Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ اور ایران میں کشیدگی برقرار، فوجی دباؤ کے ساتھ سفارتی رابطے بھی جاری

Updated: July 10, 2026, 6:32 PM IST | Tehran

امریکی حملوں کے بعد ایران کی جوابی کارروائیوں کے دعوے، ٹرمپ اور نیتن یاہو میں مشاورت، اٹلی کا جنگ میں شامل ہونے سے انکار، آبنائے ہرمز اور عالمی تیل منڈی پر نظریں، آئندہ ۴۸؍ گھنٹے اہم ہیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

امریکہ، ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی گزشتہ ۱۶؍  گھنٹوں کے دوران مزید شدت اختیار کرگئی، تاہم اس کے ساتھ ہی سفارتی رابطوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ امریکی حکام نے ایران میں نئی فوجی کارروائیوں کی تصدیق کی ہے جبکہ تہران نے خلیجی خطے میں امریکی فوجی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔ دوسری جانب امریکی حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند گھنٹوں میں کوئی نیا حملہ نہیں کیا گیا اور ایران کے ساتھ تکنیکی سطح پر رابطے جاری ہیں۔ ان تمام پیش رفتوں کے درمیان اسرائیل نے اپنی فوجی تیاری برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے جبکہ اٹلی نے واضح کردیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف کسی فوجی کارروائی میں حصہ نہیں لے گا۔ خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز، عالمی توانائی کی سپلائی اور تیل کی قیمتوں پر بھی عالمی برادری کی گہری نظر ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ہم سے غلطی ہوئی، اسرائیل پر مزید دباؤ ڈالیں گے: غزہ پر لیبر کے مؤقف پر اینڈی برنہم کی معذرت

امریکی کارروائیاں، کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل
امریکی حکام کے مطابق حالیہ کشیدگی کے بعد ایران میں فوجی نوعیت کے متعدد اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائیاں خطے میں امریکی مفادات اور بحری تجارت کے تحفظ کے لیے کی گئیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی ان عسکری صلاحیتوں کو محدود کرنا تھا جنہیں امریکہ علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتا ہے۔ دوسری جانب ایرانی حکام نے ان کارروائیوں کو بین الاقوامی قوانین اور ملکی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

ایران کا دعویٰ، خلیجی ممالک میں امریکی اہداف پر حملے
امریکی حملوں کے بعد ایران نے دعویٰ کیا کہ اس نے قطر، بحرین، کویت اور اردن میں امریکی فوجی اہداف کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائیاں امریکی حملوں کا جواب تھیں۔ امریکی حکام نے خطے میں جاری فوجی سرگرمیوں کی تصدیق کی ہے، تاہم ایران کے تمام دعووں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔ عسکری مبصرین کے مطابق موجودہ صورتحال میں دونوں جانب سے سامنے آنے والے بیانات کا آزادانہ جائزہ لینا ضروری ہے کیونکہ جنگی حالات میں معلومات کا بہاؤ محدود رہتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ کا دوبارہ حملہ ، چابہار میں بجلی نظام متاثر، ایران نےخلیج میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا

چند گھنٹوں سے کوئی نیا امریکی حملہ نہیں
امریکی حکام نے بتایا کہ گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران ایران پر کوئی نئی فوجی کارروائی نہیں کی گئی۔ ان کے مطابق اس دوران دونوں ممالک کے درمیان تکنیکی سطح پر رابطے بھی جاری رہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شدید کشیدگی کے باوجود سفارتی ذرائع مکمل طور پر بند نہیں ہوئے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے رابطے مستقبل میں کسی محدود جنگ بندی یا کشیدگی میں کمی کی بنیاد بن سکتے ہیں، تاہم زمینی صورتحال اب بھی انتہائی غیر یقینی ہے۔

ٹرمپ اور نیتن یاہو میں تازہ مشاورت
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو سے ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا۔ ذرائع کے مطابق دونوں لیڈروں نے ایران کی سرگرمیوں، امریکی فوجی اقدامات، اسرائیل کی سلامتی اور آئندہ حکمت عملی پر تفصیلی بات چیت کی۔ واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان مسلسل رابطے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دونوں ممالک موجودہ بحران کے دوران ایک دوسرے سے قریبی مشاورت جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اسرائیل ہائی الرٹ پر
اسرائیلی حکام نے واضح کیا ہے کہ اگر ایران یا اس کے حمایت یافتہ گروپوں کی جانب سے مزید حملے کیے گئے تو اسرائیل بھرپور جواب دے گا۔ اسرائیلی فوج نے فضائی دفاعی نظام کو مکمل طور پر فعال رکھتے ہوئے مختلف حساس مقامات پر نگرانی مزید سخت کردی ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیل اس وقت دفاعی تیاریوں کے ساتھ ساتھ سفارتی رابطوں کو بھی اہمیت دے رہا ہے تاکہ بحران مزید وسیع نہ ہو۔

اٹلی کا دوٹوک اعلان
انقرہ میں نیٹو اجلاس کے موقع پر اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے واضح کیا کہ ان کا ملک ایران کے خلاف کسی فوجی کارروائی میں شریک نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اٹلی کا مؤقف تنازع کے آغاز سے تبدیل نہیں ہوا اور وہ سفارتی حل کی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ اٹلی پہلے بھی اس بحران میں براہ راست عسکری کردار سے گریز کرتا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایران: سابق سپریم لیڈر شہید علی خامنہ ای کی تدفین میں بے مثال مجمع

عباس عراقچی کا سخت پیغام
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ایران دھمکیوں کا جواب ’’الفاظ سے نہیں بلکہ عمل سے‘‘ دیتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تہران اپنے قومی مفادات اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک ایک دوسرے پر کشیدگی بڑھانے کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔

ضرغامی کا دعویٰ
ایران کے سابق وزیر اور سابق سربراہ سرکاری نشریاتی ادارہ عزت اللہ ضرغامی نے دعویٰ کیا کہ نیٹو اجلاس کے دوران امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ایران کی ’’پہنچ میں‘‘ تھے، تاہم پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات خراب نہ کرنے کی خاطر انہیں نشانہ نہیں بنایا گیا۔ انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ ترکی میں موجودگی کے دوران ایران پر حملوں کے احکامات جاری کیے گئے۔ تاہم ان دعووں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی ہے اور نہ ہی امریکہ یا ترکی نے ان کی توثیق کی ہے۔

خطے کے ممالک کی تشویش
قطر، عمان، ترکی، پاکستان اور دیگر علاقائی ممالک نے بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے تمام فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق کئی ممالک پس پردہ رابطوں کے ذریعے حالات معمول پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

آبنائے ہرمز پر دنیا کی نظریں
ماہرین کے مطابق موجودہ بحران کا سب سے حساس پہلو آبنائے ہرمز ہے جہاں سے عالمی خام تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اگر اس آبی گزرگاہ میں کشیدگی مزید بڑھی تو عالمی تجارت، بحری نقل و حمل اور توانائی کی سپلائی براہ راست متاثر ہوسکتی ہے۔ اسی خدشے کے باعث عالمی طاقتیں فوجی صورتحال کے ساتھ ساتھ سفارتی پیش رفت پر بھی مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ۵ء۶ لاکھ افراد نے فیفا سے ۲۰۳۰ء تک کوکاکولا کی اسپانسرشپ ختم کرنے کا مطالبہ کیا، پٹیشن پر دستخط کئے

تیل کی قیمتیں
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے کے بعد عالمی تیل منڈی میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ سرمایہ کار اس خدشے کا جائزہ لے رہے ہیں کہ اگر آبنائے ہرمز متاثر ہوئی تو خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق توانائی کی سپلائی میں کسی بھی رکاوٹ کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت بھی اس سے متاثر ہوسکتی ہے۔

آئندہ ۴۸؍ گھنٹے اہم
سفارتی اور عسکری تجزیہ کاروں کے مطابق آئندہ ۲۴؍ سے ۴۸؍  گھنٹے اس بحران کی سمت کا تعین کریں گے۔ اگر فوجی کارروائیاں جاری رہیں تو کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے، جبکہ جاری سفارتی رابطے کسی نئی مفاہمت یا محدود جنگ بندی کی راہ بھی ہموار کرسکتے ہیں۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK