• Wed, 30 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اُروشی روتیلا کی تصاویر اور ویڈیوز کے استعمال پر تنازع،۷؍ہزار کروڑ ہرجانے کی تیاری

Updated: September 30, 2026, 10:19 PM IST | Mumbai

اداکارہ اُروشی روتیلا کی ٹیم نے لاس اینجلس میں قائم ایک اے آئی کمپنی پر اداکارہ کی شناخت اور ان سے متعلق مواد کو مبینہ طور پر بغیر اجازت استعمال کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ ٹیم کے مطابق کمپنی نے اُروشی روتیلا کے نام، تصاویر اور ویڈیوز کا استعمال کیا، جس کے خلاف اب قانونی کارروائی کا راستہ اختیار کیا جا رہا ہے۔

Urvashi Rautela.Photo:INN
اروشی روتیلا۔ تصویر:آئی این این

مصنوعی ذہانت (اے آئی) نے جہاں مواد تیار کرنے اور تفریحی صنعت میں کئی کام آسان بنا دیے ہیں، وہیں اس کے غلط اور بغیر اجازت استعمال کو لے کر بھی تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔ خاص طور پر معروف شخصیات کی تصاویر، ویڈیوز اور آواز کو ان کی اجازت کے بغیر استعمال کرنے کے معاملات اب قانونی اور عوامی بحث کا حصہ بن رہے ہیں۔ اسی سلسلے میں اداکارہ  اُروشی روتیلا  کی ٹیم نے لاس اینجلس میں قائم ایک اے آئی کمپنی پر اداکارہ کی شناخت اور ان سے متعلق مواد کو مبینہ طور پر بغیر اجازت استعمال کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ ٹیم کے مطابق کمپنی نے اُروشی روتیلا کے نام، تصاویر اور ویڈیوز کا استعمال کیا، جس کے خلاف اب قانونی کارروائی کا راستہ اختیار کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:شاہ رخ خان، اجے دیوگن اور ٹائیگر شروف نے ایف ڈی اے کو جواب دے دیا

اُروشی روتیلا کی ٹیم کی جانب سے دیے گئے ایک خصوصی بیان میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ کاروبار نے مبینہ طور پر اداکارہ کے نام، تصاویر اور ویڈیوز کو بغیر اجازت استعمال کرتے ہوئے اربوں ڈالر کی کاروباری قدر حاصل کی ہے۔ ٹیم کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں مناسب قانونی طریقہ اختیار کیا جا رہا ہے اور ممکنہ ہرجانے کی رقم کا تخمینہ ۷؍ہزار کروڑ روپے تک لگایا جا رہا ہے۔ تاہم، اب تک اس عوامی بیان میں متعلقہ لاس اینجلس کی اے آئی کمپنی کا نام ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔
ٹیم نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ کوئی بھی کمپنی اپنا اے آئی کاروبار یا برانڈ قائم کر سکتی ہے، لیکن کسی مشہور شخصیت کے نام اور شناخت کو کاروباری مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے قبل متعلقہ اجازت حاصل کرنا ضروری ہے۔ اُروشی روتیلا سے متعلق یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فلم اور تفریحی صنعت میں مصنوعی ذہانت سے تیار کیے جانے والے  جعلی ویڈیوز، آواز کی نقل، ڈیپ فیک مواد اور ڈجیٹل شناخت کے غیر مجاز استعمال  پر تشویش بڑھ رہی ہے۔
اے آئی ٹیکنالوجی کی مدد سے کسی شخص کی آواز، چہرے اور ویڈیو کو اس انداز میں تبدیل کیا جا سکتا ہے کہ دیکھنے یا سننے والے کو یہ حقیقی محسوس ہو، حالانکہ متعلقہ شخص نے حقیقت میں وہ بات نہ کہی ہو یا ایسا کوئی عمل نہ کیا ہو۔ اسی وجہ سے فنکاروں اور عوامی شخصیات کی شناخت کے تحفظ، اجازت اور ڈجیٹل حقوق سے متعلق سوالات اہم ہوتے جا رہے ہیں۔حال ہی میں اداکار  سلمان خان  نے بھی ’’بگ باس ۲۰‘‘ کی ایک قسط کے دوران اے آئی کے غلط استعمال پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے بتایا تھا کہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے کسی شخص کی آواز اور ویڈیو میں اس طرح تبدیلی کی جا سکتی ہے کہ ایسا محسوس ہو جیسے اس شخص نے واقعی کوئی بات کہی یا کوئی کام کیا ہے، جبکہ حقیقت میں ایسا نہ ہوا ہو۔

یہ بھی پڑھئے:طلائی تمغے کے مقابلے میں جگہ بنانے کے لیے روایتی حریف ہندوستان اور پاکستان آمنے سامنے

سلمان خان نے اے آئی سے تیار کیے جانے والے ویڈیوز اور آواز کی نقل کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ لوگوں کی آواز لے کر اسے تبدیل کرکے غلط یا توہین آمیز گفتگو سے جوڑا جا سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اے آئی سے تیار کیے گئے ویڈیوز میں خود ان کی شکل یا شناخت بھی استعمال کی گئی ہے۔ اداکار نے اے آئی کی تیزی سے بڑھتی صلاحیتوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے اسے ایک سنجیدہ معاملہ قرار دیا تھا۔ اُروشی روتیلا کی ٹیم کی جانب سے سامنے آنے والا معاملہ اسی وسیع تر بحث کا حصہ ہے، جس میں یہ سوال زیر بحث ہے کہ  مصنوعی ذہانت کے دور میں کسی فنکار کے نام، چہرے، آواز، تصاویر اور دیگر شناختی عناصر کو کاروباری مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے لیے کس نوعیت کی اجازت ضروری ہے اور خلاف ورزی کی صورت میں قانونی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK