حساس مسئلے کو سادہ بنانے کی کوشش قرار دیا۔
سمئے رانا۔ تصویر: آئی این این
ہندوستانی کامیڈین سمئے رائنا کی طویل خاموشی کے بعد واپسی ایک نئے تنازع کے ساتھ سامنے آئی ہے، جہاں انہوں نے اپنی نئی مزاحیہ خصوصی ’’Still Alive‘‘ میں کشمیری پنڈتوں کی ہجرت پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے ’’دانشمندی‘‘ قرار دیا۔ اس بیان نے فوری طور پر سوشل میڈیا پر شدید ردعمل کو جنم دیا اور ایک بار پھر ۱۹۹۰ء کی دہائی میں ہونے والی ہجرت پر بحث کو زندہ کر دیا۔
سمئے رائنا، جو جموں میں کشمیری پنڈت خاندان میں پیدا ہوئے، نے اپنے ذاتی تجربے کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’’آپ صرف اس وقت لڑتے ہیں جب لڑائی منصفانہ ہو… کشمیر میں ہم پنڈت صرف ۵؍ فیصد تھے، اگر ہم ہتھیار اٹھاتے تو سب مر جاتے۔‘‘ ان کے اس بیان کو کچھ افراد نے ایک حقیقت پسندانہ نقطہ نظر کے طور پر دیکھا، جس میں بقا کو ترجیح دینے کو عقلمندی قرار دیا گیا۔ تاہم، اس مؤقف کو یکساں طور پر قبول نہیں کیا گیا۔ ناقدین نے کہا کہ اس طرح کے بیانات ایک پیچیدہ اور تکلیف دہ تاریخی واقعے کو حد سے زیادہ سادہ بنا دیتے ہیں۔ بعض سیاسی شخصیات اور مبصرین نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ آیا ’’منصفانہ لڑائی‘‘ جیسے تصورات ایسے حالات پر لاگو کیے جا سکتے ہیں جہاں ایک کمیونٹی کو اچانک نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا ہو۔
ایک سیاسی ترجمان موہت بھان نے سوشل میڈیا پر ردعمل ظاہر کیا کہ ’’تاریخ نے مظلوموں کو کبھی ’’منصفانہ لڑائی‘‘ نہیں دی‘‘، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ رائنا کے بیان کو بعض حلقوں میں غیر حساس یا نامکمل سمجھا جا رہا ہے۔ دوسری جانب، کچھ کشمیری پنڈت افراد نے رائنا کی حمایت بھی کی۔ ڈاکٹر سنیل بھٹ نے لکھا کہ ’’کئی دہائیوں تک ہم اپنی بات سمجھانے کی کوشش کرتے رہے، اور اب سمئے نے اسے بیان کیا ہے‘‘، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کمیونٹی کے اندر بھی اس موضوع پر مختلف آراء موجود ہیں۔
یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سمئے رائنا اپنے نئے اسپیشل شو کے ساتھ واپس آئے ہیں، ایک سال بعد جب ان کے یوٹیوب شو ’’India’s Got Latent‘‘ پر فحاشی کے الزامات کے باعث اسے پلیٹ فارم سے ہٹا دیا گیا تھا۔ ان کی واپسی کو پہلے ہی توجہ حاصل تھی، لیکن حالیہ بیان نے بحث کو مزید تیز کر دیا ہے۔ یہ واقعہ اس بات کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ مزاح اور سنجیدہ تاریخی موضوعات کے درمیان حد کہاں کھینچی جانی چاہیے، خاص طور پر جب بات ایسے واقعات کی ہو جو اب بھی جذباتی اور سیاسی طور پر حساس ہیں۔