داراسنگھ نےکشتی کےاکھاڑےکے ساتھ ۵۰؍سالہ فلمی کریئرمیں اداکاری کا بھی لوہا منوایا

Updated: July 12, 2021, 3:37 PM IST | Agency | Mumbai

دارا سنگھ کا شمار ہندوستانی  پہلوان اور ایک اداکار کے طور پر کیا جاتا ہے۔ ان کی پیدائش ۱۹؍ نومبر ۱۹۲۸ء کوپنجاب کے ایک جاٹ  سکھ کنبہ میں بلونت کور اور سورت سنگھ رندھاوا کےیہاں ہوئی تھی۔

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔تصویر :آئی این این

دارا سنگھ کا شمار ہندوستانی  پہلوان اور ایک اداکار کے طور پر کیا جاتا ہے۔ ان کی پیدائش ۱۹؍ نومبر ۱۹۲۸ء کوپنجاب کے ایک جاٹ  سکھ کنبہ میں بلونت کور اور سورت سنگھ رندھاوا کےیہاں ہوئی تھی۔ اپنے لمبے قد و قامت کی وجہ سے اُن کو بچپن سے ہی پہلوانی کا شوق تھا۔ بچپن میں وہ اپنے آبائی کھیتوں میں کام کرتے تھے۔ اُنہوں نے۱۹۶۶ءمیں رستم پنجاب اور۱۹۷۸ءمیں رستم ہند کا خطاب حاصل کیا۔
 دارا سنگھ نےہندوستانی طرز کی پہلوانی کی باقاعدہ تربیت لی جو ریت کے اکھاڑے میں لڑی جاتی ہے۔ دارا سنگھ ہندوستان کےکشتی کے ٹورنامنٹوں کی بڑی مقبول شخصیت تھے۔ وہ ہندوستان کی نوابی ریاستوں کی دعوت پر بھی وہاں جایا کرتے تھے۔ وہ ہاٹ میلوں میں کشتی لڑتے تھے۔ انہوں نے کئی عظیم پہلوانوں کو مات دی اور امریکہ میں کئی پیشہ ور پہلوانوں کو ہرایا۔
 داراسنگھ ۱۹۴۷ءمیں سنگاپور چلے گئے تھے اور کوالالمپور  میں ترلوک سنگھ کو ہراکرملیشیا میں چیمپئن بن گئے تھے۔ انہوں نے پیشہ ور پہلوان کے بطور مشرق بعید کے تقریباً تمام ممالک کا دورہ کیا۔داراسنگھ نے لوتھیز اور ہسٹانلسا زیباسکو جیسے بین اقوامی پہلوانوں سے مقابلہ کیا ۔ انہوں نے ۵۰۰؍سے زیاہ پیشہ ورانہ کشتیاں لڑیں .۔
درا سنگھ  نے ۱۹۵۲ءمیں پیشہ ورانہ انڈین ریسلنگ چمپئن شپ جیتی اور۱۹۵۹ءمیں کناڈا کے چمپئن جارج نگوڈنوکر کوہراکر دولت مشترکہ چمپئن ٹرافی جیتی۔انہوں نے۱۹۸۳ءمیں سرگرم کشتی سے ریٹائرمنٹ لے لیا اور ۱۹۸۹ءمیں اپنی خودنوشت سوانح میری آتم کتھا پنجابی میں شائع کی۔ ۷؍ سال بعد انہیں نیوزی  لینڈ کے ہال آف فیم میں شامل کیا گیا۔
 ان کے آخری ٹورنامنٹ کا افتتاح وزیراعظم راجیو گاندھی نے کیا تھا جس میں انہوں نے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا۔انہیں جیت کا تحفہ اس وقت کے صدر گیانی ذیل سنگھ نے دیا تھا۔
 دارا سنگھ کےفلمی کریر کا آغاز۱۹۵۲ءمیں ریلیز ہونے والی فلم سنگدل سے ہوا تھا۔ انہوں نے کئی ہندی فلمیں بنائیں جن کے ہیرو وہ خود ہوا کرتے تھے۔
 مجموعی طور پر اُنہوں نے۱۲۱؍ہندی اور۲۱؍ پنجابی فلموں میں کام کیا۔ وہ ایک تیلگو اور ایک ملیالم فلم میں مہمان اداکارکے طور پر بھی نظرآئے ۔ اُنہوں نے اداکارہ ممتاز کے ساتھ بہت کامیاب فلمی جوڑی بنائی جس نے ۱۶؍ فلموں میں ایک ساتھ کام کیا ان میں سے ۱۰؍فلمیں بہت کامیاب ہوئیں۔اس کے بعد یکے بعد دیگر کئی فلمیں آئیں جیسے کنگ کانگ، فولاد، رستم بغداد  جس سے انہیں بالی ووڈ کے ایکشن کنگ کا خطاب مل گیا۔ وہ اس زمانے کی بی زمرے کی ایکشن فلموں کے ہیرو تھے ۔ دارا سنگھ نے ہی فلموں میںاپنی شرٹ اتارنے کا چلن شروع کیا تھا۔ دارا سنگھ کا فلمی سفر ۵۰؍ سال سے زیادہ عرصہ پر محیط ہے۔ ان کی فلموں میں آنند اور میرا نام جوکرجیسی کلاسیکل فلمیں بھی شامل تھیں۔ دارا سنگھ کے۶؍ بچوں میں ۳؍بیٹے اور۳؍ بیٹیاں شامل ہیں۔
 ۱۹۸۰ءاور ۱۹۹۰ءکی دہائی میں وہ ٹیلی ویژن سے جڑگئے اور انہوں نے رامائن ٹی وی سیریل میں ہنومان کا یادگار رول ادا کیا۔لوگوں نےانہیںاس قدرپسند کیا کہ بی آر چوپڑہ نے انہیں مہابھارت میں بھی یہی رول دیا۔ انہوں نے کئی دیگرٹی وی سیریل میں بھی کام کیاجن میں حد کردی بھی شامل ہے۔ ان کی آخری ہندی فلم جب وی میٹ اور آخری پنجابی فلم  دل اپنا پنجابی تھی۔ داراسنگھ موہالی (چندی گڑھ) میں مشہور داراسنگھ اسٹوڈیو کےمالک بھی تھےجسے  ۱۹۷۸ءمیں قائم کیا گیا تھا۔وہ اگست ۲۰۰۳ء سے اگست ۲۰۰۹ء تک راجیہ سبھا کے نامزد ممبر رہے۔ دارا سنگھ کا انتقال ۱۲؍ جولائی۲۰۱۲ءکوہوا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK