فرح خان نے انکشاف کیا کہ فلم ’میں ہوں نا‘ میں شریا گھوشال کو گانے کا موقع دینے پر فلم انڈسٹری کے کئی لوگوں نے ان کے فیصلے پر سوال اٹھائے تھے، تاہم موسیقار انو ملک نے نوجوان گلوکارہ کی صلاحیتوں پر بھروسا ظاہر کیا تھا۔
EPAPER
Updated: November 07, 2026, 6:05 PM IST | Mumbai
فرح خان نے انکشاف کیا کہ فلم ’میں ہوں نا‘ میں شریا گھوشال کو گانے کا موقع دینے پر فلم انڈسٹری کے کئی لوگوں نے ان کے فیصلے پر سوال اٹھائے تھے، تاہم موسیقار انو ملک نے نوجوان گلوکارہ کی صلاحیتوں پر بھروسا ظاہر کیا تھا۔
ہدایتکار فرح خان نے حال ہی میں ممبئی میں گلوکارہ شریا گھوشال کے گھر کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے اپنے یوٹیوب وی لاگ کیلئے شریا سے ملاقات کی اور دونوں نے فلم ’میں ہوں نا‘ میں اپنی پہلی مشترکہ پیش رفت کی یادیں تازہ کیں۔ اس گفتگو کے دوران فرح خان نے انکشاف کیا کہ فلم انڈسٹری کے کئی لوگوں نے انہیں شریا کے ساتھ کام کرنے سے منع کیا تھا اور ان کی گلوکاری کی صلاحیتوں پر سوال اٹھائے تھے۔ تاہم فرح خان اور موسیقار انو ملک کو شریا کی صلاحیتوں پر پورا بھروسا تھا۔ اپنی گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے فرح خان نے کہا، ’’میں آپ لوگوں کو ایک بات بتانا چاہتی ہوں۔‘‘ اس کے بعد انہوں نے شریا کو اپنے قریب بلایا اور پوچھا کہ جب وہ فلم ’میں ہوں نا‘ کیلئے گانا ریکارڈ کروانے آئی تھیں تو ان کی عمر کتنی تھی؟ شریا نے بتایا کہ انہوں نے ۲۰۰۳ء میں اس فلم کے گانے ریکارڈ کروائے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: سلمان خان کی ’ماتربھومی‘ اور شردھا کپور کی ’ایٹھا‘ ۴ ؍ دسمبر کو آمنے سامنےا
فرح خان نے کہا، ’’وہ اس وقت بالکل نئی اور کم عمر گلوکارہ تھیں۔ میں ایک نئی آواز چاہتی تھی۔‘‘ فرح نے فلم ’دیوداس‘ کی ریلیز کے بعد شریا گھوشال سے رابطہ کیا تھا۔ فلم ’میں ہوں نا‘ کی شوٹنگ کے دنوں کو یاد کرتے ہوئے شریا نے بتایا، ’’میں نے پہلی مرتبہ دیکھا کہ فلم کے سیٹ پر کھانے پینے کی اتنی ساری چیزیں رکھی ہوتی ہیں۔ میں نے سوچا کہ یہ تو کافی اچھا ہے۔‘‘ فرح خان نے بتایا کہ شریا کی گلوکاری نے انہیں اس قدر متاثر کیا تھا کہ انہوں نے انہیں ایک تحفہ بھی دیا تھا۔ تاہم انہوں نے شریا کو فلم میں شامل کرنے کا حوصلہ دینے کا سہرا انو ملک کو دیا۔ فرح نے ان کے الفاظ یاد کرتے ہوئے کہا، ’’انو ملک نے مجھ سے کہا تھا کہ اس لڑکی کو لے لو، یہ بہت اچھی گلوکارہ ہے۔‘‘
فرح خان نے اعتراف کیا کہ ابتدا میں انہیں کچھ خدشات تھے، کیونکہ فلم کا گانا ’تم سے جو میں نے دیکھا‘ ایک رومانوی اور قدرے بولڈ انداز کا گانا تھا، جب کہ اس وقت شریا کی عمر محض ۱۷ سے ۱۸؍ برس تھی۔ فرح نے کہا، ’’میں سوچ رہی تھی کہ وہ یہ گانا کیسے گائیں گی، کیونکہ یہ گانا زیادہ تر سنیدھی چوہان کے انداز کا تھا، لیکن آپ نے اسے بہت خوبصورتی سے گایا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: شاہ رخ خان بیٹی سہانا خان کی یادداشت سے حیران ہوگئے
انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ فلم انڈسٹری کے کئی لوگوں نے فون کرکے شریا کو فلم میں لینے کے فیصلے پر سوال اٹھائے تھے۔ فرح کے بقول، ’’مجھے بہت سے لوگوں کے فون آئے، جنہوں نے آپ کو فلم میں لینے کی مخالفت کی۔ وہ کہتے تھے کہ اتنی بڑی فلم بنا رہی ہو تو کسی نئی لڑکی کو کیوں لے رہی ہو؟ لیکن میرا جواب تھا کہ نہیں، میں اس فلم کیلئے ایک نئی آواز چاہتی ہوں۔‘‘ اس پر شریا نے کہا کہ شاید لوگوں کو اس لئے بھی شبہ تھا کہ فلم ’دیوداس‘ میں ان کے گانے کلاسیکی موسیقی سے کافی متاثر تھے۔ انہوں نے فرح سے کہا، ’’اس وقت آپ کا مجھے منتخب کرنا واقعی ہمت کی بات تھی۔‘‘ فرح خان نے جواب میں فلم ساز سنجے لیلا بھنسالی کو شریا کی پہلی بڑی کامیابی کا کریڈٹ دیا۔ انہوں نے کہا، ’’انہوں نے آپ کو ’سا رے گا ما پا‘ سے منتخب کیا اور فلم میں گانے کا موقع دیا۔‘‘
اس کے بعد فرح خان نے شریا سے ان کے ابتدائی دنوں کے بارے میں پوچھا اور جاننا چاہا کہ جب انہوں نے پہلی مرتبہ گلوکاری کے ریالٹی شو ’سا رے گا ما پا‘ میں حصہ لیا تھا تو ان کی عمر کتنی تھی؟ شریا نے جواب دیا، ’’جب میں پہلی مرتبہ آئی تھی تو میری عمر ۹؍ سال تھی، اس کے بعد بھی میں کئی مرتبہ اس شو میں آئی۔‘‘ گلوکارہ نے یہ بھی بتایا کہ ابتدا میں انہیں خود اپنی صلاحیتوں اور مستقبل کے بارے میں کوئی خاص اندازہ نہیں تھا۔ ان کے آس پاس موجود لوگوں کو یقین تھا کہ وہ ایک دن کامیاب گلوکارہ بنیں گی۔
یہ بھی پڑھئے: جوہی چاؤلہ ’’روپ سہانا لگتاہے ‘‘ کے سبب سرخیوں میں ہیں
مغربی بنگال میں پیدا ہونے والی شریا اپنے اہل خانہ کے ساتھ راجستھان منتقل ہوگئی تھیں۔ وہاں ایک موسیقی کے استاد سے اچانک ملاقات نے ان کی زندگی کا رخ بدل دیا۔ اپنے بچپن کے دنوں کو یاد کرتے ہوئے شریا نے راجستھان کے علاقے راوت بھاٹا کے بارے میں بتایا، ’’یہ بہت غیرمعمولی بات تھی کہ کوئی موسیقی کا استاد ہمارے اسکول آتا، کیونکہ راوت بھاٹا ایک ٹاؤن شپ تھا جو دریائے چمبل کے کنارے واقع ہے۔‘‘ انہوں نے مذاقاً کہا، ’’پھولن دیوی کے بعد اب میری باری تھی۔‘‘ تقریباً ۲۵؍ برس پر محیط اپنے کریئر میں شریا گھوشال ہندوستان کی مقبول ترین پلے بیک گلوکاراؤں میں شامل ہوگئی ہیں۔ انہیں اب تک ۵؍ نیشنل فلم ایوارڈز سے نوازا جا چکا ہے۔
شریا کو پہلی مرتبہ ۱۹۹۶ء میں کے ریالٹی شو ’سا رے گا ما پا‘ کے بچوں کے خصوصی ایپی سوڈ میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد شہرت ملی تھی۔ اس کے بعد ۲۰۰۲ء میں انہوں نے سنجے لیلا بھنسالی کی فلم ’دیوداس‘ سے پلے بیک گلوکاری کی دنیا میں قدم رکھا۔ اس وقت ان کی عمر محض ۱۸؍ برس تھی۔ اس فلم میں شاندار گلوکاری پر انہیں اپنا پہلا نیشنل فلم ایوارڈ بھی ملا تھا۔