فلم انڈسٹری میں اردو کا استعمال یقیناً پہلے کے مقابلے میں بہت کم ہو چکا ہے لیکن جب تک عشق، شاعری، درد، خواب اور جذبات انسانی زندگی کا حصہ رہیں گے تب تک بالی ووڈ، اردو سے مکمل طور پر بے نیاز نہیں ہو سکے گا۔
EPAPER
Updated: June 08, 2026, 3:19 PM IST | Mubasshir Akbar | Mumbai
فلم انڈسٹری میں اردو کا استعمال یقیناً پہلے کے مقابلے میں بہت کم ہو چکا ہے لیکن جب تک عشق، شاعری، درد، خواب اور جذبات انسانی زندگی کا حصہ رہیں گے تب تک بالی ووڈ، اردو سے مکمل طور پر بے نیاز نہیں ہو سکے گا۔
بالی ووڈ کی تاریخ پر اگر نظر ڈالی جائے تو یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ ہندوستانی سنیما کی بنیادوں میں اردو کی خوشبو رچی بسی ہوئی ہے۔ ایک زمانہ تھا جب فلموں کے مکالمے، نغمے، کہانیاں اور اسکرپٹ اردو کے بغیر نامکمل سمجھے جاتے تھے۔ فلمی دنیا کے سنہرے دور میں اردو صرف ایک زبان نہیں تھی بلکہ تہذیب، شائستگی، جذبات اور جمالیات کا استعارہ تھی۔ آج صورت حال خاصی بدل چکی ہے۔ اردو کا دائرہ محدود ہوا ہے، اس کے الفاظ کم سنائی دیتے ہیں اور اس کی ادبی لطافت تیزی سے پس منظر میں جا رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ بالی ووڈ میں اردو کا استعمال آخر کتنا کم ہوا ہے؟ اور جو کچھ باقی ہے، کیا اسے بھی غنیمت سمجھا جائے؟
ہندوستانی سنیما کے ابتدائی عشروں میں اردو کا غلبہ فطری تھا۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ فلمی صنعت سے وابستہ بیشتر افراد ادیب، شاعر اور مکالمہ نگار اردو پس منظر رکھتے تھے۔ فلمی دنیا میں ایسے ناموں کی ایک طویل فہرست موجود ہے جنہوں نے اردو زبان کو فلموں کے اظہار کا بنیادی وسیلہ بنایا۔ کیفی اعظمی، ساحر لدھیانوی، شکیل بدایونی، مجروح سلطانپوری، جاں نثار اختر، راجندر سنگھ بیدی، اختر الایمان، کرشن چندر، خواجہ احمد عباس اور بعد میں گلزار اور جاوید اختر جیسے فنکاروں نےاردو نغموں اور مکالموں کے ذریعے کروڑوں ناظرین کے دل جیتے۔ پچاس، ساٹھ اور ستر کی دہائی کی فلموں کو دیکھیں تو محسوس ہوتا ہے کہ اردو نہ صرف مکالموں بلکہ کرداروں کے مزاج میں بھی شامل تھی۔ ’’مغل اعظم‘‘، ’’پاکیزہ‘‘، ’’امراؤ جان‘‘، ’’چودھویں کا چاند‘‘ اور ’’مرزا غالب‘‘ جیسی فلمیں اردو کی تہذیبی عظمت کی نمائندہ مثالیں ہیں۔ ان کے علاوہ وہ فلمیں جن میں عدالتی مناظر ہوتے تھے جیسے’’ میرا سایہ‘‘، ’’وقت‘‘ اور دیگر فلموں کے مکالمے آج اردو کے بہترین استعمال کی مثال سمجھے جاتے ہیں ۔
یہ بھی پڑھئے: اَدب نہ تو خارجی اسباب و حالات سے ماورا ہے نہ مقصد و غایت سے بے نیاز
لیکن نوے کی دہائی کے بعد ہندوستانی معاشرے، میڈیا اور فلمی صنعت میں بڑی تبدیلیاں آئیں۔ معاشی لبرلائزیشن، سیٹیلائٹ ٹی وی، گلوبلائزیشن اور انگریزی کے بڑھتے ہوئے اثرات نے زبان کے ذوق کو بھی متاثر کیا۔ فلمی صنعت نے شہری متوسط طبقے اور بین الاقوامی ناظرین کو مدنظر رکھنا شروع کیا۔ نتیجتاً اردو کی جگہ ایک نئی ’’ہندی-انگریزی‘‘ یا ’ہنگلش‘ زبان نے لینا شروع کر دی۔ آج کے فلمی مکالموں پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ پہلے کی نسبت کہیں زیادہ سادہ اور انگریزی آمیز ہوگئے ہیں۔ ان میں وہ شعریت، وہ تہذیبی نزاکت اور وہ لفظی حسن کم کم دکھائی دیتا ہے جو کبھی بالی ووڈ کی پہچان تھا۔ موجودہ دور کی بیشتر فلموں کے کردار روزمرہ کی بول چال کی زبان استعمال کرتے ہیں جس میں اردو الفاظ کا تناسب ماضی کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہو چکا ہے۔
تاہم یہ کہنا بھی درست نہیں ہوگا کہ اردو مکمل طور پر غائب ہو گئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بالی ووڈ آج بھی اردو کے بغیر اپنا سفر جاری نہیں رکھ سکتا۔ محبت کے جذبات ہوں، درد و غم کی کیفیت ہو، رومانی اظہار ہو یا فلسفیانہ گفتگو، اردو کے بغیر یہ سب ادھورا محسوس ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی فلمی نغموں میں محبت، عشق، وفا، جدا، خواب، احساس، دل، آرزو، تنہائی اور فراق جیسے بے شمار الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جدید دور کے کئی کامیاب گیتوں کی مقبولیت کا راز بھی اردو ہی میں پوشیدہ ہے۔ جب کسی شاعر یا نغمہ نگار کو جذبات کی گہرائی بیان کرنی ہوتی ہے تو وہ لاشعوری طور پر اردو ہی کا سہارا لیتا ہے۔ اسے بہت سے لوگ ہندوستانی کہتے ہیں یا عام بول چال کی زبان قرار دیتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس زبان میں اردو کے ہی الفاظ کی بھرمار ہے۔ مثال کے طور پر فلم دھرندھر کے نغمے لے لیجئے۔ فلم کا گیت ’’نہ تو کارواں کی تلاش ہے ‘‘ کے بارے میں ہمارے قارئین کو معلوم ہو گا کہ یہ ماضی کی فلم برسات کی رات کا مشہور قوالی سے مستعار ہے جسے ساحر لدھیانوی نے تحریر کیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: محاسن ِکلامِ داغ دہلوی، زبان و محاورہ
فلمی مکالموں میں بھی بعض مواقع ایسے ہوتے ہیں جہاں اردو ناگزیر بن جاتی ہے۔ تاریخی فلمیں، عدالتی مناظر، عاشقانہ اظہار یا کسی باوقار کردار کی زبان اکثر اردو کے الفاظ کے بغیر مکمل نہیں ہوپاتی۔ اردو نے بالی ووڈ کو صرف الفاظ نہیں دئیےبلکہ ایک مخصوص آہنگ، شائستگی اور جمالیاتی حس بھی عطا کی۔ آج کی فلموں میں تیز رفتاری، شور اور فوری اثر پیدا کرنے کی خواہش نے مکالمے کی اس ادبی روایت کو خاصا نقصان پہنچایا ہے۔ اس کے باوجود امید کی کرن باقی ہے۔ اسٹریمنگ پلیٹ فارمز اور ویب سیریز کے دور میں زبانوں کے لئے نئے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔ کئی ہدایت کار اورمصنف دوبارہ ادبی اور تہذیبی زبان کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔ نئی نسل بھی مشاعروں، غزلوں اور کلاسیکی شاعری میں دلچسپی لے رہی ہے۔ بالی ووڈ میں اردو کا استعمال یقیناً پہلے کے مقابلے میں بہت کم ہو چکا ہے لیکن ابھی اس کی سانسیں باقی ہیں۔ شاید یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ اردو اب فلمی صنعت کی مرکزی زبان نہیں رہی مگر اس کا دل اب بھی اردو ہی میں دھڑکتا ہے۔ جب تک عشق، شاعری، درد، خواب اور جذبات انسانی زندگی کا حصہ رہیں گے تب تک بالی ووڈ، اردو سے مکمل طور پر بے نیاز نہیں ہو سکے گا۔