Updated: July 10, 2026, 4:04 PM IST
| Mumbai
بالی ووڈ اداکار سیف علی خان نے اپنی حالیہ فلموں ’’دیورا‘‘ اور ’’کرتویہ‘‘ کے بارے میں کھل کر بات کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ دونوں فلمیں اپنی مکمل صلاحیت کا مظاہرہ نہیں کر سکیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فلم سازی کے دوران بعض تخلیقی فیصلے مختلف ہوتے تو نتائج بہتر ہو سکتے تھے۔ سیف نے یہ بھی کہا کہ اب وہ اپنے کریئر کے اس مرحلے پر صرف مصروف رہنے کے بجائے ایسی فلمیں کرنا چاہتے ہیں جو بطور اداکار انہیں چیلنج کریں اور دیرپا اثر چھوڑیں۔
بالی ووڈ اداکار سیف علی خان نے اعتراف کیا ہے کہ ان کی حالیہ فلمیں ’’دیورا‘‘ اور ’’کرتویہ‘‘ اپنی اصل صلاحیت کے مطابق کامیاب ثابت نہیں ہو سکیں اور اگر فلم سازی کے دوران بعض تخلیقی فیصلے مختلف کیے جاتے تو نتائج کہیں زیادہ مؤثر ہو سکتے تھے۔ اگرچہ سیف علی خان کی باکس آفس کارکردگی گزشتہ چند برسوں میں اتار چڑھاؤ کا شکار رہی ہے، لیکن بطور اداکار ان کی کارکردگی کو ناقدین کی جانب سے مسلسل سراہا جاتا رہا ہے۔ تاہم ان کی حالیہ فلمیں، جن میں ’’کرتویہ‘‘ اور ’’جیول تھیف‘‘ شامل ہیں، ناظرین کی جانب سے ملے جلے ردعمل کا شکار رہیں۔ ہالی ووڈ رپورٹر انڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سیف علی خان نے کہا کہ وہ خود کو خوش قسمت سمجھتے ہیں کہ انہیں ‘اومکارا’ اور ’’کرتویہ‘‘ جیسی فلموں میں کام کرنے کا موقع ملا۔
یہ بھی پڑھئے: نغمہ نگار سے ناراض ہوکر پیدا ہونے والے خیال کوہدایتکار نے فلم کا گیت بنادیا
انہوں نے کہا کہ ’’میں خود کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ مجھے ’’اومکارہ‘‘ اور ’’کرتویہ‘‘ جیسی فلموں کا حصہ بننے کا موقع ملا۔ کم از کم کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ مجھ میں اس سے بھی زیادہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے، اسی لیے وہ مجھے ایسے کردار دیتے ہیں۔‘‘ سیف علی خان نے کہا کہ اب وہ اپنے کریئر کے ایسے مرحلے پر پہنچ چکے ہیں جہاں صرف مسلسل کام کرتے رہنا ان کی ترجیح نہیں بلکہ وہ ایسے پروجیکٹس کا انتخاب کرنا چاہتے ہیں جو بطور اداکار انہیں مزید آگے لے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’مجھے لگتا ہے کہ اب مجھے اسی طرح کی مزید فلمیں کرنی چاہئیں۔ میں اپنے کریئر کے اس مرحلے پر خود کو مزید چیلنج کرنا چاہتا ہوں۔ جب آپ پچھلے دو سالوں پر نظر ڈالتے ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ آپ کام کر رہے ہیں، آپ کو معاوضہ مل رہا ہے، یہ اچھی بات ہے، لیکن آخرکار آپ خود سے پوچھتے ہیں کہ وہ فلم کہاں ہے جو واقعی اہمیت رکھتی ہو؟‘‘
یہ بھی پڑھئے: عمران ہاشمی یا سنی دیول نہیں، اس بار باکس آفس پر شبانہ اعظمی کی حکمرانی ہوگی
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ’’دیورا‘‘ میں کام کرنے کے لیے انہوں نے ابتدا میں سوچا تھا کہ صرف دو ماہ درکار ہوں گے، لیکن فلم کی شوٹنگ تقریباً ایک سال تک جاری رہی۔ سیف نے کہا کہ ’’میں نے سوچا تھا کہ ’’دیورا‘‘ دو مہینے میں مکمل ہو جائے گی کیونکہ کردار اور کہانی دلچسپ لگ رہی تھی، لیکن اس میں تقریباً ایک سال لگ گیا۔ ہاں، معاوضہ ملا اور ذمہ داریاں پوری ہو گئیں، لیکن پھر سوال یہی پیدا ہوتا ہے کہ وہ فلم کہاں ہے جو واقعی یاد رہ جائے؟‘‘
’’کرتویہ‘‘ کے اختتام پر افسوس
سیف علی خان نے خاص طور پر ’’کرتویہ‘‘ کے بارے میں بات کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ فلم تین سال پہلے ہی مکمل ہو چکی تھی، لیکن اس کی ریلیز میں تاخیر ہوئی، جس کا اثر بھی فلم پر پڑا۔ انہوں نے کہا کہ ’’کرتویہ‘‘ خوش قسمت رہی کہ ریڈ چلیز نے اسے نیٹ فلکس پر ریلیز کیا، کیونکہ یہ دراصل تین سال پہلے مکمل ہو چکی تھی۔ اگر اس وقت ریلیز ہوتی تو شاید زیادہ تازہ محسوس ہوتی۔‘‘ سیف نے یہ بھی بتایا کہ فلم کے اختتام پر تخلیقی سطح پر کافی گفتگو ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم سب کا خیال تھا کہ فلم کے اصل ویلن کو اس کے انجام تک پہنچنا چاہیے تھا اور اسے قانون کے حوالے کیا جانا چاہیے تھا۔ میں نے اس بارے میں لکھا بھی تھا، لیکن کسی وجہ سے وہ تبدیلی نہیں ہو سکی۔ اگر ہم تھوڑا اور اصرار کرتے تو شاید ایسا ہو جاتا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: کیا اللو ارجن کی ’’راکا‘‘ میں سری لیلا بھی نظر آئیں گی؟
’’مجھے تبدیلی پر زور دینا چاہیے تھا‘‘
اداکار نے اعتراف کیا کہ آج پیچھے مڑ کر دیکھتے ہوئے انہیں محسوس ہوتا ہے کہ انہیں اس تبدیلی پر زیادہ زور دینا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’’بعد میں تقریباً ہر دوست اور خیرخواہ نے یہی کہا کہ فلم اچھی تھی، لیکن اصل ویلن کو سزا ملنی چاہیے تھی۔ شاید یہی ہدایت کار پلکت کا نقطۂ نظر تھا کہ حقیقت میں ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا، لیکن اب محسوس ہوتا ہے کہ شاید ہمیں اختتام مختلف رکھنا چاہیے تھا۔‘‘ واضح رہے کہ ’’کرتویہ‘‘ میں سوربھ دویدی نے مرکزی منفی کردار ادا کیا تھا۔ فلم کے اختتام میں سیف علی خان کا کردار اپنے والد کو قتل کرتا ہے تاکہ وہ اپنے دوسرے بیٹے اور بہو کے قتل کا بدلہ لے سکے، تاہم اصل سازش کرنے والا ویلن قانون کی گرفت میں نہیں آتا، جس پر ناظرین نے بھی سوالات اٹھائے تھے۔ سیف علی خان کے حالیہ بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ وہ آئندہ برسوں میں ایسے اسکرپٹس اور کرداروں کا انتخاب کرنا چاہتے ہیں جو نہ صرف تجارتی اعتبار سے بلکہ تخلیقی اور فنی لحاظ سے بھی زیادہ مضبوط اور یادگار ہوں۔