Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’دھرندھر: دی ریوینج‘‘ کا پہلے دن ۱۰۰؍ کروڑ کا کاروبار، تنازع بھی ساتھ

Updated: March 21, 2026, 5:10 PM IST | Mumbai

رنویر سنگھ کی فلم نے باکس آفس پر دھماکہ کیا مگر ساتھ ہی اسے ’’پروپیگنڈا‘‘ کہہ کر سوشل میڈیا پر شدید بحث بھی چھڑ گئی۔

Poster of Dhurandhar. Photo: INN
دھرندھر کا پوسٹر۔ تصویر: آئی این این

بالی ووڈ اسٹار رنویر سنگھ کی فلم ’’دھرندھر: دی ریوینج‘‘ نے ریلیز کے پہلے ہی دن ہندوستانی باکس آفس پر غیر معمولی کامیابی حاصل کرتے ہوئے ۱۰۰؍ کروڑ کا ہندسہ عبور کر لیا ہے۔ فلم کی زبردست اوپننگ اور ملک بھر میں بڑھتی ہوئی مانگ نے اسے ابتدائی ہفتے میں ہی ۵۰۰؍ کروڑ کے قریب پہنچنے والی فلموں کی صف میں کھڑا کر دیا ہے، جسے انڈسٹری ماہرین ایک ’’باکس آفس سونامی‘‘ قرار دے رہے ہیں۔ ریلیز کے فوراً بعد، فلم کو شائقین کی جانب سے بھرپور پذیرائی ملی ہے، خاص طور پر اس کی ایکشن، اسکیل اور جذباتی بیانیہ کو سراہا جا رہا ہے۔ سنیما گھروں میں ہاؤس فل شوز، رات گئے اسکریننگز اور ایڈوانس بکنگ کے ریکارڈز اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ فلم نے عوامی سطح پر زبردست گرفت قائم کر لی ہے۔ کئی شہروں میں فلم کو ۲۴؍ گھنٹے کے قریب چلایا جا رہا ہے تاکہ بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کیا جا سکے۔

تاہم، اس بڑی کامیابی کے ساتھ ایک متوازی تنازع بھی جنم لے چکا ہے۔ سوشل میڈیا پر ناظرین کے ایک حصے نے فلم کو ’’پروپیگنڈا‘‘ قرار دیا ہے، جس کے بعد آن لائن مباحثے نے شدت اختیار کر لی ہے۔ اس بحث کو مزید تقویت ملی جب ملیالم فلم بھیشما پروم کے مصنف دیوداتھ شاجی نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری میں ایک مبہم تبصرہ شیئر کیا، جسے بہت سے لوگوں نے اسی فلم پر تنقید کے طور پر دیکھا۔ انہوں نے لکھا کہ اگر کوئی فلم اعلیٰ تکنیکی معیار کو غلط نظریات کو درست ثابت کرنے کے لیے استعمال کرے تو یہ مہارت خود ایک تشویش بن جاتی ہے۔ اس بیان کے بعد سوشل میڈیا صارفین دو واضح گروپوں میں تقسیم ہو گئے، جہاں ایک جانب کچھ لوگوں نے فلم کی حمایت کرتے ہوئے اسے ’’حقیقت کی عکاسی‘‘ قرار دیا، وہیں دوسرے صارفین نے اسے جانبدار اور نظریاتی بیانیہ قرار دیا۔

کچھ صارفین نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ فلم کو پروپیگنڈا کہنا محض ایک ردعمل ہے کیونکہ یہ کچھ لوگوں کے لیے ’’تلخ سچائی‘‘ پیش کرتی ہے، جبکہ دیگر نے اس تنقید کو خود متنازع قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسی بحثیں اب فلمی بیانیے کا حصہ بنتی جا رہی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تنازع کے باوجود فلم کی کمائی پر کوئی منفی اثر نظر نہیں آ رہا۔ تجارتی لحاظ سے یہ فلم نہ صرف مضبوطی سے آگے بڑھ رہی ہے بلکہ اس کی مقبولیت اور بحث دونوں ایک ساتھ اسے خبروں میں رکھے ہوئے ہیں۔

انڈسٹری ماہرین کے مطابق، اگر یہی رفتار برقرار رہی تو یہ فلم آنے والے دنوں میں کئی بڑے ریکارڈ توڑ سکتی ہے اور سال کی سب سے بڑی ہٹ فلموں میں شامل ہو سکتی ہے۔ یوں ’’دھرندھر: دی ریوینج‘‘ ایک ایسی فلم بن کر ابھری ہے جو نہ صرف باکس آفس پر راج کر رہی ہے بلکہ اپنے مواد اور پیغام کے باعث ایک بڑی سماجی و ثقافتی بحث کو بھی جنم دے رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK